ایکوزیشن کمپنیز کے لئے ریگولیٹری فریم متعارف

کیپٹل مارکیٹ میں سرمائے کی تشکیل

ایس ای سی پی نے سپیشل پرپز ایکوزیشن کمپنیز کے لئے ریگولیٹری فریم متعارف کروا دیا

اسلام آباد(رپورٹر دانیال شاہد) سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے پبلک آفرنگ ریگولیشنز ، 2017 میں ترامیم کرتے ہوئے ‘ سپیشل پرپز ایکوزیشن کمپنیز (SPAC ) کے ریگولیٹری فریم ور ک متعارف کروا دیا ہے۔

پاکستان کی کپیٹل مارکیٹ میں سپیشل پرپز ایکوزیشن کمپنیز کے آنے سے مالیاتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا ، سٹاک مارکیٹ میں نئی لسٹنگ کی حوصلہ افزائی ہوگی اور بڑی کمپنیوں کے انضمام/مرجر کے لیے سرمایہ کے حصول میں معاونت ملےگی جبکہ سرمایہ کاروں/عوام الناس کو تجربہ کار مالیاتی ماہرین اور فنڈ مینجرز کے ساتھ مل کر کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے اور کمپنیوں کے حصص کے ویلیو میں اضافہ سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔

سپیشل پرپز ایکوزیشن کمپنی ، (SPAC) ماہرین کے گروپ پر مشتمل کمپنی ہوتی ہے جو کہ مارکیٹ میں ایسی کمپنیوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن کو خریدا جا سکے ۔ SPAC کمپنی کو خریدنے یا اس میں حصہ ڈالنے کے لیے ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کے ذریعے سرمایہ اکٹھا کیا جاتا ہے ۔ سپاکس چونکہ خود سٹاک مارکیٹ میں لسٹ ہوتی ہے، لہذا حاصل کی گئی کمپنی بھی سٹاک مارکیٹ میں لسٹ ہو جاتی ہے ۔ سپیشل پرپز ایکوزیشن کمپنی کا تصور کئی ترقی یافتہ ممالک جیسے کہ امریکہ، کینیڈا، ملائشیا وغیرہ میں یہ کمپنیاں کامیابی سے کام کر رہی ہیں۔

ایس ای سی پی کے مجوزہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت ، سپیشل پرپز ایکوزیشن کمپنی ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی ہو گی جس کا کم ازکم ادا شدہ سرمایہ ایک کروڑ (دس ملین) روپے ہو گا ۔ سپیشل پرپز ایکوزیشن کمپنی کے پروموٹرز/سپانسرز ، ڈائریکٹرز اور سی ای او متعین کردہ اہلیت کے معیار پر پورا اترتے ہوں گے ۔ سٹیک ہولڈرز کے تحفظ کے پیش نظر، SPAC پبلک آفرنگ کے ذریعے جمع کئے گئے فنڈز کو مخصوص اسکرو اکاؤنٹ میں رکھ گی جس کی تحویل مقرر کردہ تھرڈ پارٹی کے پاس ہو گی ۔ ان فنڈز کو صرف اور صرف سرمایہ کاروں کو بتائی گئی کمپنی کے حصول کے لیے تین سال کی متعین مدت کے اندر استعمال کیا جائے گا ۔

اسکرو اکاؤنٹ میں جمع شدہ فنڈ ز صرف منظور شدہ اسکیموں میں سرمایہ کاری کے لئے استعمال کیےجا سکیں گے۔ کسی بھی ایکوزیشن اور مرجر کو شئیر ہولڈر خصوصی قرارداد کے ذریعے منظور کریں گے۔ مرجر کے بعد، مجوزہ ادارہ خود بہ خود مارکیٹ میں لسٹ ہو جائے گا جبکہ ایکوزیشن کی صورت میں اسے لسٹ کروانا پڑے گا۔ شئیر ہولڈر جو کہ کمپنی کی جانب سے کئے گئے کسی مرجر یا ایکوزیشن کی منظوری نہیں دیں گے، طے شدہ طریق کار کے مطابق اسکرو اکاوئنٹ میں سے اپنا سرمایہ واپس لینے کے مجاز ہو ں گے۔

ایس پی اے سی سے متعلق پبلک آفرنگ ریگولیشنز ، 2017 میں ترامیم کا مسودہ عوامی رائے عامہ کے لئے کمیشن کی ویب سائٹ پر فراہم کر دیا گیا ہے۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

ٹویٹر: twitter.com/zarayenews

فیس بک: facebook/zarayenews

انسٹاگرام : instagram/zarayenews

یوٹیوب: @ZarayeNews

اپنا تبصرہ بھیجیں: