نیب کراچی سے ملزمان کی اربوں‌ روپے پلی بارگین

نیب کراچی سے ملزمان کی اربوں‌ روپے پلی بارگین

کراچی:مورخہ 17ستمبر 2021:قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کے نظرئیے کرپشن کیخلاف جہاد کے تحت نیب کراچی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نجف قلی مرزا کی سربراہی میں نیب کراچی کے ریجنل بورڈ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں تحقیقاتی ونگز کی ڈائریکٹرز اور متعلقہ کیسزکی مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں نے شرکت کی۔اجلاس میں اربوں روپے مالیت کے کیسزپر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مقدمات کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

نیب کراچی کے ریجنل بورڈ کا اجلاس ہوا، جس میں 1 ریفرنس کی منظوری/ سفارش، 4 انکوائریز کو تفتیش میں تبدیل کرنے اور 8 پلی بارگین کی درخواستیں منظور کرنے کی منظوری دی گئی۔

 بورڈ نے سندھ سوشل ریلیف فنڈ(ایس ایس آر ایف) کے افسران / عہدیدارن اور دیگر کیخلاف ر یفرنس دائر کرنے کی اعلیٰ حکام سے سفارش کی۔ملزم فضل الرحمن، سابق سیکریٹری / چیئر مین، ایس ایس آر ایف، اور دیگر افراد اختیارات کے غلط استعمال اور ایس ایس آر ایف کے فنڈز کو غیر قانونی طور پر جی ایس میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری کرکے غبن اور بے ضابطگیوں میں ملوث ہیں۔ ملزمان نے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا۔

 بورڈنے سراج درانی، اسپیکر سندھ اسمبلی اور دیگر کیخلاف ایم پی ہاسٹل پروجیکٹ، کراچی کے فنڈز میں غبن کے الزام پر مجاز اتھارٹی کو انکوائری کو تحقیقات میں تبدیل کرنے کی اجازت کی سفارش کی۔

 بورڈ نے روشن سندھ سولر پروگرام کے افسران / عہدیداران اور دیگر کیخلاف مجاز اتھارٹی کو انکوائری کو تحقیقات میں تبدیل کرنے کی سفارش کی۔ ملزمان نے مبینہ طور پر اختیارات کا غلط استعمال اور دیہی سندھ Phase –I & II کے سولر لائٹس کی تنصیب کے فنڈز کی غبن میں ملوث ہیں۔ ملزمان نے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا۔

بورڈ نے نصر ت حسین منگن، سابقہ آئی جی جیل خانہ جات، حکومت سندھ کیخلاف آمدن سے زائد اثاثے جمع کرنے کے الزام پر مجاز اتھارٹی کو انکوائری کو تحقیقات میں تبدیل کرنے کی اجازت کی سفارش کی۔

 بورڈنے ملزم حفیظ الرحمن بٹ، مالک میسرز اورینٹ ہاؤسنگ سروس بلڈرز اور بلیز گرین ووڈ ریزیڈنسی، سپر ہائی وے کراچی، بابر چغتائی اور دیگر کیخلاف انکوائری کو تحقیقات میں تبدیل کرنے کی منظوری دی۔ ملزمان نے بڑے پیمانے پر عوام سے دھوکہ دہی کی۔ ملزم نے متاثرین کے فلیٹس، دکانوں کی ساری قیمت وصول کرنے کے بعد بھی متاثرین کو جائز قبضہ اور ما لکانہ حقوق سے محروم رکھا۔ اس کیس میں عوام کو کروڑوں روپے سے زائدکی رقم کا نقصان پہنچایاگیاہے۔

 بورڈ نے ملزم فہیم احمد کی Rs.4.610 million پلی بارگین کی درخواست زیر دفعہ,NAO-1999 25(b) اور ریفرنس نمبر02/2021 (منور علی بزدار، سابقہ چیف انجنیئر،پراجیکٹ ڈائریکٹر،(آربی اوڈی)، افسران و عہدیدارن (آربی او ڈی پراجیکٹ)محکمہ آبپاشی حکومت سندھ، ٹھیکدار اور دیگر) میں اعلی حکام سے منظوری کی سفارش کی۔ملزم اختیارات کے غلط استعمال کے ذریعے فنڈز کے غبن میں ملوث ہے۔ ملزم نے 2017-2019 کے سیلاب کے کاموں کے کیلئے مختص فنڈز میں غبن کیا۔

بورڈ نے ملزم نصر ضیاء کی Rs.9.25 millionاور محمد احمر اسلم Rs.9.25 million کی پلی بارگین کی درخواست زیر دفعہ,NAO-1999 25(b) کے تحت اعلی حکام سے منظوری کی سفارش کی۔ملزمان نے اختیارات کے غلط استعمال اور سندھ پبلک پروکیورمنٹ رولز 2010 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹھیکے دیئے۔ ملزمان نے متعلقہ کاموں کے تصدیق کے بغیر ادائیگیاں کیں۔ ملزمان نے فنڈز میں بے ضابطگیوں کے ذریعے سرکاری خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا۔

 بورڈ نے ملزم محمد عارف صدیق کی زیردفعہ 25(b)NAO-1999 کی Rs.49.34 million اور ملزم محمد جاوید کی Rs.7.77 million کی پلی بارگین کی درخواست (تحقیقات بخلاف محمد اقبال، محمد عارف،میسرز مرہبہ پراپرٹیز اور سید عامر علی شاہ، میسرز ایکسیس کنسٹریکشن) کے پراجیکٹ پریمیئر ریجنسی ولازکراچی، میں قبول کی اور قابل احترام احتساب عدالت سے منظوری کی سفارش کی۔ ملزمان نے ہاؤسنگ سو سائٹی کے نام پر جعلی اور غیر قانونی پلاٹ فروخت کے ذریعے عوام سے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کے مرتکب پائے گئے۔

 بورڈ نے ملزم محمد عارف صدیق کی25 پلاٹ، ملزم محمد جاوید کی 22 پلاٹ اور ملزم فیصل وسیم کی 22پلاٹ کی واپسی کی زیردفعہ 25(b)NAO-199پلی بارکین کی درخواست (ریفرنس نمبر 06/2017 ریاست بمقابلہ ابرار احمد ودیگر) میں قبول کی اور قابل احترام احتساب عدالت سے منظوری کی سفارش کی۔ ملزمان ایک دوسرے کی مدد سے پاک پنجاب کو آپریٹو ہاوسنگ سو سائٹی کے ممبران کے پلاٹس پر قبضہ کرنے میں ملوث ہیں۔

بورڈ نے میگا کرپشن کیسز کے کامیا ب تفتیش پر مشترکہ کمیٹیوں کی کارکردگی کو سراہا۔ڈجی نیب کراچی ڈاکٹر نجف قلی مرزا (پی ایس پی)نے قومی خزانے سے لوٹی ہوئے رقم اور سرکاری زمین کے واپسی کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ڈائریکٹرز کو ہدایات جاری کیں کے وہ محترم جسٹس جاوید اقبال، چیئر مین نیب کی ہدایات کی روشنی میں تفتیشی کا م کو میرٹ کے بنیاداور بغیر امیتاز کے جاری رکھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: