کراچی میں‌ مقیم سندھی برادری روشن خیال اور پُرامن ذہن کی مالک.. تجزیاتی رپورٹ‌ محبوب چشتی

کراچی میں‌ مقیم سندھی برادری روشن خیال اور پُرامن ذہن کی مالک.. تجزیاتی رپورٹ‌ محبوب چشتی

عام سندھی اور مراعات یافتہ سندھی میں زمین آسمان کا فرق ہے مراعات یافتہ سندھیوں میں بیش تر کرپشن میں ملوث ہیں

کراچی میں سالوں سے مقیم سندھی برادری کا ایک علیحدہ رخ ہے برسوں سے یہاں مقیم ہونے کی وجہ سے انتہائی پرامن ذہن کے مالک ہیں

سندھی بھائیوں کو بھی مصنوعی سوچ سے باہر آنا پڑے گا جس کا فائدہ چاہے مہاجر ہوں یا سندھی ان کے لیڈرزہی اٹھاتے ہیں

ملک میں لسانیت اور عصبیت کی حوصلہ شکنی ضروری،محبتوں کے کلچرز کو آگے لانے کیلیئے سب کواپناکردار اداکرنیکی ضرورت ہے

کراچی(رپورٹ:سیدمحبوب احمدچشتی )پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے پاکستان تاحال لسانی اکائیوں میں بٹا ہوا ہے، ایک دوسرے سے خائف لسانی اکائیوں میں سے کچھ پاکستان نہ کھپے کے نعرے بھی لگاتی رہتی ہیں اور واضح طور پر کشمور سے کراچی تک سندھ ایک ہے کے راگ الاپتی رہتی ہیں لیکن انہیں روکنے کیلئے واضح کوششیں نہیں کی گئیں، وزیراعلیٰ سندھ نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں پاکستانی سمجھو ایسے حالات پیدا نہ کرو کے ہم کچھ اور سوچیں یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ بظاہر ایسی کوئی صورتحال دکھائی نہیں دیتی سندھ میں جو چاہو آپ کرو کوئی پوچھنے والا نہیں اب تو کراچی اور شہری سندھ بھی سرکاری لحاظ سے آپ کنٹرول کر چکے ہیں ایسے میں اس قسم کا بیان سامنے آنا لسانیت کوفروغ دینے کے مترادف ہے مراعات یافتہ پیپلز پارٹی وسندھ حکومت پرمشتمل طرز فکراس صورتحال میں سندھی مہاجروں کو پھراسی مقام پرلاناچاہتے ہیں جہاں صرف مفاداتی سیاست کی بدولت اپنے اثاثوں میں مزیداضافے کیساتھ سیاست میں زندہ رہنے کی کاوشیں کے سواکچھ نہیں، نام نہادغیرعوامی سیاست برائے خدمت کے تصورکو پامال کرکے معصوم سندھی مہاجروں کواپنے مفادات کیلیئے استعمال کرناوطیرہ سیاست بنتاجارہاہے ایم کیوایم اورپیپلزپارٹی کی محاذآرائی چائے کی پیالی میں طوفان لانے کے مترادف ہے کب تک اس لسانی سیاست کے ذریعے سندھ کی سیاست میں آگ وخون کاکھیل کھیلاجاتارہیگااب نہیں کھبی نہیں کی فکرکوعام کرتے ہو ئے اس لسانی مفاداتی سوچ کے آگے فل اسٹاب لگاناہونگے عوامی خدمت کے بجائے اس قسم کے بیانات دئیے جانے لگے ہیں جو علیحدگی ومفاداتی پسند سوچ کی عکاسی کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی سیاست کے لحاظ سے مرکزی اہمیت کی حامل ہے جب تک معاملات اور حکومت کرنی ہو تو پیپلز پارٹی کا سہارا لیا جاتا ہے اور جب کوئی چیز مخالف ہونے لگتی ہے تو لسانی رنگ نمایاں ہونے لگتا ہے یعنی سکے کے دونوں رخ ایک ہی ہیں،اصل سندھی قوم ملک کی مظلوم قوم قرار دے دی جائے تو بیجا نہ ہوگا جنہیں کھوکھلے اور ایسے نعروں کے پیچھے لگا دیا گیا ہے جس کا سب سے بڑا نقصان خود سندھی قوم کو پہنچ رہا ہے بنیادی طور پر سندھی قوم مہمان نواز اور رسم ورواج کی پاسداری رکھنے والی قوم کا نام ہے لیکن ان کے دماغوں میں داخل کر دیا گیا ہے کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کو ووٹ نہ دیا تو اردو بولنے مہاجر تمہارا بیڑا غرق کر دیں گے تمہیں شہرقائدمیں ویزہ لے کر آنا پڑے گا، اس قسم کی باتوں سے ذہن خراب کر دئیے گئے ہیں جس کا فائدہ صرف سندھی قوم کا مراعات یافتہ طبقہ اٹھا رہا ہے عام سندھی تو جاہل یا کم تعلیم یافتہ رکھا گیا ہے کہ کہیں اس کی سوچ بیدار ہو جائے تو وہ اپنا اچھا برا سمجھنے لگے جس کا سیاسی نقصان بھی ہوسکتا ہے لہذا سرایت کئے جانے والا زہر آج بھی کام کر رہا ہے جبکہ سندھ میں بسنے والی قومیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ قوموں کے درمیان کوئی مسئلہ نہیں،مسئلہ ہے تو صرف اتنا کہ حقوق کی تقسیم برابری کی بنیاد پر ہو انٹرنیٹ کے اس دور میں ہر قوم یہ بات سمجھنے لگی ہے کہ باہم تصادم کیلئے ایک مخصوص بیج بودیا گیا ہے جو تیزی سے درخت بن کر نقصان کا سبب بن رہا ہے، کراچی وہ واحد شہر ہے جسے کسی سطح پر بھی پذیرائی نہیں ملتی البتہ کھانے کی بات ہوتو کراچی کو نوچ نوچ کر کھایا جاتا ہے، سندھی قوم میں احساس محرومی کی وجہ یہ ہے کہ ان کیلسانی ۔مفاداتی سوچ کیحامل لیڈرز کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ان کی سوچ کو محدود کئے ہوئے ہے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت ودیگر واقعات انہیں اس احساس محرومی سے باہر نہیں آنے دیتی، اس احساس کی وجہ سے وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں یہاں اس بات کو قطعی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ سندھ کی سرحدیں بھارت سے منسلک ہیں لہذا یہ احساس محرومی پاکستان کیلئے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے، محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جو حالات پیدا ہوئے وہ اس بات کے شواہد فراہم کرتے ہیں کہ معاملات سنگینی کی طرف بھی جاسکتے تھے کیونکہ اسوقت نعرے لگنا شروع ہوگئے تھے کہ پاکستان نہ کھپے جو بعد میں کسی نہ کسی طرح دبے، لیکن یہ سوچ دب سکتی ہے لیکن اسے ختم نہیں کیا جاسکتا اس کا فائدہ سیاسی جماعتیں اٹھا رہی ہیں اور اٹھاتی رہیں گی، وزیراعلی سندھ بھی اسوقت ایسا ہی کچھ کررہے ہیں عام سندھی اور مراعات یافتہ سندھی میں زمین آسمان کا فرق ہے مراعات یافتہ سندھیوں میں بیش تر کرپشن میں ملوث ہیں ان کی سوچ پیسے پر شروع ہو کر پیسے پر ختم ہوجاتی ہے ایسی مفاداتی سوچ پرجب کوئی ضرب لگاتا ہے تو وہ (سندھی مہاجر)کارڈز رویہ تبدیل کرلیتے ہیں اور اپنے دائرے میں معصوم سندھیوں کو بھی لے آتے ہیں جو قطعی باہم دست وگریباں نہیں ہونا چاہتے لیکن وڈیرانہ سوچ کے سامنے بے بس ہونے کی وجہ سے انہیں ایسا کرنا پڑتا ہے، کراچی میں سالوں سے مقیم سندھی برادری کا ایک علیحدہ ہی رخ ہے وہ برسوں سے یہاں مقیم ہونے کی وجہ سے انتہائی پرامن ذہن کے مالک ہیں اور دبے الفاظوں میں باہم دست وگریباں ہونے کے سخت خلاف ہیں ایکدوسرے سے روابط ہونے کے ساتھ ایکدوسرے کے گھر آتے جاتے ہیں یہاں تک مہاجروں اور سندھیوں کے درمیان شادیاں ہوچکی ہیں اور رشتہ دار ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کا بیحد احترام کرتے ہیں، مہاجروں میں بھی باہمی نفرتوں کوفروغ دینے والوں سے نفرت کا تناسب بڑھ چکا ہے ان کے نزدیک ایک دوسرے کا احترام لازم وملزوم کادرجہ رکھتا ہے مہاجروں کو بھی لال بتی کے پیچھے لگا دیا گیا تھا جس سے اب وہ باہر آچکے ہیں ایسے ہی سندھی بھائیوں کو بھی مصنوعی سوچ سے باہر آنا پڑے گا جس کا فائدہ چاہے مہاجر ہوں یا سندھی ان کے لیڈرز اٹھاتے ہیں، لیڈر وہ ہی بہتر ہوتا ہے جو عام آدمی کے مسائل پر سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہو،سندھ کے سیاسی لیڈرز کو یہ بات ذہن نشیں رکھنی چاہیئے کہ پاکستان کے قیام کیلئے خون کی ندیاں بہانے والے صرف کراچی، سندھ میں نہیں بلکہ چاروں صوبوں میں موجود ہیں جن کے خون میں شامل ہے کہ خون کے آخری قطرے تک ملک کی سالمیت پر کوئی آنچ نہ آنے دیں اس کیلئے انہیں کسی کے سر پر ہاتھ ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے بس یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کون پاکستان کو نقصان پہنچا رہا ہے کیونکہ ان کی تربیت کرتے وقت ہی بتادیا گیا تھاکہ”ملک بنانا ہمارا کام تھا ملک قائم رکھنا اور اسے بچانا تمہارا کام ہے سندھی اورمہاجر دانشوروں کواس تعصبی ولسانی سازشی طرزفکرکے خاتمے کے لیئے بلارنگ ونسل اپناکردار ادا کرناہوگالسانی اکائیوں کے ذہنوں پرچھائی خوف کی فضاکوختم کرناہوگاتاکہ اس ملک میں لسانیت اور عصبیت کی حوصلہ شکنی ہوسکے۔محبتوں کے کلچرکوآگے لانے کی کیلیئے سب کواپناکردار اداکرنیکی ضرورت ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں: