’شکریہ اُن سب کا جو شہیدوں کی فیملیز کو بھول گئے‘ : عمران فاروق کی اہلیہ کا 16ویں برسی پر طنزیہ اور جذباتی پیغام

’شکریہ اُن سب کا جو شہیدوں کی فیملیز کو بھول گئے‘ : عمران فاروق کی اہلیہ کا 16ویں برسی پر طنزیہ اور جذباتی پیغام

لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے پہلے کنونیئر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کو گیارہ برس کا عرصہ مکمل ہوگیا، اُن کی برسی پر اہلیہ نے جذباتی پیغام شیئر کیا ہے۔

یاد رہے کہ لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے سینئر رہنما اور بانی ایم کیو ایم کے قریبی ساتھی ڈاکٹر عمران فاروق کو 2010 میں اُن کے گھر کے قریب چھریوں اور پتھر کے وار سے شہید کیا گیا، قتل کے مقدمے کا پاکستانی عدالت نے دس برس بعد گزشتہ سال فیصلہ جاری کیا، جس میں ملوث تین ملزمان کاشف، خالد شمیم اور معظم علی کو عمر قید جبکہ کامران، بانی ایم کیو ایم کو مفرور قرار دیا گیا ہے۔

آج 16 ستمبر کو ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کو گیارہ برس مکمل ہوگئے، اس موقع پر ایم کیو ایم کے کارکنان انہیں خراج تحسین پیش کررہے ہیں اور اُن کی سیاسی خدمات کو یاد کررہے ہیں، چاہنے والوں نے اس موقع پر قرآن و فاتحہ خوانی کی تقریبات کا انعقاد بھی کیا ہے۔

عمران فاروق کی اہلیہ شمائلہ عمران نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر گیارہویں برسی کے حوالے سے جذباتی پیغام شیئر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’16 ستمبر ڈاکٹر عمران فاروق کی شہادت کا دن کبھی نہ بھولنے والا ہے، شکریہ اُن سب کا جو شہیدوں کی فیملیز کو بھول گئے‘۔

انہوں نے لکھا کہ ’میں کینسر کے خلاف جنگ بچوں کے ساتھ اکیلی لڑ رہی ہوں، مجھے اور بچوں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں‘۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے عمران فاروق کے لیے لکھا ’کب تیری یاد میں کمی آئی، آج پھر آنکھ میں نمی آئی‘۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ لندن میں گزشتہ چار ، پانچ برس سے کسمپرسی کی زندگی بسر کررہی ہیں، انہیں کینسر کے مرض کی تشخیص بھی ہوئی، جس کا علان جاری ہے۔

وہ لندن میں اپنے بچوں کے ساتھ ایک کمرے کے فلیٹ میں مقیم ہیں اور گزشتہ دنوں انہیں کینسر کی بھی تشخیص ہوئی۔ مرض سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر عمران فاروق کی اہلیہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تصدیق کی اور جذباتی ٹویٹ بھی کیے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2007 میں لندن میں اُس وقت قتل کیا گیا جب وہ اپنے گھر جارہے تھے، اُن کا کیس تاحال حل نہیں ہوسکا، اسکاٹ لینڈ یارڈ نے پاکستان میں گرفتار ملزمان کی حوالگی نہ ہونے کے باعث فی الحال کیس کی پیشرفت کو روک دیا ہے، ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں پاکستان کے حساس اداروں نے خالد شمیم، معظم علی، محسن اور کاشف کو حراست میں لیا۔ کاشف دوران حراست طبیعت ناسازی یا کسی بھی وجہ سے انتقال کرچکا جبکہ بقیہ ملزمان اپنے اوپر عائد ہونے والے الزام سے انکاری ہیں، تینوں ملزمان کو حراست کے کئی دنوں بعد ظاہر کیا گیا تھا۔

ایم کیو ایم پاکستان اور لندن کے تحت برسی کے موقع پر تعزیتی پروگراموں کا انعقاد کیا جارہا ہے جبکہ ایم کیو ایم کے کارکنان ڈاکٹر عمران فاروق کو خراج عقیدت بھی پیش کررہے ہیں۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

ٹویٹر اکاؤنٹ @ZarayeNews

فیس بک @ZarayeNews

اپنا تبصرہ بھیجیں: