ٹرانسپورٹ مافیا خواتین سے بدتمیزی پر اتر آیا۔۔ وضاحت نیوز

سندھ حکومت کراچی کے عوام کا دیرینہ مسئلہ حل نہ کرسکی،پرائیوٹ ٹراسپورٹ مافیا خواتین کی تذلیل کرنے پہ اتر آیا

وزیر ٹرانسپورٹ اور آر ٹی اے ڈیپارٹمنٹ کی مبینہ نااہلی کے باعث کراچی کے رہائشی جدید دور میں بھی دھکے کھانے پر مجبور،چیف سیکریٹری سندھ بھی ٹراسپورٹ مافیا کو لگام نہ دے سکا

کراچی(اسٹاف رپورٹر/وضاحت نیوز) سندھ حکومت کی مبینہ نااہلی و غفلت کے باعث کراچی کے شہریوں کا دیرینہ مسئلہ تاحال حل نہ ہوسکا ہے پورے پاکستان میں شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور پنجاب و کے پی کی گورنمنٹ نے شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے جدید گورنمنٹ و پرائیوٹ ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کررکھی ہیں

جبکہ پاکستان کا معاشی حب کہلانے والا شہر کراچی میں سندھ گورنمنٹ کی جانب سے شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے کوئی بھی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا ہے جس کی وجہ سے کراچی کے عوام پرائیوٹ ٹراسپورٹ مافیا کے نرغے سے تاحال آزاد نہ ہوسکے ہیں اور آئے روز دوران سفر خواتین کے ساتھ بدتمیزی اور لڑائی جھگڑے کے واقعات معمول بن گئے ہیں

خاص طور پر کراچی شہر میں قوانین کے جس طرح دھجیاں اڑائی جاتی ہیں شاید ہی دنیا میں ایسا کہیں ہوتا ہو اس حوالے سے وضاحت نیوز کو دستیاب معلومات کے مطابق وزیر ٹراسپورٹ سندھ ،چیف سیکریٹری سندھ اور آرٹی اے ڈیپارٹمنٹ سے پرائیویٹ ٹرانسپورٹرز اجازت نامہ حاصل کرتے ہیں اور آرٹی اے ڈیپارٹمنٹ سے روٹ پرمٹ حاصل کیا جاتا ہے

اور کراچی میں شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے سندھ گورنمنٹ کی جانب سے کوئی بھی ٹینڈر جاری نہیں کیا جاتا کہ جس میں پرائیویٹ ٹراسپورٹرز پارٹی سپیٹ کرتے ہوں اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں یا شہریوں کو معیاری سفری سہولیات فراہم نہ کرنے والے پرائیوٹ کنٹریکٹرز کا معاہدہ ختم کیا جاسکے

بلکہ کراچی میں اگر کسی کے پاس پانچ سے دس مسافر کوچز ہوں تو اسکو بآسانی روٹ پرمٹ مل جاتا ہے اور پھر وہ سرعام کراچی کی سڑکوں پر عام شہریوں و خواتین کی تذلیل کرتا نظر آتا ہے

آج کراچی کی سڑکوں پر دیکھیں تو 1990اور 1985ماڈل کی مسافر کوچز آپکو سڑکوں پر دوڑتی ہوئی نظر آئیں گی جبکہ قانون کے مطابق کسی بھی گاڑی کا فٹنس لیٹر حاصل کرنے کے لیے گاڑی کا معائنہ ضروری ہوتا ہے

دوسری جانب آرٹی اے ڈیپارٹمنٹ اور چیف سیکریٹری سندھ کے آفس میں موجود کرپٹ انتظامیہ کی وجہ سے کوئی بھی پرائیویٹ ٹراسپورٹرز کو محض چند ٹکوں کے بدلے بآسانی روٹ پرمٹ و اجازت نامہ حاصل کرلیتا ہے یہی وجہ ہے کہ سندھ گورنمنٹ کی جانب سے شہریوں کوسہولیات فراہم کرنے کا کوئی بھی سفری منصوبہ تاحال کراچی میں کامیاب نہ ہوسکا ہے

ابھی گزشتہ روز پرائیویٹ ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والی ایک خاتون کو پرائیوٹ ٹراسپورٹر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے جسکی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے

لڑائی جھگڑوں اور خواتین کی تذلیل کا سب سے بڑا سبب کرائے ناموں اور ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے چیک اینڈ بیلنس کا نہ ہونا ہے پورے کراچی میں اسوقت جتنے بھی مسافر کوچز چل رہی ہیں ان میں سے کسی کے پاس بھی کرایہ نامہ نہیں ہوتا اور نہ کوئی پوچھنے والا کہیں نظر آتا ہے

علاوہ ازیں ڈی آئی جی ٹریفک اور کراچی ٹریفک پولیس کی جانب سے اوور لوڈنگ پر ٹرانسپورٹ مافیا کے خلاف کوئی بھی ایکشن نہیں لیا جاتا جبکہ آر ٹی اے ڈیاپرٹمنٹ کی جانب سے کراچی میں چلنے والی ایک مسافر کوچ میں 32 مسافروں کو سوار کیا جاتا ہے 32مسافروں سے زیادہ کی اجازت نہیں ہے

وزیر ٹراسپورٹ سندھ،چیف سیکریٹری سندھ اور آرٹی اے ڈیپارٹمنٹ کو چاہیے کہ پرائیوٹ ٹراسپورٹرز کو کرایہ نامہ واضح نمایاں کرنے کا پابند کیا جائے اور اوور لوڈنگ پر جرمانے و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور دیگر ڈیپارٹمنٹس کی طرح کراچی کے شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے ٹینڈرز کرائے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: