وزیر اعلیٰ ہاؤس دہشتگردوں کی اماج گاہ

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان
(کراچی ڈویژن) کے زیرِ اہتمام احتجاجی ریلی

ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینرڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کامزار قائد سے متصل باغ جناح گراؤنڈ پر لگائے گئے مرکزی کیمپ پر ریلی سے قبل پریس بریفنگ

کوئی بھی باعزت قوم خاص طور پر مہاجر قوم خواتین کے ساتھ زیادتی جیسی شرمناک حرکت پر خاموش نہیں بیٹھے گی،

پولیس کی وردی میں چھپے جرائم پیشہ افراد اور ان سے گٹھ جوڑ رکھنے والے پولیس افسران کا بھی محاصبہ کیا جائے تاکہ عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہوسکے،کنور نوید جمیل

کراچی(اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینرڈاکٹر  خالد مقبول صدیقی نے مرکزی کیمپ باغ جناح گراؤنڈ پر ریلی سے قبل میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج سندھ کے علاقے خصوصاََکراچی جس سے تمام پاکستان کی خوشحالی وابستہ ہے اس شہر کراچی کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت تباہ و برباد کیا جارہا ہے منشیات فروش،گینگ وار اور ڈاکوؤں کو گرفتار کرنے میں سندھ حکومت بری طرح ناکام ہوگئی ہے وزیر اعلیٰ ہاؤس دہشتگردوں کی اماج گاہ بنا ہوا ہے

یہ شہر خود اپنے ہاتھوں میں قانون نہ لے اس لئے ایم کیو ایم آج روڈ پر یہ احتجاج کر کے سندھ حکومت کو یہ متنبہ کرنا تھا کہ ایم کیو ایم شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی ور ان کے حقوق کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھاتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم آج اطہر متین سمیت دیگر صحافیوں اور شہریوں کو لوٹنے والوں کو تلاش کرنے کا مطا لبہ کرنے نکلے ہیں تاکہ ان تمام ملزمان کو گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے اور آئندکوئی بھی مجرم اس گھناؤنے عمل سے اجتناب برتے یہ کیسی طاقت ہے یہ کیسا انصاف ہے کسی کو پکڑنے والا کوئی نہیں عزیر بلوچ جیسے لیاری گینگ وار کے سرغنہ کے تمام مقدمات ختم کئے جارہے ہیں گھروں میں دوران ڈکیتی خواتین اور بچیوں کے ساتھ اجتماعی آبرو ریزی کی جارہی ہے غیرت مند مہاجر ہو یادوسرے قومیت یہ حالت و واقعات کسی کیلئے بھی نا قابل برداشت ہیں

ڈٓکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ آج ہم غیر مقامی لوگوں کوانتباہ کررہے ہیں کے اپنا قبلہ درست کرلیں ورنہ اگر مہاجر کھڑا ہوگیا تو چھپنا مشکل ہوجائے گا۔ایم کیو ایم پاکستان کے ڈپٹی کنوینر کنور نوید جمیل نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کراچی میں بڑھتے ہوئے جرائم اور لاقانونیت کیخلاف آئی جی سندھ کے دفتر میں عوام کے ہمراہ آئے ہیں کراچی کے عوام اس وقت سخت دہشت اور خوف میں مبتلا ہیں انہیں ایسامحسوس ہوتا ہے کہ کراچی پاکستان کا شہر نہیں اور یہاں کے شہریوں کے جان و مال کی کوئی قدرو قیمت نہیں جہاں موقع ملتا ہے دہشتگردآزادانہ وارداتیں کر کے با آسانی فرار ہوجاتے ہیں

کوئی ان کی روک تھام کرنے والا نہیں ہے اب تو جرائم پیشہ افراد سڑکوں سے ہٹ کر چار دیواری کا تقدس پامال کر کے ہماری ماؤں بہنوں کی عصمت دری بھی کرنے لگے ہیں یہ ایک لمحہ فکریہ ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے آئی جی سندھ کے دفتر میں 12نکاتی ایجنڈے پر مشتمل چارج شیٹ جمع کرانے کے بعد میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی باعزت قوم خاص طور پر مہاجر قوم اس گھناؤنی اور شرمناک حرکت پر خاموش نہیں بیٹھے گی اس سلسلے میں ایم کیو ایم پاکستان نے اعلیٰ عدلیہ سمیت دیگر اداروں سے کراچی کے شہریوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کیخلاف درخواستیں جمع کرادی ہیں اور آج آئی جی سندھ کے دفتر میں بھی چارج شیٹ جمع کروادی ہے

کنور نوید جمیل نے مزید کہا کہ ہم نے آئی جی سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹنڈوالہیار میں عدالت کے احاطے میں شہید ہونے والے کارکن خلیل الرحمن اور کراچی میں موجودغیر مقامی جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں شہید ہونے والے صحافی اطہر متین کے قاتلوں کی گرفتاری جلد از جلد عمل میں لائی جائے ان کے علاوہ پولیس کی وردی میں چھپے جرائم پیشہ افراد اور ان سے گٹھ جوڑ رکھنے والے پولیس افسران کا بھی محاصبہ کیا جائے تاکہ عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہوسکے اور جو بھی نتائج سامنے آئیں وہ ہمارے اور عوام کے سامنے منظر عام پر لائے جائیں تاکہ کراچی کے شہریوں میں پیدا ہونے والے احساس محرومی کا خاتمہ ہوسکے جس پر آئی جی سندھ نے ہم سے مکمل تعاون اور عملی اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر گفتگوکرتے ہوئے رکن رابطہ کمیٹی خواجہ اظہار الحسن نے صحافیوں سے اپیل کی کہ جہاں کہیں بھی کسی بھی واردات میں پولیس اہلکار ملوث ہوں تو فوری طور پر ثبو ت کے ساتھ آئی جی سندھ کو فراہم کریں تاکہ وہ پولیس وردی میں چھپی کالی بھیڑوں کا صفایا کرسکیں۔اس موقع پر رکن رابطہ کمیٹی محمد حسین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں شہریوں کی جان و مال و عزتوں کی حفاظت کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے اس لئے عوام کواپنے جان و مال کی حفاظت کیلئے ہر علاقے میں محلہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: