کراچی، انٹر میں‌ داخلے کی متنازع پالیسی، والد کے بے فارم کی شرط سے والدین اور میٹرک کے کامیاب طلبہ پریشان، کالجز احکامات ماننے سے انکاری

کراچی، انٹر میں‌ داخلے کی متنازع پالیسی، والد کے بے فارم کی شرط سے والدین اور میٹرک کے کامیاب طلبہ پریشان، کالجز احکامات ماننے سے انکاری

کراچی: محکمہ تعلیم سندھ اور ڈائریکٹر کالجز کی جانب سے میٹرک میں کامیاب ہونے والے طلبہ کے لیے اس قدر سخت داخلہ پالیسی متعارف کرائی گئی، جس سے وہ اپنی کامیابی پر پریشان ہورہے ہیں۔

کراچی کے مختلف اضلاع سے میٹرک امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والے ڈیڑھ لاکھ سے زائد طلبہ کو پہلے ہی ڈومیسائل اور پی آر سی بنوانے میں مسائل کا سامنا ہے کیونکہ ڈپٹی کمشنر آفس میں عملہ اُن کے اور والدین کے ساتھ تعاون نہیں کررہا جبکہ ایجنٹوں نے فی فائل کی قیمت چار سو سے پندرہ سو اور دوہزار کردی ہے۔

ڈومیسائل بنوانے اور اس کے حصول کے لیے سب سے زیادہ ڈسٹرکٹ ویسٹ متاثر ہے، جبکہ اسی طرح کی شکایت وسطی، شرقی، کورنگی ملیر سے بھی موصول ہوئیں، جس پر معلوم کیا گیا تو ڈسٹرکٹ سینٹرل کے ڈپٹی کمشنر نے اقدامات کر کے معاملے کو پہلے سے بہتر کرلیا ہے مگر طلبہ اور والدین کی پریشانی مکمل ختم نہ ہوسکی۔ اس سے قبل والدین اور طلبہ مطالبہ کرچکے ہیں کہ اُن کے لیے ڈومیسائل کا حصول آسان بنایا جائے۔

ڈپٹی کمشنر آفسز میں سب سے زیادہ شکایات ضلع ویسٹ سے موصول ہوئیں ہیں، جہاں سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے دعویٰ کیا کہ انہیں ڈومیسائل جاری نہیں کیا جارہا اور ہر چکر پر کوئی نئی شرط عائد کردی جاتی ہے۔

اب ڈائریکٹر کالجز اور محکمہ تعلیم کے افسران کی آپسی چپقلش نے والدین کو پریشان کردیا ہے کیونکہ کالجز ڈومیسائل کی چھوٹ کا اجازت نامہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں۔

حیران کن طور پر ڈائریکٹر کالجز کی جانب سے طلبہ کے داخلے کے لیے جو شرائط عائد کی گئیں اُن میں سے کچھ بہت ہی متنازع ہیں۔ ڈائریکٹرز کالجز کے مطابق طالب علم کے والد کا بے فارم، شناختی کارڈ، ڈومیسائل بھی جمع کرانا ہوگا۔

اعلیٰ حکام کے نوٹس اور احکامات جاری ہونے کے باوجود کراچی کے مختلف کالجز نے اپنے طور پر داخلہ شرائط عائد کی ہوئیں ہیں، جن میں وہ طالب علم اور والدین کے اصل کاغذات بشمول ڈومیسائل طلب کررہے ہیں اور اس کی تصدیق یا واپسی کے حوالے سے کوئی وضاحت جاری نہیں کررہے جبکہ کیپ پالیسی میں ایسی کوئی شرائط درج نہیں کی گئیں ہیں۔

انٹر داخلے کے لیے ڈومیسائل لازمی، میٹرک کے کامیاب ڈیڑھ لاکھ طلبہ دشواریوں‌ کا شکار، خصوصی ڈیسک کے قیام کا مطالبہ

ضلع ویسٹ کے مختلف کالجز کی یہ شکایات بھی موصول ہوئیں کہ وہاں کے کالجز نے طالب علموں کو تمام اصلی کاغذات جمع کروانے کی ہدایت کی جبکہ ضلع وسطی کے کچھ کالجز بھی اسی شرط پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ایسی صورت میں والدین اور طلبہ دہری اذیت کا شکار ہیں اور انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ متنازع داخلہ پالیسی کو ختم کر کے ڈومیسائل کی مہلت پر عمل درآمد کے لیے ہدایات کریں اور والد کے بے فارم جیسی غیر ضروری شرائط کو ختم کریں۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

ٹویٹر: twitter.com/zarayenews

فیس بک: facebook/zarayenews

انسٹاگرام : instagram/zarayenews

یوٹیوب: @ZarayeNews

اپنا تبصرہ بھیجیں: