پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، وفاقی حکومت کی حمایت پر ایم کیو ایم ہدفِ تنقید، صحافیوں کے تجزیوں پر حامیوں کا دفاع

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے حکومت کی حمایت کی یقین دہانی کے بعد اسلام آباد اور پنجاب کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے اپنے سیاسی تجزیات پیش کیے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر رضوان رضی، مطیع اللہ جان سمیت دیگر نے حکومتی حمایت کو ایم کیو ایم کی سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے۔
مطیع اللہ جان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ میں کہا کہ ’جن قابو شدہ کن ٹُٹوں کو فائلیں دکھا کر انکے شھر کی ۱۴ قومی اسمبلی کی سیٹیں چوری کر کے تبدیلی لائی گئی ان کو اب ای وی ایم پر سپورٹ بدلے وہ ۱۴ سیٹیں واپس دینے کا وعدہ کیا جا سکتاہے۔ مگر یہ بھی غلط فہمی ہے کہ توڑی گئی خطرناک پارٹی کو مرضی کے امیدواروں کو ٹکٹ بغیر سیٹیں واپس ملیں گی‘۔
اس ٹویٹ پر رضوان رضی نے اپنے خیال کا تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’مطیع اللہ بھائی! ان کن ٹٹوں اور پانچویں نسل کی دوغلی ابلاغی جنگ کے مجاہدین کی گالیاں کس قدر ملتی جلتی ہیں۔ لگتا ہے کسی کے پشاور تبادلے کے بعد ان یتیموں کا تبادلہ کراچی کردیا گیا ہے‘۔
جن قابو شدہ کن ٹُٹوں کو فائلیں دکھا کر انکے شھر کی ۱۴ قومی اسمبلی کی سیٹیں چوری کر کے تبدیلی لائی گئی ان کو اب ای وی ایم پر سپورٹ بدلے وہ ۱۴ سیٹیں واپس دینے کا وعدہ کیا جا سکتاہے۔ مگر یہ بھی غلط فہمی ہے کہ توڑی گئی خطرناک پارٹی کو مرضی کے امیدواروں کو ٹکٹ بغیر سیٹیں واپس ملینگی۔
— Matiullah Jan (@Matiullahjan919) November 16, 2021
رضوان رضی نے طنزیہ انداز میں ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ ’ ایم کیو ایم دراصل پنڈی والوں کافرنچائزتھا،بہت زیادہ منافع کے باعث کمپنی نے قبضہ میں لے لیاتھا، یہ ماڈل پراجیکٹ تھا، جسے بڑھتے منافع کے باعث 2018 میں پورے ملک میں لانچ کروایا گیا۔ لیکن فلاپ ہوگیا۔ اب کمپنی منتیں ترلےکرکےسابقہ شرائط پر فرنچائزواپس کرنےلگی ہے‘۔ ڈپٹی سیاسی تجزیہ کار
ایم کیو ایم دراصل پنڈی والوں کافرنچائزتھا،بہت زیادہ منافع کے باعث کمپنی نے قبضہ میں لے لیاتھا، یہ ماڈل پراجیکٹ تھا، جسے بڑھتے منافع کے باعث 2018 میں پورے ملک میں لانچ کروایا گیا۔ لیکن فلاپ ہوگیا۔ اب کمپنی منتیں ترلےکرکےسابقہ شرائط پر فرنچائزواپس کرنےلگی ہے۔
ڈپٹی سیاسی تجزیہ کار😊— Rizwan Razi™ (@realrazidada) November 17, 2021
دوسری جانب ایم کیو ایم کے کارکنان اور کراچی سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین نے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، ان میں سے کچھ نے بہت سخت زبان استعمال کی جبکہ بہت سو نے منطقی انداز سے بھی جواب دیا۔
ب چ کو صیحی کوٹا تھا لیجا کر کڑوے اس ہی قابل ہے https://t.co/QEXNRb37qb
— عمیر (آزاد پنچھی) 🇵🇰 (@Ommiyar) November 17, 2021
رضوان رضی نے اپنے گھر اولاد کی پیدائش پر بھی یہی کہا تھا کہ لگتا ہے ایم کیو ایم بحال ہوگئ یے۔
"تمام بھائیوں سے پیشگی معزرت" https://t.co/wZIBKRM81K— ترجمان مقبوضہ کراچی (@MaqboozaKhi) November 17, 2021
لینے کے ٹائم سارے کراچی والے ایک پیچ پر اجاتے ہیں مطیع اللہ جان کے مطابق😜 https://t.co/b5rVUpR6OW
— عمیر (آزاد پنچھی) 🇵🇰 (@Ommiyar) November 17, 2021
رضوان رضی نے صرف ایم کیو ایم لکھا تھا گالیاں سب سے کھا رہا ہے اتحاد میں ہی برکت ہے 😜
— عمیر (آزاد پنچھی) 🇵🇰 (@Ommiyar) November 17, 2021
