کراچی، ترقی پسند صحافی وارث رضا گرفتاری کے بعد لاپتہ

کراچی، ترقی پسند صحافی وارث رضا زیرحراست 

کراچی پریس کلب کے ممبر اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ترقی پسند سنئیر صحافی وارث رضا کو رات گئے ان کے گھر سے حراست میں لے لیا گیا، کئی گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی اُن کے حوالے سے اہل خانہ کو کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی، جس پر انہوں نے گمشدگی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

وارث رضا کی صاحبزادی لیلہ رضا نے سوشل میڈیا پر اپنے والد کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے حراست میں لیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ وہ تمام ترقی پسند آوازوں کو دبانا چاہتے ہیں، میرے والد نے سچ بولنے کے علاوہ کوئی غلط کام نہیں کیا۔

کراچی یونین آف جنرنلسٹ کے مطابق 70 سالہ تاریخی جدوجہد کو بطور مدیر کتابی شکل دینے والے وارث رضا کو رات گئے گھر سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ کے یو جے کی طرف سے اس گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اینکر پرسن حامد میر نے بھی وارث رضا کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے.

پی یو ایف جے کے صدر شہزادہ ذولفقار نے کہا ہے کہ وارث رضا آزادی صحافت کے ہراول دستہ میں ہمیشہ پیش پیش رہے ان کی گرفتاری پر تشویش ہے۔ کے یو جے کے صدر نظام الدین صدیقی اور جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی سمیت مجلس عاملہ کے تمام اراکین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وارث رضا ایک سینئر صحافی ہیں جو پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا میں مختلف اداروں سے وابستہ رہے، انہوں نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی ملک میں آزادی صحافت کی 70 سالہ جدوجہد کو کتابی شکل میں لانے کا  بطور مدیر اہم کام سرانجام دیا ہے وہ آزادی صحافت اور اظہار رائے کیلئے اٹھنے والی ہر تحریک میں ہر اوّل دستے کا ہر دور حصہ رہے ہیں۔

ترجمان کے یو جے کے مطابق وارث رضا کی گرفتاری انتہائی تشویشناک ہے اور کراچی یونین آف جرنلسٹس اسے آزادی صحافت پر حملہ تصور کرتی ہے، ملک میں اس وقت ہر اس توانا آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جو آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے، کے یو جے نے مطالبہ کیا ہے کہ سینئر صحافی وارث رضا کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

صحافی وارث رضا کو جبری حراست میں لئے جانے کے خلاف صحافی تنظیموں نے ملک گیر احتجاج کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے ملک بھر کے صحافیوں کو احتجاج کی کال دی ہے۔

وارث رضا سندھی ترقی پسند حلقوں میں بطور اپ رائٹ صحافی کے پورے ملک میں پہچان رکھتے ہیں۔ تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہیں کس جرم میں، کس نے گرفتار کیا ہے۔ اس بارے سندھ حکومت نے بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

ٹویٹر: twitter.com/zarayenews

فیس بک: facebook/zarayenews

انسٹاگرام : instagram/zarayenews

یوٹیوب: @ZarayeNews

اپنا تبصرہ بھیجیں: