ڈسٹرکٹ کونسل کراچی میں اربوں روپے کھاتوں کا اسکینڈل۔۔۔ وضاحت نیوز

ڈسٹرکٹ کونسل کراچی میں 2019سے اب تک نئے ٹینڈرز نہ ہوسکے،ویب سائیٹ کے مطابق اربوں روپے کے کھاتے چڑھا دئیے گئے

کراچی (اسٹاف رپورٹر/وضاحت نیوز ) ڈسٹرکٹ کائونسل کراچی 2019 سے ٹینڈر نہیں ہوئے، ویب سائیٹ کے ذریعے اربوں روپے کے کام ہوگئے، صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ کے قریبی رشتیدار ڈسٹرکٹ انجنیئر آصف شاہ نے قانون کے دھجیاں اڑا دی، ٹھیکیدار اور عملے سے بدتمیزی کا سلسلہ جاری، ٹھیکیداروں سے منہ ماری، ٹھیکیداروں نے غیر قانونی عمل کے خلاف سیپرا اور سیکریٹری کو درخواست دینے کا فیصلہ کرلیا، ڈسٹرکٹ انجنیئر آصف شاہ کے خلاف کورٹ میں جانے کا اعلان،

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ کائونسل کراچی 2019 سے لیکر ابھی تک ٹینڈر نہیں ہوئے، بغیر ٹینڈر کے اربوں روپے کی بجٹ میں سے ویب سائیٹ کے ذریعے کام کرنے کا انکشاف ہوا ہے، ترقیاتی کاموں کے ٹینڈر نہ نکلنے کے باعث علاقے کے لوگ ترقی سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ کائونسل کراچی میں مختلف وقتوں میں آنے والے انتظامیہ نے اس وقت تک ٹینڈر نہیں کروایا، ویب سائیٹ کے ذریعے کے ذریعے کروڑوں روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

دوسری جانب ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ انجنیئر فضل گل ابھی تک رشوت کے عیوض پرانی تاریخوں میں ورک آرڈرز پر ردو بدل کر رہے ہیں، کئی ترقیاتی کام 2019 سے رکے ہوئے ہیں جن پر کام ابھی تک مکمل نہیں ہوسکا ہے جبکہ حالیہ دنوں میں ڈسٹرکٹ کائونسل کراچی کے پرانے ٹھیکیدار حمید ہوت کی 19ویں گریڈ پر بیٹھے ہوئے 18ویں گریڈ کی ڈسٹرکٹ انجنیئر آصف شاہ کے بیچ منہ ماری بھی ہوئی ہے

ٹھیکیدار حمید ہوت کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ کائونسل کراچی میں 2019 سے اس وقت تک کوئی ٹینڈر نہیں ہوا ہے، اربوں روپے کی بجٹ رکھنے والا ادارا ویب سائیٹ کے ذریعے ترقیاتی کام دے رہا ہے، میں نے کافی عرصہ پہلے کام کیا تھا جس پر آصف شاہ نے بغیر کسی جواز کے اعتراض کرکے ڈسٹرکٹ کائونسل کراچی میں ہنگامہ برپا کردیا

حمید ہوت نے بتایا کہ 2019 میں سابق ڈسٹرکٹ انجنیئر فضل گل بھی تھا اس دور کے ورک آرڈر ابھی تک جاری نہیں ہوئے، کئی کام کیئے ہوئے ہیں اور کئی کام ابھی تک نامکمل ہیں، اس وقت کے ورک آرڈر جاری کرنے کے لیئے ٹھیکیداروں کو بھاری رشوت دینی پڑ رہی ہے، اس وقت ڈسٹرکٹ انجنیئر آصف شاہ ایک ہٹی قائم کرکے بیٹھا ہوا ہے

حمید ہوت نے مزید بتایا کہ ڈسٹرکٹ کائونسل کراچی میں موجودہ بدانتظامی کا ڈسٹرکٹ کائونسل کراچی کے ایڈمنسٹریٹر نور حسن جوکھیو کو نوٹیس لینا چاہیئے، بصورت دیگر ہم سیپرا اور سیکریٹری کو درخواستیں دیں گے، اگر پھر بھی انصاف نہیں ہوا تو ڈسٹرکٹ انجنیئر آصف شاہ کے خلاف احتجاج کے ساتھ ساتھ عدالت میں بھی جائیں گے۔

واضح رہے کہ آصف شاہ 18ویں گریڈ کا افسر ہونے کے باوجود 19ویں گریڈ کی پوسٹ پر بیٹھا ہوا ہے، آصف شاہ بلدیات کے صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ کا قریبی رشتیدار بھی ہے، 19ویں گریڈ کی پوسٹ پر 18 ویں گریڈ کے افسر کو بٹھانا سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: