کراچی، کے ایم سی ٹیکسز کی بلز سے وصولی کے خلاف آن لائن پٹیشن کا آغاز

   کراچی، کے ایم سی ٹیکسز کی بلز سے وصولی کے خلاف آن لائن پٹیشن کا آغاز

کراچی: سندھ حکومت کی جانب سے کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کو ٹیکس کے لیے استعمال کرنے کے خلاف شہری نے عدالت جانے سے قبل آن لائن پٹیشن شروع کردی۔

چینج ڈاٹ او آر جی پر گزشتہ روز شروع ہونے والی پٹیشن میں شہریوں کو کے ایم سی ٹیکسز کی وصولی کے لیے سندھ حکومت کے متوقع فیصلوں سے آگاہ کیا گیا ہے۔

چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت میں آن لائن پٹیشن پر چار سو سے زائد شہریوں نے حصہ لیا ہے، جس کا واضح مطلب ہے کہ یہ معاملہ شہریوں کے لیے اہم ہے اور وہ سنجیدگی سے اس پر سوچ و بچار کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ آن لائن پٹیشن کا مطلب خیالات یا نقطہ نظر سے اتفاق کرنا ہوتا ہے۔

آپ بھی درج ذیل لنک پر کلک کر کے پٹیشن میں حصہ لے سکتے ہیں

https://www.change.org/p/government-of-sindh-karachi-ka-muqadma?recruiter=880517317&utm_source=share_petition&utm_medium=twitter&utm_campaign=psf_combo_share_initial&recruited_by_id=ca648290-698d-11e8-a715-1f0ccc8e9f37

یاد رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے گزشتہ ماہ ایڈمنسٹریٹر کراچی کی سفارش پر کے الیکٹرک کے ذریعے کنزر وینسی اور فائر ٹیکس وصولی کے حوالے سے گفتگو کی تھی، جس پر کے الیکٹرک نے بھی رضا مندی ظاہر کی تھی۔

بعد ازاں وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے بتایا تھا کہ سوئی گیس کو سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا ٹیکس جمع کرنے کے حوالے سے خط لکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے ذرائع نیوز نے خبر شائع کی جس پر نہ صرف اثر ہوا۔

ذرائع نیوز کی خبر سے زیادہ شہریوں کی جانب سے آنے والے شدید ردعمل اور سوشل میڈیا پر اٹھنے والی آوازوں کی بنیاد پر صوبائی حکومت نے فیصلے کو مؤخر کر دیا ہے۔

کے الیکٹرک اور گیس بلوں‌ میں‌ کے ایم سی ٹیکس، کراچی کے شہریوں‌ کا عدالت جانے کا فیصلہ

کے الیکٹرک اور ایس ایس جی سی بلز کے ذریعے ٹیکسز کی وصولی کی منظوری کا معاملہ چار روز پہلے سندھ کابینہ کے اجلاس میں پیش ہونا تھا، مگر ذرائع نیوز کی خبر اور دیگر وجوہات کی بنا پر اس فیصلے کو حکومت نے مؤخر کردیا ہے۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

ٹویٹر اکاؤنٹ @ZarayeNews

فیس بک @ZarayeNews

اپنا تبصرہ بھیجیں: