انٹر داخلے کے لیے ڈومیسائل لازمی، میٹرک کے کامیاب ڈیڑھ لاکھ طلبہ دشواریوں‌ کا شکار، خصوصی ڈیسک کے قیام کا مطالبہ

انٹر داخلے کے لیے ڈومیسائل لازمی، میٹرک کے کامیاب ڈیڑھ لاکھ طلبہ دشواریوں‌ کا شکار، خصوصی ڈیسک کے قیام کا مطالبہ

کراچی میٹرک بورڈ سے کامیاب ہونے والے ڈیڑھ لاکھ سے زائد طلبہ کو انٹر میں داخلے کے لیے وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کردہ نئی پالیسی پر مکمل عمل کرنا ہے۔

کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سندھ کی جانب سے انٹرمیڈیٹ کی نئی آن لائن داخلہ پالیسی جاری کی گئی، جس کے تحت میٹرک میں کامیاب ہونے والے طالب علموں کو پانچویں ، آٹھویں اور دسویں کلاس جماعت کا سرٹیفیکٹ، دسویں کا پاس اور مارکس سرٹیفیکٹ فارم کے ساتھ فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ خواہش مند طلبہ کو ڈومیسائل، پی آر سی فارم سی، نادرا سے منظور شدہ ویکسین سرٹیفیکٹ، والد کا شناختی کارڈ، طالب علم کا شناختی کارڈ یا ب فارم، نویں جماعت کا ایڈمٹ کارڈ، 6 عدد پاسپورٹ سائز تصاویر، ای میل ایڈریس ہونا لازمی ہے۔ طالب علم داخلہ فارم seccap.dgsc.gov.pk ویب سائٹ سے حاصل کرسکتے ہیں۔

طلہ کو مشکلات کا سامنا

انٹرمیڈیٹ کی نئی داخلہ پالیسی جاری ہونے کے بعد طالب علموں نے ڈومیسائل اور پی سی آر سی کے لیے ڈی سی آفس کے چکر لگانا شروع کردیے، جہاں انہیں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔ کچھ طلبہ نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر آفس میں بیٹھے افسران اُن کی بات نہیں سُن رہے اور چکر پہ چکر لگوا رہے ہیں۔

ایسی صورت میں ڈی سی آفس میں بیٹھے ایجنٹس کے کام کو بھی چار چاند لگ گیے ہیں، جن کے پاس اب سر کھجانے کا وقت نہیں ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ہزاروں طالب علموں نے ڈومیسائل اور پی آر سی کے حصول کے لیے ڈی سی آفس میں کاغذات سمیت درخواستیں جمع کرائیں، جن میں سے صرف درجن سے زائد طلبہ کو ڈومیسائل اور پی آر سی جاری کیے گیے۔ طلبہ کو ڈی سی آفس میں بیٹھے افسران نے گھن چکر بنایا ہوا ہے، جس پر وہ اور والدین شدید ذہنی اذیت مین مبتلا ہیں۔

والدین کا مطالبہ

والدین نے سال ضائع ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر تعلیم، ایڈمنسٹریٹر کراچی اور ترجمان صوبائی حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، کمشنر کراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالب علموں کے لیے ڈی سی آفس میں خصوصی ڈیسک کا قیام عمل میں لائیں تاکہ کسی بھی پریشانی سے بچا جاسکے اور سرکاری افسران و ملازمین کو پابند کیا جائے کہ وہ تھوڑی زیادہ محنت کر کے اس مسئلے پر خصوصی توجہ دیں تاکہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد کامیاب طلبہ کو مستقبل داؤ پر نہ لگے۔

والدین نے وزیر تعلیم سردار شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کراچی کی انتظامیہ سے بات کر کے اسکولوں میں ڈی ایم سیز کے نمائندے تعینات کروانے کی کوشش کریں تاکہ طلبہ اور اُن کے سرپرست دھکے کھانے سے بچ جائیں اور اپنا دھیان ایڈمیشن کی طرف رکھیں۔

علاوہ ازیں والدین نے کراچی کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس معاملے پر خاموشی کو قابل تشویش قرار دیتے ہوئے ایم کیو ایم، پی ایس پی، جماعت اسلامی سمیت دیگر کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی اس معاملے پر آواز اٹھا کر طلبہ کی مشکل کو حل کروائیں۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

ٹویٹر: twitter.com/zarayenews

فیس بک: facebook/zarayenews

انسٹاگرام : instagram/zarayenews

یوٹیوب: @ZarayeNews

اپنا تبصرہ بھیجیں: