پٹواریوں نے پاکستان کے ساتھ کیا کھلواڑ کیا؟ انکشاف سے بھرپور تجزیاتی رپوٹ

پٹواری سسٹم، پاکستان کی تباہی کا ذمہ دار کیسے؟ تجزیاتی رپورٹ:سیدمحبوب احمدچشتی


ملک کے پٹواریوں نے کراچی سمیت پاکستان کی زمین کی ہیئت بدل ڈالی،آج اس کے نتائج کراچی کے شہری بھی بھگت رہے ہیں، پٹواری مافیا نے فلاحی زمینوں تک کو نہیں چھوڑا اور آج ان فلاحی زمینوں پر پلازے اور نہ جانے کون کون سی تجارتی سرگرمیاں ہو رہی ہیں،یہ دائرہ کار پورے پاکستان کی زمینی ہیئت کو تبدیل کرنے کیلئے پٹواری مافیا کو سونپ دیا گیا ہے جسے ریاست بھی کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے یہ سلسلہ اسوقت شروع ہوا جب پاکستان کی بنیاد رکھنے کے بعد مہاجرین اس ملک کو قائم کرنے کے بعد سندھ اور پنجاب میں آباد ہوئے اردو، پنجابی بولنے والے اس زمین پر آکر آباد ہوئے تو انہیں امید تھی کہ انہیں اس ہی مواخات کا سامنا ہوگا جب مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے والوں کو دیا گیا تھا انصار نے مواخاتی نظام کے تحت جو آقا دوجہاں حضرت محمدمصطفیٰ صلی اللّہ علیہ وسلّم کے فرمان کے مطابق قائم کیا گیا انصار نے کون سی ایسی چیز تھی جس میں اپنے مہاجر بھائیوں کو حصہ نہیں دیا زمینوں کی ایسی تقسیم کی کہ مہاجرین کو اپنے مہاجر ہونے پر رشک ہونے کے ساتھ انصار بھائیوں سے وہ محبت ہوئی کہ ایکدوسرے کیلئے جان وارنے کیلئے راضی تھے،لیکن ایسا پاکستان کے قیام کے لئے مہاجرین کے ساتھ نہ ہوا زمین رہنے کیلئے دے دی گئی یہ پاکستانی انصار کی مہربانی تھی کہ انہوں نے کم ازکم اس بات پر اعتراض نہیں اٹھایا کہ انہیں بسنے ہی نہ دو ورنہ مہاجرین کی کیفیت تو ایسی ہو جاتی کہ آگے کنواں پیچھے کھائی، یہ بات عیاں ہے کہ زمینی کلیم تک انہیں نہیں دئیے گئے اس طرح مہاجرین کی اکثریت جو امیر ترین تھی پاکستان میں آکر غربت کا شکار ہوگئی اور اپنے پاکستانی بھائیوں سے بلا تعصب یہ بات کہتی رہی کہ کم ازکم وہ انہیں عزت دیں کہ وہ اس ملک کی بنیادوں میں خون بھر کر یہاں تک پہنچے ہیں، ایسا نہ ہونے کے پیچھے پاکستان مخالف وہ قوتیں آج بھی برسر پیکار ہیں جو نہیں چاہتی کہ پاکستان کا وجود باقی رہے یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان کی ترقی کی راہیں مسدود کر دی جاتی ہیں کئی مرتبہ پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہوا لیکن اسے فرقہ واریت اور لسانیت کی بھینٹ چڑھا کر پھر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا گیا یہیں سے پٹواری سسٹم نے پاکستان کی زمین کے خاکے اپنے حساب سے ترتیب دینے شروع کئے جس کے پیچھے تسلط قائم رکھنے کے ساتھ پاکستانی زمین کو لوٹ کا مال سمجھا گیا پٹواری مافیا بھی ایک ایسا بڑا عنصر ہے جس نے باہمی تصادم کی فضا قائم رکھی تاکہ معصوم پاکستانی رنگ،نسل اور مذہب کی بنیاد پر لڑتے رہیں اور وہ کراچی سمیت پاکستان کی زمینی ہیئت بدلتے رہیں کل بھی ایسا کیا گیا اور آج بھی ایسا ہی کیا جارہا ہے مہاجرین نے دین اسلام کی سربلندی کیلئے ہجرت کی اس کے پیچھے کسی بھی غیر مسلم کے سامنے سرنگوں نہ ہونے کا عنصر نمایاں تھا،ماضی کے تلخ حقائق کا مطالعہ کیجئے تو سندھ کی سر زمین ہندؤں کے غلام بن کر زندگیاں گزارنے پر مجبور تھے جیسے ہی مہاجرین نے قیام پاکستان کے بعد سندھ کی سرزمین پر قدم رکھا یہ ہندؤ ودیگر مذاہب کے لوگ اپنی جان بچانے کیلئے ہندوستان کی طرف بھاگے جس کا فائدہ سندھی بھائیوں کو پہنچا اور وہ غلامی کی زنجیروں سے باہر آئے لیکن کیا انہوں نے زیادتی نہیں کی کہ اپنے ان ہی بھائیوں کو جو آپکو اپنا سمجھتے ہیں مکڑ، مٹروے، بھگوڑے جیسے القابات سے نوازا گیا اور انہیں آج تک سرزمین وطن میں ایسی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے کہ جیسے یہ پہلے سے یہاں مقیم تھے اور قربانیاں ان لوگوں نے دی ہیں جو آج بھی مہاجرین کو زمین بوس دیکھنے کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوششوں میں مصروف عمل ہیں اور پٹواری مافیا کے ساتھ ملکر مہاجر اکثریتی علاقوں کے مقابل زمینیں تشکیل دینے کے ساتھ ان کے ہر لحاظ سے راستے بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کے پیچھے مقاصد کیا ہیں؟ دراصل زمینی کنٹرول کے پیچھے ہمیشہ ایک مقصد رہا ہے مسلمان ہوں یا کوئی اورانہوں نے فتوحات حاصل کرنے کیلئے اہم زمینی کنٹرول سنبھالے تاکہ دیگر زمینوں پر قبضہ آسان بنایا جاسکے ایسا ہی کراچی میں بھی ہو رہا ہے لیکن اس کے پیچھے پاکستان سے محبت نہیں بلکہ ایک لسانی سوچ ہے جو پاکستان کو ماننے کیلئے تیار نہیں اس سوچ نے مہاجرین پاکستان کی سوچ کو ایک مرتبہ پھر 1947ء میں پہنچا دیا ہے خون کے رنگ سے سجی سرزمین پاکستان سے مزید ہجرت کم ازکم مہاجرین کی خواہش نہیں ہوسکتی کیونکہ پاکستان سے لازوال محبت انہیں آج بھی مجبور کر رہی ہے کہ کل پاکستان بنایا تھا اب پاکستان کے تاقیامت وجود کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا ریاست کو دیکھنا ہے کہ پاکستان پٹواری مافیا نے چلانا ہے یا ریاست نے فی الوقت پٹواری مافیا پاکستان کے وجود کیلئے شدید ترین خطرہ بن کر سامنے ہے جس کی واضح مثال یہ ہے کہ منی پاکستان کہلائے جانے والے کراچی کی  سروس روڈز، شاہراہیں، فٹ پاتھ، کچرا کنڈیاں، پارک، میدان ودیگر اسی قسم کی جگہیں بیچ دی گئیں یا تجاوزات کی شکل میں قائم ہیں اب سوچنے کا کام ریاست کا ہے۔


نوٹ: اس رپورٹ کے جملہ حقوق روزنامہ انداز شہر کے پاس محفوظ ہیں، یہ رپورٹ 16 ستمبر کے شمارے میں شائع ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: