اداریہ ، جسٹس (ر) ثاقب نثار کی آڈیو پر دو قسم کے تاثرات

اداریہ ، جسٹس (ر) ثاقب نثار کی آڈیو پر دو قسم کے تاثرات

ایک روز قبل جنگ گروپ سے وابستہ رہنے والے سابق تحقیقاتی صحافی احمد نورانی اور اُن کے ادارے فیکٹ فوکس کی جانب سے سابق چیف جسٹس (ر) ثاقب نثار کی آڈیو شیئر کی گئی۔

اس آڈیو میں وہ نوازشریف اور مریم نواز کو سزا دینے کے حوالے سے گفتگو کررہے  تھے، یہ آڈیو لیک ہونے کے بعد دو قسم کے تاثرات سامنے آئے۔

ایک طبقے نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ثاقب نثار کی ویڈیو کسی پلاننگ کے تحت لیک ہوئی، یعنی اس کے پیچھے لوگ ملوث ہیں۔ ایسے افراد نے دیگر لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ سب دیکھ لیں کل کو ساری صورت حال سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب ایک طبقہ اس کو جعلی اور ترمیم شدہ قرار دے رہا ہے، جس کا ثبوت اب سے کچھ دیر قبل وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے جاری کیا۔ حکومتی وزیر کی جانب سے شیئر کردہ ثبوتی ویڈیو کے  مطابق ثاقب نثار کی یہ گفتگو ایک تقریب کی تھی، جس کے خاص حصے کو اٹھا کر تاثر دیا گیا ہے۔

ان دونوں طبقات کے دعوے اور باتیں اپنی طرف مگر ایک منٹ کو اگر مان لیا جائے کہ یہ سب پلاننگ کے تحت ہورہا ہے اور آڈیو ، ویڈیو دینے میں کسی ’طاقت ور‘  کا ہاتھ ہے تو یہ درست کیسے ہوسکتی ہے کیونکہ یہی طبقہ اس طاقت ور کو نوازشریف ، مریم کے خلاف فیصلوں پر غلط قرار دیتا رہا ہے۔

اس سوچ کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ پر پاناما جے آئی ٹی بنا کر اس کا فیصلہ جاری کیا گیا تھا اور ججز نے بھی اسی کے مطابق فیصلہ پڑھا تھا۔

یاد رہے کہ ثاقب نثار نے اپنی آڈیو کے خلاف فی الحال ایف آئی اے جانے کا اعلان نہیں کیا، انہوں نے وضاحت دی کہ آڈیو وہ سُن چکے ہیں، جس میں اُن کی آواز اور گفتگو نہیں ہے۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

ٹویٹر: twitter.com/zarayenews

فیس بک: facebook/zarayenews

انسٹاگرام : instagram/zarayenews

یوٹیوب: @ZarayeNews

اپنا تبصرہ بھیجیں: