کے ایم سی جوائنٹ ایمپلائز ایکشن کمیٹی کا کراچی انسٹیٹیوٹ أف ہارٹ ڈیزیز میں جاری طبی سہولیات پر اطمینان کا اظہار

ڈاکٹر رفعت کو أدارۀ امراض قلب کا خصوصی چارج دینےسے دور رس مثبت نتائج سامنے آئے

عروس البلاد کراچی کے مرکز اور ضلع وسطی میں واقع کے أئی ایچ ڈی ہسپتال ہزاروں امراض قلب کے مریضوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہسپتال ہے

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کے ایم سی جوائنٹ ایمپلائز ایکشن کمیٹی نے کراچی انسٹیٹیوٹ أف ہارٹ ڈیزیز میں جاری طبی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا عروس البلاد کراچی کے مرکز اور ڈسٹرکٹ سینرل میں واقع کے أئی ایچ ڈی ہسپتال ہزاروں امراض قلب کے مریضوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہسپتال اور کراچی کے مرکز میں ہونے کے ناطے بہت کم ڈرائیو پر ہونے کے کی وجہ سے امراض قلب کے مریض مستفیض ہوتے تھے تاہم پچھلے کئی ماہ سے کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیذ ابتری کا شکار ہوگیا تھا انجیوپلاسٹی سرجری بند تھی لائف سیونگ ادویات بھی ناپید تھیں 150 مریضوں و بستروں کی گنجائش والا یہ ہسپتال صرف 15 مریض ایڑمٹ کرتا تھا جس کی وجہ سے غریب مریضوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوتا تھا ایس کے 4لایف سیونگ انجکشن بھی مریضوں کی پہنچ سے دور کردیا گیا اور یہ عمل کئی ماہ سے جاری تھا
تاہم ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضئ وھاب اور میونسپل کمشنر افضل ذیدی کی کاوشوں سے ایکوتھیلیم انجیو گرافی ۔انجیو پلاسٹی اور اوپن ہارٹ سرجری کے عمل کا أغاز ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رفعت کی سربراہی میں شروع ہوا اور انکی سربراہی میں 20 کروڑسے ذیادہ کا سامان ریکور ہوا جس سے ای ٹی ٹی ٹیسٹ اور 4 انتہائی اہمیت کے حامل آپریشن تھیٹر بھی بنائے گیےاور اب لیبارٹریز کی سہولت اور انجیو پلاسٹی انجیو گرافی بھی ہورہی ہے مریض بھی ہسپتال کے بستروں کے مطابق ایڈمٹ ہورہے ہیں ان تمام کاوشوں میں ایڈمنسٹر یٹر کے ایم سی مرتضئ وہاب اور میونسپل کمشنر افضل زیدی اور کراچی انسٹیٹوٹ أف ہارٹ ڈیذیذ کی ایگز یکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر رفعت ؤ جملہ ڈاکٹرز خصوصی مبارکباد و ستائش کےمستحق ہیں یہاں ایک بات گوش گزار کرنا ضروری ہے کہ کے ایم سی ایڈمنسٹریشن نے جس طرح ڈاکٹر رفعت کو أدارۀ امراض قلب کا خصوصی چارج دیا جس کے دور رس نتائج سامنے أۓ اسی طرح بلدیہ عظمیٰ کراچی کے کئی باصلاحیت اور اچھے کردار کے حامل افسران ہیں جو گزشتۀ کئی سال سے منتظر پوسٹنگ ہیں ایسے افسران کو اگر أگے لایا جاۓ تو ایسے ہی اچھے نتائج کے ایم سی کے دیگر محکموں میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں جس سے ایک طرف ادارے میں بہتری أۓ گی تو دوسری جانب او پی ایس و کرپشن مافیا جو کے ایم سی کو دیمک کی طرح روز بروز چاٹ رہی ہے اسکا قلع قمع بھی ممکن ہوسکے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں: