کے الیکٹرک اور گیس بلوں‌ میں‌ کے ایم سی ٹیکس، کراچی کے شہریوں‌ کا عدالت جانے کا فیصلہ

کے الیکٹرک اور گیس بلوں‌ میں‌ کے ایم سی ٹیکس، کراچی کے شہریوں‌ کا عدالت جانے کا فیصلہ

کراچی: ایڈمنسٹریٹر کراچی اور سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب اور صوبائی وزیربلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سندھ حکومت کے الیکٹرک اور گیس بلوں کے ذریعے شہریوں سے ٹیکس وصول کرنے جارہی ہے۔

بجلی کے بلوں میں کنزروینسی اور فائر ٹیکس جبکہ گیس کے بل میں سندھ سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ اتھارٹی کے ماہانہ دو سو روپے کا ٹیکس شامل ہوگا۔ اس ضمن میں وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ کے الیکٹرک کے حکام کی مٹینگ ہوچکی اور انہوں نے ٹیکس رضا کلیکشن پر رضا مندی ظاہر کی جبکہ وزیربلدیات سندھ نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی جانب سے ایس ایس جی سی کو بھیجے جانے والے خط کی تصدیق کی۔

ناصر حسین شاہ نے ٹیکس وصولی کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ رقم خزانے میں جمع ہوگی، جس سے فائدہ ہوگا‘۔

ایک اندازے کے مطابق کنزروینسی ٹیکس اور فائر ٹٰکس کی مد میں 2 سے 3 سو جبکہ گیس بلوں میں سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ کا 200 روپے ٹیکس 25 لاکھ شہریوں سے وصول کیا جائے گا۔ اگر صرف کے الیکٹرک بلوں سے حاصل ہونے والے ٹیکس کی سالانہ آمدنی دیکھی جائے تو اس سے 9 ارب تک آمدنی ہوگی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کراچی میونسپل کارپوریشن کے الیکٹرک کا نادہندہ ہے، جسے 7 ارب روپے کے الیکٹرک کو ادا کرنا ہے، اسی طرح کے الیکٹرک پر بھی کے ایم سی کے واجبات ہیں۔ ذرائع کے مطابق پہلے سال میں جمع ہونے والی رقم سے کے ایم سی کے دفاتر کی بجلی کے واجبات ادا کیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ یہ رقم شہری پانی کے بل سمیت دیگر جمع ہونے والے 13 ٹیکسز کے ساتھ ادا کرچکے ہیں۔ اس سے قبل محکمہ بلدیات سالانہ 21 کروڑ روپے 13 ٹیکسز کی مد میں وصول کررہا ہے۔

کے الیکٹرک اور گیس بلوں کے ذریعے کے ایم سی ٹیکسز کا بل کابینہ میں پیش کیا جائے گا، جس کی منظوری ہونے کے بعد اگلے ماہ سے کے الیکٹرک اور ایس ایس جی سی کو ٹیکس جمع کرنے کا اختیار حاصل ہوگا اور ادا نہ ہونے کی صورت میں صارف کے گھر کی بجلی یا گیس بند کردی جائے گی۔

سندھ حکومت کے اس اقدام کے خلاف تاحال کوئی توانا آواز نہ اٹھی، البتہ ایک شہری نے سندھ ہائی کورٹ میں حکومتی اقدام کے خلاف درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں کے الیکٹرک، سندھ حکومت، کے ایم سی، نیپرا ، ایس ایس جی سی اور اوگرا کو فریق بنایا جائے گا، اس کیس کی پیروی ایک اچھی شہرت والے وکیل کریں گے۔

شہریوں کی جانب سے اس فیصلے کو عدالت میں چلینج کیے جانے پر مسرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ شہریوں کا کہنا تھا کہ ’اگر حکومت کے اس اقدام کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہ کی تو مستقبل میں ایسے ظالمانہ اقدامات کا سلسلہ بڑھ جائے گا، ہمیں سیاسی جماعتوں یا قائدین سے کوئی امید نہیں مگر عدالت روشنی کی آخری کرن ہے‘۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

ٹویٹر: twitter.com/zarayenews

فیس بک: facebook/zarayenews

انسٹاگرام : instagram/zarayenews

یوٹیوب: @ZarayeNews

اپنا تبصرہ بھیجیں: