قائد اعظم سے ملاقات میں‌ شکوے—- تحریر کنور شہزاد

25 مارچ کو سو رہا تھا کہ یک دم ایک شخص آیا اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کے بولا بیٹا باپ کو بھول گئے اور تو فاتحہ پڑھنے بھی نہیں آتے روز انتظار کرتا ہوں، پہچانا میں محمد علی جناح ہوں، جسے تم” قائد اعظم” کہتے تھے یاد ہے”بابائے قوم” کہتے تھے میں یکدم خواب میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔السلام و علیکم ۔وعلیکم السلام ۔جیتے رہو ۔
 
ہاں تو بتاؤ کیوں نہیں‌آتے اپنے باپ سے ملنے، بابا کیسے آؤں شرمندگی سے نہیں آتا کیوں؟ ایسا کیا کیا  ہے تم نے؟ بابا میں نے نہیں اشرافیہ نے کیا ہے آپکے ساتھ میرا تو داخلہ بند ہے وہاں اور کیسے آؤں ، کیا بتاؤں آپکو آ کر کہ ہم نے تو باپ دادا کی ہڈیاں چھوڑ دیں، جاہ و حشمت چھوڑ دیا، جو لوگوں کے پاس اب ہے ، اس سے زیادہ آپکے حکم پرچھوڑ کر چلے آئے تھے کہ ایک آزاد، خود مختار ریاست ہوگی مگر یہاں قدم رکھاتو فورا سوال ہوا تم کون ؟ آہ 
 
میں پاکستانی ہوں، کہاں سے آئے ہو ہندوستان کے اقلیتی علاقے سے۔ کون سی زبان بولتے ہو، یہ دیکھو یہ پنجابی۔ یہ سندھی، یہ بلوچی اور یہ پشتو یعنی پٹھان ہے ارے بھائی میں پاکستانی، یوں کہو ہندوستانی ہو، کیا ہندوستانی ہوتا تو پاکستان آتا میں 20 لاکھ جانوں کا نذرانہ دیکر آیا ہوں، بابا بتائیے میرے دل پر کیا بیتی ہوگی آہ کیا ہوا؟ اب آپ ہی بتائے کس کے پاس آتا کیا لیکر آتا آپکے پاس میں تو آپکے پاکستان میں آیا تھا، ڈھونڈ رہا ہوں “پاکستان”
 
آپ ہی بتائیے کہاں ہے آپکا پاکستان ، یہ تو وڈیروں، جاگیرداروں، خانوں،سجادہ نشینوں اور  ملاؤں کا ہے ؟ کوئی سنی،کوئی شیعہ، کوئی دیوبندی، کوئی وہابی،کوئی حنفی، کوئی حمبلی، کوئی مالکی، کوئی شافی ہے لیکن کوئی پاکستانی نہیں ہے،” بابا” آپ تو کہتے تھے سب کو آزادی ہے اپنے مذہب کی، کوئی مندر میں جائے، کوئی مسجد میں، گردوارے میں یا گرجے میں ، یہاں تو نہ مندر محفوظ، نہ مسجد، نہ امام بارگاہ، نہ گرجا،”بابا” وہ آپکی آواز ہی تھی نا، ہاں بیٹا میری ہی آواز تھی۔ اسلئے نہٰن آتا”بابا” آپکو تکلیف ہوگی، جب میں آکر آپکو بتاؤں گا۔
 
مجھے معلوم ہے مگر تم ہی تو اصل وارث ہو میرے، “ہاہاہاہاہا” بدتمیز ہنستا ہے باپ کے سامنے، بابا کیا ظلم ہے نہ ہنسنے دیتے ہیں نہ رونے دیتے ہیں آپ؟اصل وارث یہاں کے لوگ تو ہمیں پاکستانی تو دور کی بات ہے، انسان بھی نہیں مانتے، نہ گھر میں محفوظ ہیں، نہ باہرم پتہ ہے کیا کہکتے ہیں؟ کیا  کہتے ہیں”را” کا ایجنٹ،وطن دشمن، دہشت گرد، ٹارگٹ کلر، بھتہ خور، کیاااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااااا یہ تمھیں کہتے ہیں جی بابا جی ؟
 
بھول گئے تمھاری “ماں” فاطمہ جناح کو “را” کا ایجنٹ نہیں کہا ایوب خان نے، ہرایا نہیں تمھاری ماں کو، قتل نہیں کیا تھا یاد نہیں مگر تم قائد کے  سپاہی ہو، میرے ہاں میرے، ڈٹے رہو تم نے پاکستان بنایا تھا تم ہی “پاکستان” کے مظلوموں کو اکٹھا کرو، سب زبان، مذہب والوں کو ساتھ ملاؤ۔ اپنا مقدمہ لڑو جیسے میں نے لڑا تھا۔
 
دلیل، ثبوت، شواہد اور عزم کو جواں رکھو، “بابا” میں تو یہی کر رہا ہوں، مگر کیا کروں، آواز بلند کرتا ہوں تو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہوں، غائب کر دیا جاتا ہوں، آپکے بیٹوں کی لاشیں ملتی ہیں اور بہت سے تو غائب ہی کر دیے جاتے ہیں اب باتیں میں کیا بتانے آتا آپکو تکلیف ہوتی آپکو اسلئے نہیں آتا صحیح کہ رہا ہوں یا غلط؟
 
صحیح کہ رہے ہو میں بیرسٹر رہا ہوں آؤ تمھیں بتاتا ہوں، تم پر حلمے ہوئے، قتل کیے گئے، پابند سلاسل ہوئےتو جاؤ لڑو مقدمہ اپنا، تم پر گولی چلی، تم نے نہیں چلائی، ریڈ ہوئے، پاکستان کے اداروں نے تمھارے لوگوں کو پکڑا مگر تمھاری طرف سے کوئی گولی نہیں چلی، دنیا اندھی نہیں ہے، دیکھ رہی ہے، سن رہی ہے، ہندو اگر زیادتی نہیں کرتے تو میں بھی آزاد ریاست کا مطالبہ نہیں کرتا اور تم میں تو صلاحیت ہے تم جیتو گے ضرور آج نہیں تو کل، یقینا جیتو جے بس اک بات کہ کر جا رہا ہوں قول حضرت علی ہے، سن لو، سنا دو، بتا دو کہ
“کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ہے، ظلم کی نہیں” یہ اسکا قول ہے جو داماد رسول بھی ہے اور عاشق رسول بھی۔
 
حضرت امام حسین کے والد بھی ہیں اور بی بی فاطمہ کے سرتاج بھی ۔شیر خدا کا لقب پانے والے بھی ۔ ہمت مت ہارنا بڑھے چلو، تمھارے پاس دلیل، ثبوت، شواہد اور سب سے بڑھ کر رہبر بھی موجود ہے ۔ اچھا اب چلتا ہوں، تم ٹھیک ہی کہتے ہو، اب جب آنا جب “پاکستان” کو جناح کا پاکستان بنا لینا۔ اللہ حافظ۔

تعارف

کنور شہزاد اسلم سے بلاگ لکھتے رہیں ان کا ذاتی بلاگ اسپاٹ اکاؤنٹ موجود ہیں۔

http://kunwarshahzad99.blogspot.com

اپنا تبصرہ بھیجیں: