گونگے بہرے بچوں‌ کا ایک پھونک سے علاج کا دعویٰ، یہ شخص کون ہے اور کتنی بار جیل گیا، کتنے ممالک سے نکالا گیا؟ جانیے

گونگے بہرے بچوں‌ کا ایک پھونک سے علاج کا دعویٰ، یہ شخص کون ہے اور کتنی بار جیل گیا، کتنے ممالک سے نکالا گیا؟ جانیے

ان دنوں ڈاکٹر ملا علی کلک کردستانی پاکستان میں موجود ہیں، وہ پہلے لاہور میں تھے اور اب پشاور پہنچ گئے ہیں۔

اس حوالے سے اُن کی ویڈیوز واٹس ایپ اور سماجی رابطوں پر شیئر کی جارہی ہیں جن میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ انہوں نے منہ میں انگلی ڈال کر اور چند آیات پڑھ کر ایک پھونک سے بچے کی سماعت کو بحال کیا۔

اس حوالے سے اب تک کوئی براہ راست شہادت سامنے نہیں آئی، دو لوگوں کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو کی بابت اُن سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے صاف انکار کیا اور بتایا کہ یہ فلاں کا فلاں اور فلاں ہے، جس سے اس بات کو تقویت مل رہی ہے کہ یہ محض نظروں کا دھوکا ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر ملا علی کلک کردستانی کے بارے میں ہماری ویب کی جانب سے ایک معلوماتی تحریر شائع کی گئی جو لاہور میں آئے ہوئے ہیں اور گونگوں، بہروں کا اپنی ایک پھونک سے علاج کر رہے ہیں جو کہ سراسر جعلی ہیں اور لوگ ان پر اس لئے یقین کر بیٹھے ہیں کہ وہ عراق سے آئے ہوئے ہیں۔

5 سال قبل کردستان (عراق) میں ایک شخص مشہور ہوا، جو خود کو طبِ نبوی کا ماہر اور روحانی معالج کہنے لگا یہ اربیل کے مضافات میں واقع کلک نامی علاقے میں اپنی کلینک کھول کر بیٹھا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا میں اس کی ویڈیوز وائرل ہونے لگیں۔ جن میں گونگوں، بہروں، دماغی معذوروں اور مختلف امراض کا شکار بیماروں کو ایک ہی پھونک یا حلق میں انگلی ڈال کر ٹھیک ہوتے دکھایا جانے لگا۔

اس طرح ان کے یوٹیوب پر سبسکرائبرز کی تعداد 2 ملین سے زیادہ ہوگئی۔ یہ ڈاکٹر مالا کردستانی بیچارے کبھی اسکول گئے نہ مدرسہ، البتہ یہ ایک مسجد کے خادم تھے مگر کام پر صرف 3 دن جاتے تھے اور کچھ قرآنی آیات کو یاد کرلیا جن کا تلفظ اور تجوید بھی مکمل اور صحیح نہیں ہے۔اس کا دعویٰ ہے کہ میں ہر قسم کے مریض کو صرف اور صرف ایک مرتبہ میں ہی ٹھیک کر سکتا ہوں۔ انہوں نے اپنے یوٹیوب چینل کے بائیو ڈسکرپشن میں بھی یہی لکھا ہے کہ میں تمام امراض یعنی نابیناپن، بہرہ پن، گونگاپن، کینسر، دماغی خلل، گردے کے جملہ امراض، امراض قلب و جگر، ریڑھ کی ہڈی کے مسائل، خواتین کے مسائل، جنسی امراض اور ایڈز کے ساتھ ساتھ جن، جنات وغیرہ کا علاج کرسکتا ہوں۔

مالا کردستانی کے مطابق عراق میں ان سے شفاء پانے والے لاکھوں ان کے مرید ہیں۔ 3 مئی 2017ء کو ایک کرد خاتون کو اربیل کے اسپتال میں داخل کر دیا گیا تھا جہاں معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس کا پیٹ ٹشو پیپرز سے بھرا ہوا تھا، خاتون نے وہاں کے ڈاکٹروں کو بتایا کہ ڈاکٹر ملا علی کلک کردستانی نے مجھے موٹاپے سے بچنے کے لئے ٹشو پیپر کھانے کا مشورہ دیا تھا، جب ڈاکٹر ملا علی کلک کردستانی کو پکڑا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ فرماتے ہیں میں نے ایسا کچھ نہیں کہا اور خاتون نے نسخے پر ٹھیک سے عمل نہ کیا۔

اس واقعے کے بعد ان کو پولیس نے گرفتار کرلیا، لیکن چونکہ ان کی جان پہچان اچھی ہوگئی تھی تو جیل سے باہر نکل آیا اور عراق کے لوگوں سے کہا تم نے میری قدر نہیں کی میں یہاں سے جا رہا ہوں اور پھر یہ پچھلے سال مدینہ چلے گئے۔ وہاں پاکستانیوں کو گھیر بیٹھے اور کسی گونگے، بہرے کا علاج کر رہے تھے کہ پولیس نے ان کو 5 فروری 2020ء کو گرفتار کرلیا۔

مدینہ منورہ کی پولیس کے مطابق: ” اس عراقی شہری کو مسجد نبوی کے زائرین کو دھوکہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، پھر ان کو سعودیہ سے نکال دیا گیا اور یہ ترکی چلے گئے۔ لیکن اب یہ پاکستان میں آئے ہوئے ہیں اور پاکستانی اندھوں اور بہروں کو ٹھیک کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں

کویت کے عالم دین مفتی شیخ احسان العتیبی نے ان سے متعلق ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس کے تحت: ٭ ڈاکٹر ملا کے پاس کوئی اکیڈمک سرٹیفکیٹ نہیں ہے، اس کی تلاوت ہی غلط ہے۔

یہاں یہ بات بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے چند اسکالرز اور طبیب بھی اسی طرح علاج کرتے ہیں، ہر سال کراچی سمیت مختلف شہروں میں پروگرام شفا کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے، جس میں مسیحی برادری کے افراد شرکت کرتے ہیں۔

دوسری جانب ماہرین نفسیات اور اسپیشل ایجوکیشن کے ماہرین نے اس طریقہ علاج کو نظر کا دھوکا، جعل سازی اور نوسربازی قرار دیتے ہوئے اسے اُسی طرح کا میجک قرار دیا جیسے عام طور پر کسی تقریب میں موجود جادوگر کرتا ہے اور وہ آستین سے کبوتر نکال کر دکھاتا ہے۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

ٹویٹر: twitter.com/zarayenews

فیس بک: facebook/zarayenews

انسٹاگرام : instagram/zarayenews

یوٹیوب: @ZarayeNews

اپنا تبصرہ بھیجیں: