نسلہ ٹاور : ایس بی سی اے اور چند مفاد پرستوں کے بگاڑ کی کہانی

  1. نسلہ ٹاور : ایس بی سی اے اور چند مفاد پرستوں کے بگاڑ کی کہانی

نسلہ ٹاورکے حوالے سے میری ایک رپورٹ پرسوشل میڈیاکچھ کمنٹس آئے کچھ طویل تھے توکچھ چھوٹے تھے معروف صحافی واینکرانیس منصوری کے ٹوئیٹر پر جاکرانکووہ رپورٹ دکھائی توانہوں ایک لائن میں حوصلہ دے دیا۔۔۔۔اقبال صاحب کی کتاب بانگ درا سے مشہور کلام کو منتخب کیاگیا۔

شعر کاآخری مصرعہ مسکراہٹ کاسبب بن گیا پیوستہ رہ شجر سے ، امید بہار رکھ،۔۔ امید سحربھی مختلف ٹکروں میں بٹی ہوئی ہے توبندہ کیاکرے۔عبدالحافظ خان  صاحب نے اپناحقیقی ردعمل دیتے ہوئے کمنٹس دیئے ملاحظہ فرمائیے۔1979 ء سے 1987 ء تک جماعت اسلامی کے میئر اور پی پی کے ڈپٹی میئر کراچی میں منتخب ہوئے اور یہ ہی دور ہے ۔

جس میں کراچی کچی آبادیوں کچی آبادی قائم کرنے والوں کچی آبادیوں کے قیام سے ووٹ بینک بنانے والوں کے لئے جنت نظیر دور تھا اس سے کچھ پہلے کا دور یعنی 70 کی دہائی اس میں بھی کراچی کی سیاست پر مذہبی جماعتوں خاض کر جماعت اسلامی کا ہی ڈنکا بجتا تھا کچھ جگہوں پر پی پی بھی نظر آجاتی تھی۔

اب اگر کراچی میں قائم کچی آبادیوں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو 70 کی دہائی میں سرکاری نجی زمینوں پر سیاست کی آڑ میں قبضے شروع ہوئے اور 79 سے 87 تک یہ قبضے اپنی انتہا پر پہنچ چکے تھے اب جماعت اسلامی اپنی روایتی منافقت فطرتی اور پیدائشی جھوٹ بولنے کی عادت کے تحت کچی آبادیوں نالوں پر قائم آبادیوں کا ملبہ ایم کیو ایم پر ڈالنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ مہذب پڑھے لکھے باشعور کراچی والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ کچی آبادیاں جماعت اسلامی پی پی کے ووٹ بینک قائم کرنے کے لئے بسائی گئیں تھی۔

جبکہ ایک ہمارے صحافی دوست محمدعلی نے کمنٹس میں یہ کہاکہ 1996ء کے بعدجو گوٹھ آبادہوئے ہیں وہ سب پلاننگ میں ہیں سب کی باری آئیگی امیداچھی رکھیں اورصحافی مکمل معلومات ڈیٹا محفوظ کرکے نشاندہی کرنے کا عمل جاری رکھیں، اب بات اگرکی جائے تواس میں کہ نسلہ ٹاور پرکاروائی مکمل ہوجائیگی کہ نہیں یہ وہ سوال ہیں کہ جنکاجواب مل سکے گایانہیں اس پرکچھ تجزیہ کیاجاسکتاہے۔

کراچی میں کچی ،وغیرقانونی آبادیوں سے ملنے والے دردسے شہرقائدکاہر مقامی دگنی اذیت سہہ رہاہے ،حجت تمام کرنے کیلیئے یہ اخذ بھی کرلیاجائے کہ نسلہ ٹاور کونشان عبرت بنانے کے بعدکیاپہاڑوں ونالوں و پرقائم آبادیوں اورکچی آبادیوں کانمبر آئیگا عوامی رائے کی اکثریت کا اس حوالے سے یہی کہنا تھا کہ ایساہونابہت مشکل بلکہ ناممکن لگ رہاہے کیونکہ یہاں ایسی سرکاری و پرائیوٹ عمارتیں نالوں پرقائم ہیں جنکی کے پاس جاتے ہوئے حدت میں شدت آجاتی ہے اور شدت پسندی کے ہم ویسے بھی قائل نہیں ہیں لہذا آگے بڑھتے ہیں۔

کراچی کے ہر مقامی کو یہاں امید اور دوسری جانب مستقبل ہے نسلہ ٹاورمکینوں کیساتھ ہمدردی ہرصورت میں رہی گی کیونکہ ان مکینوں نے کروڑوں روپے کی جمع پونچی لگائی ہے نسلہ ٹاورنے شہرقائدکے انتہائی پوش علاقے سے اپنے سفرکاآغازکیالیکن یہاں ایک  بات ہمیشہ کی طرح ایک بارپھر سمجھ میں نہیں آئی ہم نے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ جب نسلہ ٹاور بن رہاتھاتومتعلقہ نسلی ادارے کہاں تھے۔

نسلہ سے نسلی قافیہ ملانے کی چھوٹی سے کوشش ہے جومکینوں کے مکمل آباد ہونیکے بعدکس کی گستاخی کے مرتکب ہو گئے جویہ اچانک پڑھنے والی افتاد انکے اوسان خطاکرگئی اسرارورموزسے سلگتی بلگتی کہانی ہے جوکھبی نہ کھبی باہرضرور آئیگی۔لیکن اب یہ معاملہ اس شہراور شہریوں کی بقا کاسوال بنکرسامنے آگیا ہے یہاں دو باتیں چل رہی ہیں مکینوں کا کہناہے کہ نسلہ ٹاور کوبچاناہے اور دوسری جانب سے آواز آرہی ہے کہ ہرحال میں گراناہے بنانے اوربنتے ہوئے دیکھنے والوں سمیت ( فی الحال) سب ہی پھنس چکے ہیں تاریخ رقم کرنے جاتے ہیں توتاریخ میں نام ہوگا اور تاریخ پہ تاریخ ہونے سے ایک فائدہ توضرور ہوگاکہ کسی تاریخ کونسلہ ٹاور کی پوزیشن کسی اونچی پہاڑی سے آتی ٹھنڈی کے جھونکے کی کیابات ہے۔

زمینی حقائق کا پہلوکاتعصبی عینک اتار کرجائزہ اگرلیاجائے اور ساری کی ساری غلطیاں ایم کیوایم کے کھاتے میں نہیں ڈالی جائیں توشہرقائدمیں ہونیوالی غلطیوں کو سدھارنے کا ہنرایم کیوایم سے بہترکوئی نہیں جانتا بات صرف اتنی ہے کہ لمبی خاموشی کے بعد تھوڑے سے شورکی ہے جب سبکو قصوارہونے کے باوجودشور کرنیکی اجازت ہے توپھرہلکی پھلکی موسیقی کاحق بھی ملناچاہیئے۔

اس حقیقت سے انکارممکن نہیں ہے کہ شہرقائدکو مسلسل تجربہ گاہ بناکردیکھ لیا گیاکسی کے ہاتھ کچھ نہیں آیااور اذیت کے لمحات شہرقائد کے باسیوں کوسہنے پڑرہے ہیں شہرکراچی کے لیئے کچھ انتظامی بہتر پلان کیساتھ ماضی کی قیادت پربھروسہ کرنا آخری آپشن رہ گیاہے پاکستان اورکراچی میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے عوامی بنیادی مسائل میں بے پناہ اضافہ ہورہاہے نسلہ ٹاوراور تجوری ہائیٹس اگر؟؟؟؟( پہلی مثال)بننے جارہے ہیں تویہ سلسلہ دارز ہونا چاہیئے بصورت دیگراحساس محرومی میں مزید شدت پیدا ہونیکے امکانات بڑھ جائینگے یہ بھی حقیقت کہی جاسکتی ہے کہ سندھ حکومت نے زمینی کنٹرول کی جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی بلکہ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کوسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تبدیل کرکے شہرقائدکی بربادی کاسبب بھی بنی پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے کراچی کواندرون سندھ میں تبدیل کرنے کے لئیے شہر قائد کے چندمفاد پرستوں کیساتھ ملکراس شہرکی تقدیر کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے بس یہی ایک ناراضگی کاپہلوہے جوچھپائے سے نہیں چھپتانالوں پر موجوسرکاری وغیر سرکاری تعمیرات کراچی کیلئے لمحہ فکریہ ہیں جس کا خاتمہ دشوار ترین مرحلہ ہوسکتا ہے۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

ٹویٹر اکاؤنٹ @ZarayeNews

فیس بک @ZarayeNews

اپنا تبصرہ بھیجیں: