امت کے ملازمین کو واجبات کی ادائیگی

امت کے ملازمین کو واجبات کی ادائیگی کا مسئلہ ایک ہفتے میں حل کیا جائے، کے یو جے

رفیق افغان کی وصیت کے مطابق ملازمین کے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر پر کے یو جے کا اظہار تشویش

کے یو جے کے وفد کا امت کا دورہ، ملازمین اور انتظامیہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں

رفیق افغان کے صاحبزادے اور بھائی کی معاملے کو ایک ہفتے میں حل کرنے کی یقین دہانی، کے یو جے کا انتباہ

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی یونین آف جرنلسٹس نے روزنامہ امت میں ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے سلسلے میں رفیق افغان مرحوم کی وصیت پر عملدرآمد میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور روزنامہ امت کے مالکان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر وصیت کے مطابق ملازمین کے واجبات ادا کریں اس سلسلے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی کے یو جے نے روزنامہ امت سے وابستہ دو سینئر صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم کو درخواست دیئے جانے کی بھی سخت الفاظ میں شدید مذمت کی ہے اور درخواست فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی کی سربراہی میں کے یو جے کے ایک وفد نے روزنامہ امت میں واجبات کی ادائیگی میں تاخیر اور سینئر صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کے معاملے پر روزنامہ امت کے دفتر کا دورہ کیا اور میڈیا ورکرز اور انتظامیہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی جبکہ امت کے ڈائریکٹر ناصر افغان سے بھی معاملے پر فون پر بات کی گئی۔ وفد میں نائب صدر جاوید قریشی، سینئر جوائںٹ سیکرٹری یونس آفریدی اور کے یو جے کے سابق جنرل سیکریٹری احمد خان ملک شامل تھے۔ وفد سے ملاقات میں رفیق افغان مرحوم کے صاحبزادے علی حمزہ نے بتایا کہ رفیق افغان کی وصیت کے مطابق ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کے لیے راولپنڈی میں واقع پلاٹ کا سودا ہوگیا ہے اور اس کی ڈاون پیمنٹ کا پے آرڈر بھی بن کر آگیا تھا تاہم بعض معاملات کی وجہ سے وہ دوبارہ بنوایا جارہا ہے اور یہ معاملہ جلد حل ہوجائے گا۔ وفد نے انہیں بتایا کہ کے یو جے اس بات سے واقف ہے کہ اس معاملے میں خاندانی اختلافات کی وجہ سے تاخیر ہورہی ہے حالانکہ اس بات پر اتفاق ہوچکا تھا کہ پلاٹ کے فروخت کی رقم روزنامہ امت کے سینئر کارکن کے اکاونٹ میں منگوائی جائے گی اور وہیں سے تمام ملازمین میں تقسیم ہوگی لیکن غیرضروری طور پر اب اس معاملےکو طول دیا جارہا ہے اور ایک دفعہ پھر اکانٹ تبدیل کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ وفد نے واضح کیا کہ یہ تاخیری حربے کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہیں یہ معاملہ انتظامیہ اور ملازمین کے درمیان طے پاجانے والے فارمولے کے تحت ہی جلد از جلد حل کیا جائے۔ کے یو جے کے جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی نے اس معاملے پر امت کے ڈائریکٹر ناصر افغان سے بھی فون پر رابطہ کیا اور ان سے بھی معاملہ فوری طور پر حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ فہیم صدیقی نے ناصر افغان پر واضح کیا کہ کے یو جے کو رفیق افغان کے خاندانی تنازعات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ کے یو جے صرف رفیق افغان کی وصیت کے مطابق روزنامہ امت کے ملازمین کے واجبات کی فوری ادائیگی چاہتی ہے اور اس میں مزید تاخیر پر وہ سخت اقدامات کرسکتی ہے۔ ناصر افغان نے بھی معاملے کے حل کی یقین دہانی کرائی ناصر افغان نے جنرل سیکریٹری کے یو جے کو بتایا کہ روزنامہ امت کے ملازمین کو ایک ہفتے میں ان کے واجبات ادا کردیئے جائیں گے۔ کے یو جے نے روزنامہ امت کے مالکان پر واضح کردیا ہے کہ اگر اس معاملے میں مزید تاخیر کی گئی تو ناصرف روزنامہ امت کے دفتر بلکہ مالکان کے گھروں کا بھی گھیراو کیا جائے گا۔ علی حمزہ افغان سے ملاقات میں کے یو جے کے وفد نے امت کے ملازمین کی تنخواہوں میں کی گئی کٹوتی بحال کرنے بھی مطالبہ کیا واضح رہے کہ امت کے ملازمین دو سال سے بھی زائد عرصے سے آدھی تنخواہ پر کام کررہے ہیں۔ دریں اثنا کراچی یونین آف جرنلسٹس نے روزنامہ امت سے وابستہ دو سینئر صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم کو دی گئی درخواست پر بھی شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے ملازمین کو ہراساں کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس نے ناصر افغان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس درخواست کو واپس لیں اور ملازمین کو ہراساں کرنے کے اقدامات سے گریز کریں۔ کے یو جے نے روزنامہ امت کے کارکنوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ ان کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں: