شامی بچوں‌ کی تصاویر، حقیقت یا سازش– تحریر ارشد راؤ

ہم مسلکی اعتبار سے آپس اس قدر بٹ چکے ہیں کہ اگر ہمارے مسلک کے خلاف کوئی عمل نظر آتا ہے توبنا تحقیق کیے نظرانداز کردیتے ہیں ۔ یہی رویہ مخالف مسلک سے متعلق ہوتا ہے اگر مخالف مسلک کا کوئی پروپیگنڈہ یا سازش پر مبنی کوئی جھوٹا منفی عمل بھی نظر آئے تو بلاجھجک ہم اس پر یقین کرلیتے ہیں۔ تحقیق کی کوشش کرنا گوارا بھی نہیں سمجھتے، یا اگر تحقیق کرنے کی جسارت کرینگے گے بھی تو بس جانبدارانہ تحقیق کرینگے ۔ اپنے آپ کو صرف ان ذرائع تک محدود رکھیں گے جو ہمارے مسلک اور سوچ سے مماثلت رکھتے ہوں ۔ اسکے مخالف آراء کیا ہے یہ خیال ذہن میں بھی نہیں لاتے ۔

شام کی صورتحال بہت پیچیدہ ہے ۔ وہاں کچھ قوتیں اپنے اثرورسوخ کے لیے وہاں کی حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں ۔ روس شامی حکومت کا اس وقت اتحادی ہے اور سب سے بڑا سپورٹر ہے ۔ لہذٰا روس مخالف قوتوں کو روس کا شامی حکومت کی حمایت کرنا ہضم نہیں ہورہا ۔ یہی وجہ ہے شام سے متعلق مغربی اور عرب میڈیا میں جانبدارانہ رپورٹنگ نظر دیکھنے کو ملتی ہے ۔ جنکا حدف بشارالاسد اور روس ہوتا ہے ۔ کسی بھی مقام پر پہنچنے سے قبل ان ممالک اور انکے میڈیا کے کردار کو جاننا ضروری ہے ۔ اس بارے میں واقفیت لازم ہے کہ مغربی میڈیا اور ممالک کا جھکاوٴ کس جانب ہے ۔ الجزیرہ ہو یا بی بی سی یا امریکن میڈیا ان سب کی رپورٹس سے پہلے ان کے بارے میں جاننے کی اشد ضرورت ہے , ساتھ میں موجودہ حالات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لینے کی بہت ضرورت ہے ۔ اگر یہ مراحل آپ طے کرلیں تو پھر کسی نتیجے پر پہنچنے کے آپ اہل ہونگے ۔

جب حلب میں دولت اسلامیہ کے خلاف بمباری جاری تھی تو مغربی میڈیا نے اپنی بھرپور پروپیگنڈہ مہم چلائی ۔ ایسی ایسی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کیں جنکی بعد میں تحقیق ہوئی تو پتہ چلا وہ پہلے کسی ملک میں رونما ہونے سانحات کی تصاویر اور ویڈیوز ہیں ۔ جبکہ جنگی صورتحال میں جہاں مواصلاتی نظام درہم برہم تھا تو ایسے میں ناجانے شہری کہاں سے تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کرہے تھے ؟ اگر آپ نے صرف الجزیرہ بی بی سی ، واشنگٹن پوسٹ یا سی این این کو دیکھ کر پڑھ کر ہی کوئی نتیجہ اخذ کرنا ہے تو یہ جانبداری پر مبنی ہوگا ۔ حالیہ ہونے والا واقعہ جس میں بشارالاسد پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کا الزام لگایا جارہا ہے . تو اس معاملے پر بھی مسلکی اور ہم خیالی پر مبنی بیانیہ جاری کرنے کے بجائے تحقیق کی ضرورت ہے ۔ مغربی میڈیا اور دائیں بازو کی جماعتیں بشار کے سخت ترین مخالف ہیں لہٰذا انکی رائے کو حتمی جان کر رائے قائم کرنا درست اقدام نہیں ۔ سوچنے اور قابل غور کرنے والی یہ بات ہے کہ جو تصاویر پوسٹ کی گئیں کیا وہ حقیقی ہیں ؟ کہیں ان میں چھپا کوئی پروپیگنڈہ تو نہیں ؟ چلیں ایک لمحہ کے لیے مان لیتے کیمیائی گیس کا استعمال بشار نے کیا ۔

مگر سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ متاثرہ بچوں اور مرد حضرات کو سول ڈیفینس والے بغیر ہیلمٹ اور گلفس کے اٹھارہے ہیں انہیں سہولیات رہے ہیں ؟ جاپان میں جب کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے اس وقت متاثرین کو ریسکیو کرنے والی فورس کو دیکھا جائے تو وہ پروپر ڈریس اور آلات سے لیس تھے لیکن اگر شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے متاثرہ لوگوں کو سہولت فراہم کرنے والی فورس کو دیکھا جائے تو کئی اہلکار ہیلمٹ اور گلفس کے بغیر طبی امداد فراہم کرہے ہیں ۔ دوسرا یہ کہ جتنی بھی تصاویر وائرل ہوئیں وہ صرف بچوں اور مرد حضرات کی ہیں ، ان تصاویر میں کوئی خواتین متاثرہ نہیں دیکھی گئی ، تو کیا یہ کیمیائی ہتھیار صرف بچوں اور مرد پر اثرانداز ہوتے ہیں ؟ کسی متاثرہ خواتین کی تصویر کیوں نہیں دیکھی گئی ؟ جبکہ حلب میں بمباری کے وقت خواتین کی تصاویر بھی عیاں کی گئیں ۔ پھر ایسی تصاویر بھی دیکھی گئیں کہ متاثرہ شخص ماسک لگائے خود سیلفی لے رہا ہے ، یہ صرف شام میں ہی ہوتا ہے کہ بمباری سے زخمی اور کیمیائی ہتھیاروں کے متاثرین طبی سہولیات کے بجائے سیلفیاں لے رہے ہیں ۔ تو بات صرف یہ ہے کہ ایسے کئی سوالات ہیں جن پر تحقیق لازم ہے ۔ بنا تحقیق کے کسی کے خلاف کوئی آراء قائم کرنا درست فعل نہیں ۔ صرف ایک طرف کے میڈیا کی مہم اور دائیں بازو کی جماعتوں کے رہنماوٴں کے بیانات پر یقین کرنے بجائے خود تحقیق کریں اور جانیں کہ حقائق کیا ہیں ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ مغرب بشارالااسد اور روس کا حریف ہے اور اسکے باوجود شام میں ہونے والے واقعات کا قصوروار صرف بشار اور روس کو ٹھیرانا مناسب نہیں ۔تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے گراوٴنڈ پر حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ لہٰذا اس معاملے پر جانبداری کے بجائے آزاد خیال ہوکر سوچنے سمجھنے اور تحقیق کی ضرورت ہے .

ارشد راوُ

اپنا تبصرہ بھیجیں: