کراچی، اسکیم 33 میں‌ گھر میں‌ گھس کر خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی، ایم کیو ایم پاکستان کی خاموشی پر ذمہ دار کا صبر لبریز

کراچی، اسکیم 33 میں‌ مبینہ اجتماعی زیادتی کا واقعہ، ایم کیو ایم پاکستان کی خاموشی پر کارکنان رنجیدہ، آڈیو میسج سامنے آگیا

کراچی کے علاقے احسن آباد اسکیم 33 میں مبینہ طورپر مسلح افراد نے گھر میں داخل ہوکر خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

اس بات کا انکشاف ایم کیو ایم پاکستان کے ذمہ نے خود کیا اور بتایا کہ جب متاثرہ اہل خانہ کو مقدمہ اندراج پر رضا مند کیا تو پاکستان پیپلزپارٹی کی محکمہ کمیٹی آڑے آگئی۔

ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت اور کارکنان کے نام جاری اپنے آڈیو پیغام میں کونین رضوی نے بتایا کہ وہ احسن آباد اسکیم 33 یوسی اکتیس کی کمیٹی ممبر ہیں، اُن کی یوسی میں قائم اللہ بخش یونٹ کی حدود میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔

کونین رضوی کے مطابق آٹھ سے دس موٹرسائیکلوں پر سوار افراد گھر میں داخل ہوئے انہوں نے ڈکیتی کی اور خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے بعد میں نے ٹاؤن کے ذمہ دار ابوالحسن بھائی کو فون پر ساری بات بتائی اور رضا بھائی نے ایم کیو ایم کی سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن تنویر بھائی جبکہ میں نے مرکزی رکن پرویز بھائی کو فون کر کے ساری صورت حال بتائی۔

آٹھ سے دس موٹرسائیکل سواروں نے گھروں میں گھس کر ڈکیتیاں کیں اور خواتین کی عصمت دری کی، انہیں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

کونین رضوی نے بتایا کہ پہلے علاقے میں ڈکیتیوں کی وارداتیں عام تھیں، ان واقعات کے حوالے سے میں نے فرقان بھائی (سی او سی انچارج) کو تفصیلی پیغام واٹس ایپ کی مگر وہاں سے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں آیا، میں نے انہیں بتایا کہ یوسی اکتیس کا ذمہ دار کونین رضوی ہوں۔

ایم کیو ایم کے عہدیدار نے بتایا کہ ایک خاتون جنہوں نے ابھی کونسلر کی نشست کے لیے فارم جمع کروایا وہ یونٹ پر آکر بہت روئیں اور ہاتھ جوڑ کر عوام کے لیے کھڑے ہونے کی اپیل کی مگر مرکزی نے ٹاؤن ذمہ دار اقبال بھائی کو رپورٹ بنا کر بھیجنے کی ہدایت کی، یہ معاملہ رپورٹ اور کاغذی باتوں سے بہت بڑا ہے جس پر مرکز اور تمام ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھیوں کو یہاں کھڑا ہوجانا چاہیے تھا۔

کونین رضوی نے ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت سے سوال کیا کہ ’ساتھی دل جوڑ کر کام کررہے ہیں اور ایم کیو ایم کا ایک نیا چہرہ سامنے لارہے ہیں، مگر ہم اب کہاں ہیں، ایسے واقعات کے بعد ہم کہاں کھڑے ہیں، متاثرہ گھرانے کی کسی سے بھی وابستگی ہو مگر وہ مہاجر ہیں‘۔

انہوں نے اپنی مزید ذمہ داری سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ  مجھے کاغذی ذمہ داری نہیں چاہیے، میں بھی بہت کڑے وقت کا سامنا کرچکا ہوں مگر اس سے بری صورت حال کبھی نہیں دیکھی۔ ایم کیو ایم پاکستان سے مخاطب ہوں کہ کچھ کرسکتے ہیں تو کرلیں۔

دوسری جانب یہ اطلاع سامنے آئی کہ کہ قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے متاثرہ فیملی سے ملاقات کا پلان تشکیل دیا ہے، وہ جلد اپنے علاقائی ذمہ داران کے ساتھ متاثر خاندان سے ملاقات کر کے انہیں انصاف کی یقین دہانی کرائیں گے۔


نوٹ: آپ اپنی خبریں، پریس ریلیز ہمیں ای میل zaraye.news@gmail.com پر ارسال کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں آپ ہمیں اپنی تحاریر / آرٹیکل اور بلاگز / تحاریر / کہانیاں اور مختصر کہانیاں بھی ای میل کرسکتے ہیں۔ آپ کی بھیجی گئی ای میل کو جگہ دی جائے گی۔

ٹویٹر: twitter.com/zarayenews

فیس بک: facebook/zarayenews

انسٹاگرام : instagram/zarayenews

یوٹیوب: @ZarayeNews

اپنا تبصرہ بھیجیں: