افسوس حامد میر بھی اندر سے ‘محمد حنیف’ نکلے، تحریر رضوان طاہر مبین

افسوس، حامد میر بھی اندر سے ’محمد حنیف‘ نکلے ۔ ۔ ۔! (رضوان طاہر مبین)

تو حنیف صاحب!
جو آپ کے منہ میں آئے گا آپ لکھتے ہی چلے جائیں گے، اور
ایسے بھونڈے اور بے تکے طریقے سے عمر شریف جیسی شخصیت کے تعزیت نامے کو لغو اور بے ہودہ عنوان سے آراستہ کرکے اپنے باطنی میل کا ’گند نامہ‘ بنا دیں گے، اور یہ بہت اچھا ہے حامد میر کی ’دانش وری‘ بھی ایک بار پھر بے نقاب ہوگئی،
ہم جیسے ٹوٹے پھوٹے صحافی تو راہ نمائی کے لیے آپ جیسوں کی جانب دیکھتے تھے، لیکن کہاں گئی اب کسی بھی خبر کے لیے جانچ پڑتال اور ساری تصدیق ۔ ۔ ۔ ؟

بس یہیں تک تھی ساری آزاد اور غیر جانب دار صحافت، آزادیٔ اظہار، مساوات، انسانی حقوق اور نام نہاد جمہوریت پسندی ۔ ۔ ۔ ؟

حنیف صاحب کی جانب سے بیان کی گئی عمر شریف کے کراچی چھوڑنے کی وجہ کو کراچی کے صحافتی حلقوں میں بری طرح رد کیا جا رہا ہے،
حقیقت یہ ہے کہ عمر شریف کو ’متحدہ‘ کے مخالف حلقے بھی متحدہ کے ’حامی‘ کے طور پر ہی جانتے ہیں اور وہ ارباب غلام رحیم کے دور میں اسی متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے ’مشیر ثقافت‘ بھی رہے، ان کے ساتھ ’متحدہ‘ کی جانب سے نام زد کردہ دوسری مشیر فاطمہ ثریا بجیا صاحبہ تھیں:)

رہی بات لندن والے واقعے کی تو عمر شریف تو اب اس دنیا سے گزر گئے اور اب آپ اس وقوعے کے دوسرے اور آخری گواہ ہیں!

حامد میر صاحب البتہ آپ کے ہم نوا بن گئے ہیں، اور تاریخ نے ان کی یہ ’’گواہی‘‘ محفوظ کر لی ہے!

کوچۂ صحافت میں حامد میر صاحب اور حنیف، دونوں احباب ہی ہم سے بہت زیادہ سینئر ہیں، تجربہ ہی نہیں قابلیت بھی کہیں زیادہ رہی ہوگی، لیکن جو ان کے لکھنے لکھانے کی صورت حال ہے، وہ اب عیاں ہی ہے !

اس لیے ہم نے یہاں لفظوں کے چناؤ میں ہر ممکن احتیاط برتی ہے، لیکن یہ جواب ایک لازمی فرض بن چکا تھا، اور کوئی تو ادا کرنے سے رہا، اس لیے اب ہم جیسے ’نوآموز‘ لڑکے سے ہی سہی ۔ ۔ ۔
صرف بطور صحافی اور بطور کراچی کے ایک باغیرت شہری کے، قبول کیجیے


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

ٹویٹر اکاؤنٹ @ZarayeNews
فیس بک @ZarayeNews

اپنا تبصرہ بھیجیں:

اپنا تبصرہ بھیجیں