ایم کیو ایم پاکستان کا بڑا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان کاجمعرات کو اسٹریٹ کرائم کیخلاف احتجاجی ریلی کا اعلان، 

 کراچی میں تیزی سے بڑھتے اسٹریٹ کرائمز پر سندھ حکومت کی خاموشی ایک سوالیہ نشان ہے، کنور نوید جمیل 

 آپ لوگ پولیس پر آس لگائے نہ بیٹھے رہیں اپنے محلوں میں محلہ کمیٹیاں تشکیل دے کر اپنے گلیوں کی خود حفاظت کریں،وسیم اختر

 پیپلز پارٹی کی متعصب سندھ حکومت نے اپنے لے پالکوں کو پولیس میں بھرتی کر رکھا ہے،فرقان اطیب

کراچی(اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل نے کہا کہ یہ شہر اس لحاظ سے بد نصیب ہے کہ اکثریت یہاں پر ان لوگوں کی ہے جن کے آباؤ اجداد نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر پاکستان بنایا تھا اور اب بھی اس پاکستان کے نظام کو چلارہے ہیں خاص طور پر پورے پاکستان میں یہ شہر کراچی کے عوام سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ اس کے بدلے اس شہر کے عوام کو کیا مل رہا ہے یہ سب کے سامنے ہے ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے بہادر آباد سے متصل پارک میں ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا

کنور نوید جمیل نے مزید کہا کہ پاکستان کے آئین میں ہے کہ عوام کے جان و مال کی ذمہ داری حکومت پرعائد ہوتی ہے اور تمام قومیت سے تعلق رکھنے والے افراد کو مساوی کے حقوق دئے جائیں لیکن پیپلز پارٹی کی متعصب سندھ حکومت نے عرصہ دراز سے شہری سندھ کی عوام کے حقوق صلب کئے ہوئے ہیں حتیٰ کہ ہمارے اور آپ کے جمع کئے ہوئے ٹیکسوں کی رقم عوام پر لگانے سے اجتناب برت رہی ہے اور کراچی کے لوگوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا ہوا ہے کم از کم 14سال کا عرصہ ہوگیاہے شہری سندھ کے عوام کو یہ تمام زیادتیاں برداشت کرتے ہوئے کوٹہ سسٹم کے نام پر کوئی بھی مسئلہ حل نہیں کیا گیا چاہے وہ روزگار ہو، تعلیم ہو یا پھر صحت کا مسئلہ ہو ہر ادارے کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ ہم نے مجبوراََ کراچی کی مخدوش صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے عدالتوں میں پٹیشن دائر کی ہوئی ہے ہمیں اس حکومت پر اعتبار نہیں لیکن عدلیہ سے ملنے والے انصاف پر یقین ہے کے وہ اس شہر پر ہونے والی زیادتیوں پر عوام کو انصاف دے گی۔کنور نوید جمیل نے مزید کہا کہ کراچی میں  تیزی سے بڑھتی ہوئے اسٹریٹ کرائمز پر سندھ حکومت کی خاموشی ایک سوالیہ نشان ہے یہ کیسے ممکن ہے کے روزانہ کی بنیاد پر شہر میں وارداتیں مسلسل ہوری ہیں لیکن ان وارداتوں میں ملوث مجرمان کو پکڑ کر قانون کی گرفت میں لانے والا کوئی نہیں حتیٰ کہ اب تو عوام کے مال کے ساتھ ان کی جانیں بھی محفوظ نہیں، وی آئی پی پروٹوکول کے نام پر نصف تھانے کی پولیس ان وزیروں، مشیروں نے اپنی حفاظت پر مامور کر رکھی ہے جن میں زیادہ تر غیر مقامی ہیں اور اس شہر میں اسٹریٹ کرائم میں ملوث افراد بھی غیر مقامی ہیں یہ ہم نہیں یہ اس شہر کے ڈی آئی جی نے خود اقرار کیا ہے کہ جرائم کرنے والے غیر مقامی افراد ہیں لیکن پھر بھی پیپلز پارٹی کی متعصب سندھ حکومت سے زبانی دعووں اور بیان بازی تک محدود ہے اس سلسلے میں ایم کیو ایم پاکستان نے فیصلہ کیا ہے بروز جمعرات دوپہر 2بجے باغ جناح میں جمع ہوکر آئی جی آفس تک کراچی میں تیزی سے بڑھتے اسٹریٹ کرائم کیخلاف ایک ریلی نکالے گی جس میں آئی جی سندھ کو یاداشت جمع کرائے گی۔اس موقع پر ڈپٹی کنوینر وسیم اختر نے کہا

کہ ایم کیو ایم پاکستان شہری سندھ کے عوام کے حقوق کیلئے مختلف مسائل پر آواز بلند کررہی ہے  اس کے ساتھ ساتھ کنوینر ڈاکٹر خالد مقبو ل صدیقی مختلف علاقوں میں پروگرام میں شرکت کر کے عوام کو موجودہ صورتحال سے آگاہی دے رہے ہیں۔کراچی میں جس تیزی سے اسٹریٹ کرائم بڑھ رہا ہے اور عوام کی جان و مال کی کوئی حفاظت نہیں یہ عوام کے ساتھ ایک گھناؤنی سازش ہے۔پیپلز پارٹی کی متعصب سندھ حکومت نے تعلیم سکیورٹی اورہیلتھ کا نظام اپنے پاس رکھ کر تباہ و برباد کردیا ہے ایم کیو ایم پاکستان نے موجودہ صورتحال دیکھ کر تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے تاکہ کراچی کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت برباد ہونے سے بچایا جا سکے۔وسیم اختر نے مزید کہا کہ آپ لوگ پولیس پر آس لگائے نہ بیٹھے رہیں اپنے محلوں میں محلہ کمیٹیاں تشکیل دے کر اپنے گلیوں کی خود حفاظت کریں اس سلسلے میں ایم کیو ایم پاکستان کراچی کے شہریوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور غیر مقامی جرائم پیشہ افراد کیخلاف آئی جی سندھ کے دفتر میں ایک یاد داشت جمع کروارہے ہیں آپ سب اس احتجاج میں شریک ہوکر اس کو کامیاب کریں تاکہ پورا پاکستان دیکھ لے کے کراچی لاوارث نہیں ہے۔اس موقع پر رکن رابطہ کمیٹی و انچارج سینٹرل آرکنائزنگ کمیٹی فرقان اطیب نے کہا کہ شہر میں جو روز بہ

روزوارداتیں بڑھ رہی ہیں ان کے پیچھے غیر مقامی افراد ہیں اس حوالے سے ہم متعدد بار درخواستیں دے چکے ہیں تھانوں میں جن کی  سنوائی نہیں کی جارہی لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی متعصب سندھ حکومت نے اپنے لے پالکوں کو پولیس میں بھرتی کر رکھا ہے جو اپنے آقاؤں کی خوشنودی کیلئے خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہتے ہیں آپ لوگوں نے اپنے اپنے علاقوں میں واٹس ایپ گروپ  بنائیں تاکہ عوام کسی بھی نا گہانی مصیبت سے دوسرے کو باخبر کیا جا سکے اس موقع پردیگر اراکین رابطہ کمیٹی بھی موجود تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں: