جامعہ کراچی، طالب علم پر تشدد کے واقعے کا نوٹس، رپورٹ طلب

جامعہ کراچی، طالب علم پر تشدد کے واقعے کا نوٹس، رپورٹ طلب

صوبائی وزیر برائے جامعات اسماعیل راہو نے جامعہ کراچی میں سیکیورٹی اہلکار کے طالب علم پر تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی جبکہ رینجرز حکام نے بھی اس معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

جامعہ کراچی میں چیکنگ کے دوران طالب علم پر سیکیورٹی اہلکار کی جانب سے تشدد کا معاملہ سامنے آنے پر حکومت بھی حرکت میں آئی اور طالب علم پر تشدد کے معاملے پر انکوائری کا حکم دے دیا۔

وزیرجامعات سندھ اسماعیل راہو نے سیکریٹری یونیورسٹیز اور جامعہ کراچی کی وائس چانسلر نے طالب علم پر تشدد کے معاملے کی رپورٹ طلب کرلی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی تازہ لہر کی وجہ سے ہم غیر معمولی صورتحال سے گزر رہے ہیں لیکن چیکنگ کے نام پر کسی پر تشدد کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے غیر روایتی اقدامات ضروری ہیں جس کے لیے ہمیں سب کے تعاون اور اعتماد حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر جامعات سندھ نے کہا کہ  طلبہ ہمارے ملک و قوم کا مستقبل اور سرمایہ ہیں، تعلیم اور تدریس کے ساتھ ان کی حفاظت بھی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

واضح رہے کہ کراچی یونیورسٹی میں دہشتگردی کے واقعے کے بعد جامعہ کے داخلی و خارجی راستوں کی سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے جہاں رینجرز کا عملہ تعینات ہے۔ جامعہ میں داخلے کے لیے طلبا سمیت اساتذہ کو بھی شناحت کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے جبکہ کینٹینز بھی ختم کردی گئیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: