سندھ حکومت کی کارکردگی کو پندرہ بیس منٹ کی بارش بے نقاب کر دیا

کراچی……..امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ مون سون کی پہلی پندرہ بیس منٹ کی بارش نے پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کی کارکردگی کو بے نقاب کر دیا، کے الیکٹرک کے فیڈرز بند ہو گئے اور شہر کے بیشتر حصے میں بجلی غائب ہو گئی، شاہراہ فیصل جس پر اربوں روپے خرچ کیے جا چکے ہیں،

اس سمیت اہم شاہراؤں اور سڑکوں پر پانی جمع ہو گیا اور ٹریفک جام کے باعث شہریوں کو شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ مون سون کی پیشگی اطلاعات کے باوجود سندھ حکومت اور ایڈمنسٹریٹر کراچی نے پہلے سے اقدامات نہیں کیے،

رین ایمرجنسی اور نالوں کی صفائی کا شور تو بہت کیا گیا مگر بارش کے بعد ان اعلانات اور جو نمائشی اقدامات کیے تھے ان کی بھی قلعی کھل گئی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر نائب امراء کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، راجہ عارف سلطان، سیکریٹری کراچی منعم ظفر خان اور ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات صہیب احمد بھی موجود تھے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی 14سال سے سندھ میں حکومت کر رہی ہے اور بلدیاتی ادارے بھی اس کے تسلط میں ہیں لیکن اس نے کراچی کے گھمبیر اور دیرینہ مسائل کے حل کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا اور کوئی بڑا پروجیکٹ مکمل نہیں کیا۔

14سال میں کراچی کے لیے‘ جو پانچ ہزار ارب روپے کے فنڈ مختص کیے گئے ان سے کوئی ترقیاتی کام نہیں کیا گیا، ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام اور معیاری سڑکیں تک نہیں بنائی گئیں، صرف لسانیت اور عصبیت کے بیج بوئے گئے،

کراچی کو صرف مال بنانے اور کرپشن کرنے کا ذریعہ بنالیا گیا ہے، کے الیکٹرک بھی عوا م کو سخت گرمی میں ریلیف دینے کے بجائے شہریوں سے لوٹ مار کر رہی ہے، اووربلنگ اور لوڈشیڈنگ کے دوہرے عذاب میں مبتلا کر کے رکھا ہوا ہے

، بارش کا پہلا قطرہ پڑتے ہی بجلی غائب ہو جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ کرنٹ سے بچاؤ کے لیے بجلی بند کی ہے لیکن کھمبوں میں ارتھنگ کا نظام نہیں بنایا جا رہا،

بجلی گیس سے پیدا کی جاتی ہے لیکن فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر صارفین سے ہر ماہ اضافی رقم وصول کی جاتی ہے،

موجودہ اور ماضی کی ہر حکومت نے کے الیکٹرک کی سرپرستی کی ہے ایک نجی کمپنی ہونے کے باوجود ہر سال اربوں روپے کی سبسیڈی دی جاتی ہے اسی لیے اس نے ایک مافیا کی شکل اختیار کر لی ہے

، واحد جماعت اسلامی ہے جس نے کے الیکٹرک کی لوٹ مار اور ظلم و زیادتیوں کے خلاف آواز اُٹھائی ہے اور کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کے جائز اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے مقدمہ لڑا ہے،

پانی کے بحران، شناختی کارڈ کے حصول اور شہر میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مسائل کے حل کی جدو جہد کی ہے اور عوام کو ریلیف دلوایا ہے،

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ماضی میں بھی صرف جماعت اسلامی نے ہی شہر کی تعمیر و ترقی کی ہے اور آئندہ بھی جماعت اسلامی ہی کراچی کی بہتری اور تعمیر و ترقی کے لیے واحد آپشن ہے،

نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ اور ان کی ٹیم نے اپنی اہلیت اور ایمانداری سے شہر کا نقشہ بدل دیا تھا، کراچی میں 32نئے کالجز بنائے گئے، 350سے زائد بڑی بسیں چلائی گئیں، ماڈل پارک، اوورہیڈ برج، انڈر پاس، فلائی اوورز،اعلیٰ اور معیاری سڑکیں بنائی گئیں،

پانی کا منصوبہ k-3مکمل کر کے k-4شروع کیا گیا مگر 17سال ہوگئے کسی حکومت نے اسے مکمل نہیں کیا اور پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم وفاقی حکومت نے تو اسے 650ملین گیلن یومیہ سے کم کر کے 260ملین گیلن یومیہ کر دیا اور اس کے بھی مکمل ہونے کے کوئی امکانات نہیں نظر آرہے،

کے4.منصوبہ اگر اپنے وقت پر مکمل ہو جاتا تو آج کراچی میں پانی کی قلت اور مسائل کی موجودہ سنگین صورتحال ہر گز نہیں ہوتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: