پارلیمنٹ‌ کا مشترکہ اجلاس، وفاقی حکومت کی حمایت پر ایم کیو ایم ہدفِ‌ تنقید، صحافیوں‌ کے تجزیوں پر حامیوں کا دفاع

پارلیمنٹ‌ کا مشترکہ اجلاس، وفاقی حکومت کی حمایت پر ایم کیو ایم ہدفِ‌ تنقید، صحافیوں‌ کے تجزیوں پر حامیوں کا دفاع

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے حکومت کی حمایت کی یقین دہانی کے بعد اسلام آباد اور پنجاب کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے اپنے سیاسی تجزیات پیش کیے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر رضوان رضی، مطیع اللہ جان سمیت دیگر نے حکومتی حمایت کو ایم کیو ایم کی سنگین غلطی قرار دیتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے۔

مطیع اللہ جان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ میں کہا کہ ’جن قابو شدہ کن ٹُٹوں کو فائلیں دکھا کر انکے شھر کی ۱۴ قومی اسمبلی کی سیٹیں چوری کر کے تبدیلی لائی گئی ان کو اب ای وی ایم پر سپورٹ بدلے وہ ۱۴ سیٹیں واپس دینے کا وعدہ کیا جا سکتاہے۔ مگر یہ بھی غلط فہمی ہے کہ توڑی گئی خطرناک پارٹی کو مرضی کے امیدواروں کو ٹکٹ بغیر سیٹیں واپس ملیں گی‘۔

اس ٹویٹ پر رضوان رضی نے اپنے خیال کا تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’مطیع اللہ بھائی! ان کن ٹٹوں اور پانچویں نسل کی دوغلی ابلاغی جنگ کے مجاہدین کی گالیاں کس قدر ملتی جلتی ہیں۔ لگتا ہے کسی کے پشاور تبادلے کے بعد ان یتیموں کا تبادلہ کراچی کردیا گیا ہے‘۔

رضوان رضی نے طنزیہ انداز میں ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ ’ ایم کیو ایم دراصل پنڈی والوں کافرنچائزتھا،بہت زیادہ منافع کے باعث کمپنی نے قبضہ میں لے لیاتھا، یہ ماڈل پراجیکٹ تھا، جسے بڑھتے منافع کے باعث 2018 میں پورے ملک میں لانچ کروایا گیا۔ لیکن فلاپ ہوگیا۔ اب کمپنی منتیں ترلےکرکےسابقہ شرائط پر فرنچائزواپس کرنےلگی ہے‘۔ ڈپٹی سیاسی تجزیہ کار

دوسری جانب ایم کیو ایم کے کارکنان اور کراچی سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا صارفین نے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، ان میں سے کچھ نے بہت سخت زبان استعمال کی جبکہ بہت سو نے منطقی انداز سے بھی جواب دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: