لندن گروپ کی وال چاکنگ پر ایکشن، گرفتاریوں کی اطلاعات، اگلے چوبیس گھنٹوں میں سخت اقدامات کا امکان

متحدہ لندن کی چاکنگ، سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارےمتحرک، گرفتاریوں کی اطلاعات

کراچی میں ہونے والی ایم کیو ایم لندن کی وال چاکنگ اور سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ چلنے کے بعد سیکیورٹی ادارے متحرک ہوگئے۔ گزشتہ شب کراچی کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے کر لندن سے تعلق اور چاکنگ کے شبہ میں کئی افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

ذرائع کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق آیندہ چوبیس گھنٹوں میں شناخت کا عمل مکمل ہونے کے بعد مزید گرفتاریوں کا امکان بھی ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے بانی ایم کیو ایم کو کسی بھی قسم کا ریلیف دینے کے شدید مخالف ہیں۔

کراچی کے مختلف اضلاع میں بانی متحدہ کے حق میں چاکنگ کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہوگئے ہیں۔ گزشتہ رات کم از کم ایک درجن سے زائد چھاپوں میں متعدد افراد کو متحدہ لندن سے تعلق اور چاکنگ کرنے کے شبہ میں حراست میں لیکر نامعلوم مقامات پر منتقل کردیا گیا۔ زرائع کا کہنا ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
ذرائع کو ملنے والی اطلاع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے بانی متحدہ کو کسی بھی قسم کا ریلیف دینے کے شدید مخالف ہیں، بانی متحدہ نے بائیس اگست کی تقریر کے بعد بھی پاکستان مخالف مہم پوری شدت سے جاری رکھی ہوئی ہے اور گزشتہ ہفتہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں متحدہ لندن کے ناکام مظاہرہ کے بعد بھی الطاف حسین نے پاکستان، افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلاف انتہائی نازیبا زبان استعمال کی۔

جبکہ گزشتہ رات بھی لندن سیکریٹریٹ سے بانی لندن گروپ کے جاری کردہ بیان میں بھی فوج اور آئی ایس آئی کو غلیظ القابات سے مخاطب کیا گیا جبکہ سوشل میڈیا پر حمایتی بھی مسلسل فوج کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ملک دشمن سندھودیش بنانے کے مطالبہ کو دہرا رہے ہیں۔

زرائع کا کہنا ہے کہ بانی متحدہ، ملک میں جاری سیاسی چپقلش کا فائدہ اٹھاکر اپنے گروپ کو کراچی میں دوبارہ فعال کرنے کے خواہش مند تھے، لندن قیادت اس حوالے سے اسٹیبلشمنٹ سے معاملات طے کرنے کا تاثر بھی گزشتہ کئی روز سے دے رہی ہے۔

پالیسی سازوں نے بات چیت، سیاست کی دوبارہ سے اجازت دینے کے اس تاثر کی سختی سے تردید کی اور مؤقف اختیار کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے برسوں کی کاوشوں کے بعد کراچی میں ایم کیو ایم لندن کا دہشت گرد نیٹ ورک توڑکر شہر کا امن بحال کیا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کا اصولی فیصلہ ہے کہ لندن گروپ کو دوبارہ کراچی و حیدرآباد کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ زرائع کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کو ملکی میڈیا، سول سوسائٹی اور بزنس برادری کے ساتھ ساتھ غیرملکی سفارت کاروں کی بھی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

خبر بشکریہ امت اخبار

اپنا تبصرہ بھیجیں: