پنڈورا پیپرز Rejected۔۔۔۔ تحریر محمد عمیر

پنڈورا پیپرز Rejected

ایک روز قبل عالمی صحافتی تنظیم ایم سی آئی جو ہے پنڈورہ پیپرز جاری کی ہے جس میں ٹیکس بچا کر یا کالے دھن کو سفید کر لوگوں نے اپنی آفشور کمپنیاں جائیدادیں بنائیں۔
اس رپورٹ کے لیے دنیا بھر کے 900 سے زائد معتبر صحافیوں نے کام کیا دو سال میں اس کو مکمل کیا گیا کیا اور اس کا جو ڈیٹا ہے وہ 500 ٹیرا بائٹ ہے جسے جو دستاویز کی صورت میں آئی سی آئی اے کے سسٹم میں محفوظ ہے۔

پنڈورا پیپرز میں دنیا بھر کے 135 ارب پتی شخصیات کے نام ہے جن میں سے نو سو ایسے ہیں جو عوامی عہدے رکھتے ہیں جن میں سابق صدر اور سابق وزیراعظم وزیر موجودہ وزیر یا دیگر ریاستی اداروں کے افسران ہیں، جبکہ پانامہ لیکس کے ایگزیکٹو، کرکٹر سچن ٹنڈولکر شکیرہ ایک ماڈل اور دیگر لوگ بھی شامل ہیں۔
اس فہرست میں سات سو سے زائد پاکستانی اور محب وطن پاکستانیوں کے نام شامل ہیں جن کے نام ہیں انہوں نے مختلف ممالک میں آف شور کمپنیاں بنائیں یا جائیدادیں خریدیں اور کیسے خریدیں اس بارے میں تو وہ خود بتا سکتے ہیں۔

دوسری اہم بات یہ کہ جو رپورٹ کو آپ سے بہت سارے لوگ ایسے ہیں جن کے پاس آئی سی آئی جے کا کاسوالنامہ نہیں پہنچا اسی وجہ سے وہ جواب نہ دے سکے جواب نہ ملنے کی صورت میں کمپنیوں یا جائدادوں کو کو آف شور شمار کیا گیا۔
جب کہ بہت سارے لوگ ایسے ہیں جن کا نام آیا تو انہوں نے ٹویٹر یا میڈیا کی وسطاعت سے وضاحت جاری کی اور بتایا کہ ان کی خریداری کے معاملے کے بارے میں سب واقف ہیں، یعنی جس کو آف شور کہا جارہا ہے انہیں آپ فار شور سمجھیں۔

اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی بھی آف شور کمپنی کے مالک نہیں نکلے یہ یقینا بہت سارے لوگوں کے لئے افسوس کی بات ہوگی ایسے لوگوں کے نام آئے جن کے نام اگر آپ دہرائیں تو آپ پر ہر طرح سے بھرپور شک کیا جاسکتا ہے۔

یقینا اس سارے معاملے میں آپ بھی مخمصے کا شکار ہوں گے کہ آیا کہ پنڈورہ پیپرز پر کیا تبصرہ کیا اور کیسے تبصرہ کیا جائے، لہذا اس رپورٹ کو ویسے ہی ریجیکٹ کریں، جیسے ماضی میں ایک رپورٹ کو ریجیکٹڈ قرار دیا گیا تھا۔

اس رپورٹ کے ریجیکٹ کرنے کی ایک نہیں بلکہ متعدد وجوہات جیسے الطاف حسین کا نام نہ ہونا، کیونکہ وہ بھارت، سی آئی اے، ایم آئی 6، کراچی کے تاجروں سے بھتہ وصولی میں ہر دور ملوث بتائے گئے، اسکاٹ لینڈ یارڈ نے بھی گھر سے لاکھوں پاؤنڈ برآمد کیے، اس کے باوجود پانامہ، پیراڈائز اور اب پینڈورا پیپرز میں نام نہ آیا۔

فہرست کو قومی سطح پر کیوں نا ریجیکٹ کیا جائے، کیونکہ اس میں جمہوریت پسندوں کے نام نہیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: