چار صوبے لسانی بنیاد پر اور طعنہ مہاجروں کو۔۔ تحریر سید مخدوم اجمیری

پہلےلسانیت سے باہرآؤ پھرمشورہ دو… سید مخدوم اجمیری

دل کادرد ہے جوالفاظ کارنگ لیکرآپ کےلیئے حاضر ہے،لسانیت پھیلانے والوں کےلیئےہے۔کس نے لسانیت کی داغ بیل ڈالی بات کرتے ہوپاکستانی بننے کی یہ مہاجروں کی طرف سے ایسے تعصبی۔لسانیت پھیلانے والوں کوجواب ہے جومہاجروں کوپاکستانی بننے کامشورہ دیتے ہیں سامنے والالسانیت کی بات کرتا ہے اور کررہاہے کوئی شور نہیں کوئی آواز نہیں آتی لیکن جب مہاجراردوبولنے والا خود کو مہاجر کہتاہے توکہاجاتاہے کہ پہلے پاکستانی بنویعنی دوسری تمام قومیتوں کوہماری ہجرت کرنیکے نتیجے میں پاکستانی بننے کی جوبھیک رات کوسوئے اورصبح اٹھنےکےبعد تو مل گئی وہ ہمیں پاکستانی بننے کادرس دینگے۔

پاکستان بننے سے پہلے بھی پاکستانی تھے اور ہجرت کے بعدایسی قوموں کوپاکستانی بنوایاجوخود لسانیت کے کیچڑمیں لتھڑی ہوئی تھیں اورآج تک یہ لتھڑی ہوئی ہیں مہاجروں نے نہیں۔۔ یہ تم نے لسانیت کے بیچ بوئے ہیں کیونکہ مہاجروں کالسانیت پراثاثے نہیں بن رہے ہیں تم سب کے مفادات ہیں اس لسانیت کوپروان چڑھانے میں اسی لسانی اورمالی مفادت سے مزین سوچ نے ایک پاکستان کوپہلے دوٹکرے کردیااور پھرچارٹکروں میں تبدیل کرکے اپنی بھرپور لسانیت کاثبوت دیا لسانیت کی پیداوار وہ سب ہیں جو مہاجروں کوپاکستانی بننے کاکہہ رہے ہیں آج مہاجروں کی وجہ سے پاکستانی بننےکا شرف حاصل ہوا ہےتو تواحسان فراموشی مت کرو۔۔۔

اگر آپ لسانیت سے لتھڑے ہوئے نہیں ہوتے توآج پاکستان کے چارصوبوں کے نام لسانیت کارنگ لیئے ہوئے ہرگز نہیں ہوتے صرف دویونٹ تھے مشرقی
پاکستان۔مغربی پاکستان۔لسانیت کی بنیاد پردونوں کی بھینٹ چڑھادی۔

چار صوبے بنادیئے لسانیت کے نام پراور تہذیب کے نام کی ڈرامہ بازی کرکے اسکو بنیاد بناکر ہر قوم سے آمریت پسند سوچ کے حامل رہنماؤں کو اٹھایا اور اصل تما م قوم پرستوں پر انکو مسلط کرکے لسانیت کو فروغ دیا اصل قوم پرستوں پر ڈمی پیپلزپارٹی کو بنواکر اپنے مقاصد حاصل کیئے اسی طرح باقی قومیتوں پر بھی یہ مسلط کیا گیا ۔کاش الطاف حسین عیار اور مکار ہوتا تو یہ نوبت نہیں آتی ا نکی وسیع قلبی قوم کوبہت نقصان پہونچا گئی باقی اسکے بزدل ،ڈرپوک رہنماؤں نے اسکو کہیں کا نہ چھوڑا ،ہر زبان کے بولنے والوں کا صوبہ ہوسکتا ہے۔

پنجابی بولنے والوں کا صوبہ پنجاب۔۔
سندھی بولنے والوں کاصوبہ سندھ۔
پشتون بولنے والوں کا صوبہ خیبر پختونخو ۔
بلوچی بولنے والوں کا صوبہ بلوچستان۔
اور اب ہزارہ صوبے کی بات ہورہی ہے سرائیکی بولنے والوں کے صوبہ سرائیکی کی بات بھی بات ہورہی ہے۔ اب یہ کھیل لسانیت کو کس نے شروع کی اسکا فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں ۔۔۔تم لسانیت کی پیداواروں ہمکو اہل وطن۔پاسبان وطن۔بانیاں وطن۔کرداروطن۔ہم اصل مہاجرپاکستانیوں کو بتاؤگے یہ تم جان لو کہ لسانیت کی اصل فساد کی جڑتم سب ہوپہلے خود تواہلیان وطن پاکستان کے جانشین بنواپنے اند ر کی گندی لسانیت ختم کرو پھرمہاجروں کوپاکستانی بننے کادرس دینا تمھاری اوقات نہیں ہے کی تم لسانیت کی کوکھ سے جنم لینے والوں ہمیں پاکستانی بننے کامشورہ دو ہم ہجرت سے پہلے پاکستانی تھے اور ہجرت کے بعد یہ قرض یہاں پہلے سے موجود قومیتوں پرہمیشہ رہیگا کہ مہاجروں کی دی ہوئی قربانیوں کی بدولت ان کوپاکستانی بننے کاموقعہ مل گیا۔۔۔
اگرسچے پاکستانی بننے کااتناشوق ہے توپہلے خود میں سے لسانیت ختم کرو پاکستانی بنو۔۔۔تمام صوبوں اور زبان کی بنیاد پرمزیدصوبوں کی بات کرنیوالوں پاکستانی بنو۔۔۔۔پہلے تم لسانیت ختم کرو تمام مظلوموں کوانکاحق دو۔۔۔اگریہ سب نہیں کرسکتے ہوتوپھرمہاجرصوبہ بننے سے بھی کوئی نہیں روک سکتا۔خود لسانیت کی بات کروگے اصل پاکستانی مہاجروں کوپاکستانی بننے کاکہوگے تو تماری لسانیت کی تاریخ گندی زہریلی ہم بھی بتائیں گے مہاجرکھبی لسانی نہیں رہاجب تم سب نے ملکراپنے اپنے صوبےزبانوں کاپرچار کیا جھوٹی سچی تہذیبوں پرقوم کو ورغلانا شروع کیا مظلوم قومیتوں کو اپنا غلام بنایاتو یہ ردعمل سامنے آنے تھا اصل مہاجر پاکستانی تسلیم نہیں کرنے کی وجہ اب یہ سمجھ میں آئی کہ تم خود پاکستانی نہیں ہو،مہاجروں کی بدولت پاکستانی بننے پر آج تک اپنے غم وغصہ کا اظہار کررہے ہوں اور کسی نہ کسی انداز میں مہاجروں کی بات کرنے والی ہرشخصیت کو کھبی راء کاایجنٹ کھبی کسی کا بنادیتے ہو، کیونکہ تم خود اصل پاکستانی نہیں ہو کسی کی مرہون منت کی وجہ سےپاکستانی بنےہو اسلیئے مہاجروں سے یوں خار کھاتے ہو اور جو مہاجروں کی بات کرے گا تو اسکا بدلہ اس یوں لیا جائے گا تومہاجروں نے سچا پاکستانی بنتے ہوئےوطن سے محبت کااظہار ایسے کیاکہ دنیادنگ رہ گئی ایسی تاریخیں رقم ہوئیں جب وطن سے محبت کی عملی تصویر پہلے ہجرت کی صورت میں آئی اور پھرہرقربانیوں کے بعد یہ سننے کوملے جنکومہاجروں نے بھیک میں پاکستانی بننے کاسرٹیفکیٹ دیاوہ یہ کہتے ہیں کہ لسانیت مہاجروں کیوجہ سے آئی۔۔احساس محرومی میں تم اسوقت سے مبتلاہوگئے تھے جب مہاجر ہجرت کرکے آ ئےاور جب تم نے یہ دیکھاکہ یہ توبانیاں پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح۔محترمہ فاطمہ جناح۔لیاقت علی خان کے قریب ہوتے جارہے ہیں ہیں توتماری اسی لسانیت پرمشتمل گندی سوچ ونفرت نے ان سب کوراستے سے ہٹادیا۔۔ہمیں لسانیت کا بو لنے والوں تماری لسانیت نے آج تک اس ملک کو ترقی کرنے نہیں دیاہرمظلوم قوم پراسی لسانیت نے حکمرانی کی ہے اور آج تک کررہی ہےاب یہ مہاجرکہتاکہ پہلے تمام قومیتں پاکستانی بنیں کیونکہ ہم تو روز اول سے اصل مہاجر پاکستانی ہیں اور رہیں گےپہلے خود لسانیت سے باہرآؤ پھرمشورہ دو۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اگرپھربھی ہمیں پریشان کرناہے توپھرکراچی کوہی اپناوطن بنالینگے
آزادی کےمفہوم سےایکبار پھرآشناکردینگےنئی نسل کومستقبل کےمعماروں کویہ سکھادینگےکہ
وفاکروگے۔۔۔۔وفاکرینگے۔۔۔۔۔جفاکروگے۔۔۔۔جفاکرینگے۔۔۔۔۔ہم آدمی ہیں تمارے جیسے۔۔۔۔جوتم کروگے۔۔۔وہ ہم کرینگے۔۔۔۔
آخرمیں مہاجروں کومشورہ کہ اب بھی وقت ہے سنبھل جاؤ۔۔۔۔سنبھل جاؤ۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: