‘مولانا فضل الرحمان کیخلاف بدزبانی کرنے والا دنیا اور آخرت میں رسوا ہوگا’

‘مولانا فضل الرحمان کے خلاف بدزبانی کرنے والا دنیا اور آخرت میں رسوا ہوگا’

کراچی(اسٹاف رپورٹر) مولانا فضل الرحمٰن امت مسلمہ کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، آپ اس وقت متفقہ طور پر تمام دینی طبقے کے قائد اور میدانِ سیاست میں نمائندے ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست اور ہزاروں مدارس و لاکھوں علماء و طلبہ کے معتمد ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن کیخلاف زبان درازی، بد زبانی اور گندی زبان ہرگز برداشت نہیں کی جا سکتی۔ حکمران خود کو بد زبانی سے باز رکھیں ورنہ دنیا و آخرت میں رسوائی مقدر بنے گی۔ مولانا فضل الرحمٰن کو سیاست کی پُرخار وادی میں چار عشرے گزر چکے ہیں، ان کا دامن ہر قسم کی کرپشن سے پاک ہے، ان کے بدترین دشمن بھی آج تک انہیں کسی مالی و اخلاقی اسکینڈل میں ملوث نہیں کر سکے۔

ان کا شمار ملک کے سینئر ترین، تجربہ کار اور منجھے ہوئے سیاست دانوں میں ہوتا ہے، جن کی عظمت کا لوہا اپنے پرائے سب مانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کبھی اپنے سیاسی مخالف کے بارہ میں بدزبانی نہیں کی۔انہوں نے مختلف ادوار میں ملک و ملت کے عوام اور اسلامیان پاکستان کا مقدمہ بڑی جرأت مندی کے ساتھ لڑا ہے۔ مساجد و مدارس، تحفظ ختم نبوت، نفاذ اسلام کے لیے ان کی روشن خدمات ہیں۔ اہل دین آج انہی کی بدولت سر اٹھائے کھڑے ہیں اور بے دینی کے سیلاب کے آگے بند باندھے ہوئے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا پیر حافظ ناصر الدین خاکوانی، نائب امراء مولانا خواجہ عزیز احمد و مولانا سید سلیمان یوسف بَنوری حسینی، مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مفتی شہاب الدین پوپلزئی، مولانا عزیز الرحمٰن ثانی، مولانا محمد اعجاز مصطفےٰ، مولانا مفتی خالد محمود اور مولانا قاضی احسان احمد نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کچھ روز سے وزیراعظم پاکستان عمران خان اپنے سیاسی جلسوں میں مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف مسلسل بدزبانی اور بداخلاقی کر کے ہم سب کے جذبات کو مجروح کر رہے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر یہ سلسلہ ختم کریں اور مولانا فضل الرحمٰن کی توہین کرنے پر ملک کے عوام سے معافی مانگیں ورنہ یاد رکھیں کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہٖ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کوئی میرے کسی نیک بندے اور ولی سے دشمنی کرے تو میں اللہ اس شخص سے اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔

اگر وزیراعظم عمران خان باز نہ آئے تو دنیا میں تو رسوائی مقدر ہے ہی آخرت بھی خراب ہو جائے گی۔ نیز علمائے کرام کے ایک وفد نے عبدالخیل ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی، اس وفد میں مولانا محمد اعجاز مصطفےٰ، مفتی خالد محمود و دیگر حضرات شامل تھے، علمائے کرام کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن ایک جيد عالم دین ہیں، جيد عالم و مفتی حضرت مولانا مفتی محمود کے بیٹے ہیں، ملک کے ہزاروں علماء کا اعتماد ان کو حاصل ہے، ملک کے سب سے بڑے دینی تعلیمی بورڈ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست ہیں جس کے تحت ہزاروں مدارس میں لاکھوں طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام ملک کی سب سے بڑی دینی سیاسی جماعت ہے جس میں لاکھوں عوام بالخصوص مساجد و مدارس سے وابستہ علمائے کرام شامل ہیں۔ لہذا عمران خان ہوش کے ناخن لیں اور اپنی زبان درازی سے باز آجائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: