ایماندار افسر کا تبادلہ ہوتے ہی لیاقت آباد میں غیر قانونی تعمیرات زور و شور سے جاری، بلڈرز بے لگام، سپریم کورٹ نوٹس لے

ایماندار خاتون کا تبادلہ کروا کے بلڈر پھر بے لگا، غیر قانونی تعمیرات کا کام دھڑلے سے جاری

کراچی: شہر قائد کے ضلع وسطی (ڈسٹرکٹ سینٹرل) کے علاقے لیاقت آباد کی ایماندار خاتون افسر کا تبادلہ کروانے کے بعد بلڈرز پھر شیر بن گئے۔

لیاقت آباد کے تمام ہی علاقوں میں بلڈرز نے اپنی غیر قانونی روکی ہوئی تعمیرات کا دوبارہ زور و شور کے ساتھ آغاز کردیا ہے۔

اے سی کی ہدایت پر جن غیر قانونی عمارتوں پر آپریشن کیا گیا تھا، دو روز میں ان کی عمیرات شروع کردی گئیں ہیں۔

لیاقت آباد کے بلڈرز کا ماننا ہے کہ انہیں اب کھلی چھٹی مل گئی ہے، وہ بغیر نقشے، پلاننگ اور سرٹیفیکٹ کے 80 گز کے پلاٹ پر 6 منزلہ ناقص میٹریل والی عمارت تعمیر کرسکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بلڈرز نے کرپٹ سرکاری افسران، سیاسی جماعت کے عہدیداران اور وزرا کے گٹھ جوڑ سے ایماندر افسر کا تبادلہ کروایا، جس کی اوپر بھاری رقم پہنچائی گئی ہے۔

تبادلہ ہونے کے فوری بعد بلڈرز نے پارٹی کی اور پھر انہیں ایس بی سی اے کی طرف سے کچھ بھی ہرلو کی اجازت دے دی گئی۔ لیاقت آباد سی ون ایریا کے پلاٹ نمبر 37/3 کے دو پلرز کو نقشہ نہ ہونے ہر گرایا گیا تھا، جس کا ملبہ صاف کرنے کے بعد اب جگاڑی کام شروع کردیا ہے۔

اس پلاٹ پر کام کرنے والے بلڈر کا سیاسی تعلق ہے، جس کی بنیاد پر ایس بی سی اے، پولیس میں بھی اس کی جان پہچان ہے۔

سپریم کورٹ‌ کو چونا لگانے کی تیاری، ایس بی سی اے کے راشی افسران اور بلڈر جیت گئے، ایماندار خاتون افسر کا تبادلہ

لیاقت آباد کے مکینوں کی چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ وہ غیر قانونی تعمیرات کو رکوانے اور اسے مستقل ختم کرنے کی ہدایت کریں جبکہ عمارتوں کے میٹریل اور فٹنس کو بھی چیک کرایا جائے کیونکہ کسی حادثے کی صورت میں کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: