Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں 1200 مریضوں کے لیے صرف ایک بستر دستیاب | زرائع نیوز

سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں 1200 مریضوں کے لیے صرف ایک بستر دستیاب

سندھ کے سرکاری اسپتالوں کی حالتِ زار، 1200 مریضوں کے لیے ایک بستر دستیاب

سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں 1200 مریضوں کے لیے ایک بستر دستیاب ہے جبکہ عوام کو سب سے زیادہ شکایات محکمہ صحت سے متعلق ہی ہیں، یہ انکشاف محتسب اعلیٰ کی سالانہ رپورٹ میں ہوا ہے۔

محتسب اعلیٰ کی سالانہ رپورٹ میں محکمہ صحت سے متعلق حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے بعد سب سے زیادہ عملہ محکمہ صحت میں موجود ہے جبکہ شہریوں کو سب سے زیادہ شکایت محکمہ صحت سے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سندھ میں 1782 بنیادی صحت کے مراکز اور ڈسپنسریز ہیں، طبی مراکز میں 41 ہزار 82 بستر ہیں،گزشتہ 30 برسوں میں 5 ہزار 790 شکایات موصول ہوئیں، ایک ہزار 784 شکایات پر تحقیقات کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق اسپتالوں میں ادویات کی عدم فراہمی، ناتجربہ کار عملےکی بھی شکایات موصول ہوئیں، اسپتالوں میں تقرریوں اور تبادلے پر بھی شکایت ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسپتالوں میں طبی فضلہ ٹھکانے لگانے کا غیر مناسب انتظام ہے، فنڈز کی عدم فراہمی، عملےکی کمی، مریضوں کا بڑھتا بوجھ سمیت کئی مسائل ہیں، بہترین طبی سہولتوں کا فقدان ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپتالوں کے شعبہ حادثات میں بھی دوائیں فراہم نہیں کی جاتیں، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن بھی ذمہ داری ادا کرنے سے قاصر ہے۔

بشکریہ جیو نیوز اردو


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

ٹویٹر: twitter.com/zarayenews

فیس بک: facebook/zarayenews

انسٹاگرام : instagram/zarayenews

یوٹیوب: @ZarayeNews