سپریم کورٹ‌ کو چونا لگانے کی تیاری، ایس بی سی اے کے راشی افسران اور بلڈر جیت گئے، ایماندار خاتون افسر کا تبادلہ

سپریم کورٹ‌ کو چونا لگانے کی تیاری، ایس بی سی اے کے راشی افسران اور بلڈر جیت گئے، ایماندار خاتون افسر کا تبادلہ

 کراچی کے ضلع وسطی میں غیر قانونی تعمیرات کرنے والے بلڈرز اور ایس بی سی اے کے راشی افسران نے اپنے گٹھ جوڑ سے ایک اور کامیابی حاصل کرلی۔

ضلع وسطی کے علاقے لیاقت آباد میں بلڈرز کے خلاف میدان میں آنے والی خاتون اسسٹنٹ کمشنر ثنا طارق کو بلڈرز اور ایس بی سی اے کے افسران پیسوں سے نہ خرید سکے تو گٹھ جوڑ سے ایک لمبی ڈیل کی گئی جس کے تحت اُن کا تبادلہ کردیا گیا۔

ثنا طارق نے اسسٹنٹ کمشنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد لیاقت آباد میں 80 ،چالیس اور دیگر  رہائشی پلاٹوں پر تعمیر کی گئی کمرشل تعمیرات کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے انہیں مسمار کیا تھا، جس پر متعدد بار انہیں سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے بلڈرز کی جانب سے دباؤ بھی ڈالا گیا تھا۔

بلڈرز نے کمشنر اور اس سے بڑی سطح پر ڈیل کر کے خاتون کمشنر کا تبادلہ کروایا، جس کے بعد اب ایک بار پھر لیاقت آباد میں غیر قانونی تعمیرات کا آغاز ہوگیا ہے اور بلڈرز نے بغیر نقشے کے کھلے عام گراؤنڈ پلس پانچ یا اُس سے زیادہ منزلہ عمارات تعمیر شروع کردیں۔ ثنا طارق نے گزشتہ ہفتے متعدد عمارتوں پر غیر قانونی تعمیرات کے نوٹس چسپاں کیے اور تین منزل سے اوپر بنائی گئی عمارتوں کے خلاف کارروائی کا دو ٹوک اعلان کیا تھا۔

ذرائع کو ملنے والی اطلاع کے مطابق ایماندار اسسٹنٹ کمشنر کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد بلڈرز اور راشی افسران نے پارٹی کی جبکہ نئے آنے والے سے پہلے ہی سیٹنگ کرنے کی تیاری شروع کردی۔

غیر قانونی تعمیرات میں ملوث بلڈرز کے خلاف کرمنل کیس کے اندراج کا آغاز، پہلی ایف آئی آر درج

واضح رہے کہ لیاقت آباد کے تمام ہی علاقوں میں بلڈرز سرگرم ہے، جو سیاسی جماعتوں کے کارکنان کی آشیرباد، صحافت میں شامل کالی بھیٹروں، نام نہاد فلاحی تنظیموں کے تعاون سے ناقص اور بلند و بالا عمارات کو تعمیر کررہی ہیں، ان عمارات نے نہ صرف لیاقت آباد کے انفراسٹریکچر کو تباہ کردیا۔ یہ عمارات کسی بھی زلزلے یا حادثے کی صورت میں کئی شہریوں کی جان لینے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

ایس بی سی اے کے راشی افسران گراؤنڈ پلس فائیو یا اُس سے زیادہ لمبی عمارت کی تعمیر پر 12 سے پندرہ لاکھ روپے فی عمارت پیکج وصول کرتے ہیں، جس کے بعد بلڈر بنا کسی خوف کے عمارت تعمیر کرتا ہے اور اُسے یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ عمارت کو کسی صورت نہیں توڑا جائے گا۔

یہاں یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے غیرقانونی تعمیرات کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، تین ہفتے قبل وزیربلدیات نے بھی ایس بی سی اے حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف سخت ایکشن لیں اور بلڈرز ، تعاون نہ کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں۔ انہوں نے ایف آئی آر کٹوانے کی ہدایت بھی کی تھی۔

غیر قانونی تجاوزات کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے والی این جی او سے ریکارڈ طلب

حیران کن طور پر غیرقانونی تعمیرات کے خلاف ایکشن کے لیے جب ناصر حسین شاہ نے ہدایت کی تو سیاسی جماعتوں اور اُن کے قائدین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا، کراچی کی نمائندہ جماعت ایم کیو ایم پاکستان، پی ایس پی، پیپلزپارٹی، مسلم لیگ فنکشنل کے عہدیداران خود بلڈرز ہیں جبکہ کارکنان ان بلڈرز کی سہولت کاری اور مکمل معاونت فراہم کرتے ہیں۔  ماضی میں بھی جب ایس بی سی اے یا کسی ادارے کے افسر نے غیرقانونی تعمیرات کے خلاف ایکشن کے لیے ڈنڈا اٹھایا اور بلڈرز اور کرپٹ مافیا نے گٹھ جوڑ سے اُس کا تبادلہ کرادیا ہے۔

لیاقت آباد کے رہائشیوں نے سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے غیرقانونی تعمیرات کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایماندار افسران ہی اس گھٹ جوڑ کو ختم کرسکتے ہیں۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

ٹویٹر: twitter.com/zarayenews

فیس بک: facebook/zarayenews

انسٹاگرام : instagram/zarayenews

یوٹیوب: @ZarayeNews

اپنا تبصرہ بھیجیں: