سندھ حکومت 15ہزار ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کا حساب دے

کراچی (سٹی رپورٹر )امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہےکہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں دھاندلی، پُر تشدد واقعات میں دو انسانی جانوں کے ضیاع اور انتخابی عمل کو یرغمال بنانے کی جو سنگین صورتحال سامنے آئی ہے

وہ سندھ حکومت، الیکشن کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل ناکامی ہے، 24جولائی کو کراچی اور حیدرآباد میں ہونے والے انتخابات میں بھی ایسے حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے

کیونکہ امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو سیاسی و انتخابی عمل سے روکا جا رہا ہے، ووٹر لسٹیں فراہم نہیں کی جا رہی ہیں اور دو دو ووٹر لسٹیں چل رہی ہیں،

یہ صورتحال الیکشن کمیشن آف پاکستان کے لیے سوالیہ نشان اور اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ سندھ حکومت سرکاری اختیارات ووسائل کے ناجائز استعمال کے ذریعہ سیاسی اور انتخابی عمل پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے،

سندھ حکومت نے 14سال میں کراچی کے لیے 240بسوں کا وعدہ اور اعلان کر کے اب ان کی تعداد 130کر دی ہے اور صرف ایک ہی روٹ کا آغاز کیا گیا ہے،

یہ صورتحال بالکل ایسی ہی ہے کہ جس طرح وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے 40ہزار روپے سے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے 2ہزار روپے کے ریلیف کا اعلان کیا تھا،

ہمارا مطالبہ ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں کراچی کے عوام کے ساتھ مذاق بند کریں، ساڑھے تین کروڑ عوام کے گھمبیر مسائل کے حل کے لیے کراچی کو اس کا جائز اور قانونی حق دیں، k-4منصوبہ 650ملین گیلن یومیہ کے مطابق فی الفور مکمل کریں،

چند بسیں چلا کر اونٹ کے منہ میں زیرہ دینے کے بجائے کراچی کے عوام کے لیے ماس ٹرانزٹ نظام اور سرکلر ریلوے کی مکمل بحال کی جائے۔

پیپلز پارٹی 14برس میں کراچی کے 5ہزار ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کا حساب دے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر نائب امیر کراچی مسلم پرویز،سیکریٹری کراچی منعم ظفر خان ،سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بلاول بھٹو چند بسوں کا افتتاح کر کے سمجھ رہے ہیں

کہ کوئی بڑا کارنامہ انجام دے دیا، یہ عوام کا حق ہے، عوام ٹیکس دیتے ہیں اور انہوں نے یہ کوئی احسان نہیں کیا، کراچی صوبے کا 95فیصد بجٹ فراہم کرتا ہے، قومی خزانے میں 67فیصد ریونیو جمع کرتا ہے،

شہر میں عملاًٹرانسپورٹ کا کوئی نظام نہیں ہے، ہماری مائیں، بہنیں، بچے، بزرگ چنگ چی رکشوں اور ٹوٹی پھوٹی بوسیدہ بسوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں، 6سال میں ایک گرین لائین منصوبہ بنایا وہ بھی نامکمل ہے،

6سال سے زائد ہو گئے چند کلو میٹر کا اورنج لائین منصوبہ مکمل نہیں کیا گیا، کہاں گئی اورنج لائین منصوبے کو 30مئی تک مکمل کرنے کی شرجیل میمن کی ڈیڈ لائین؟

سندھ حکومت عوام کو بتائے کہ 14سال میں اس نے کراچی کا کون سا بڑا منصوبہ مکمل کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سندھ میں الیکشن کمیشن مکمل طور پر صوبائی حکومت کے زیر اثر ہے، حلقہ بندیاں بھی اسی کی مرضی سے ہوئی ہیں

اور کراچی کے ساتھ اس میں بھی نا انصافی اور زیادتی کی گئی ہے، اندورن سندھ 10سے 15ہزار ووٹرز کی تعداد پر یونین کمیٹی تشکیل دی گئی ہیں جبکہ کراچی میں یہ تعداد 60سے 65ہزار کے لگ بھگ ہے،

گویا اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر نے کے لیے پہلے سے ہی دھاندلی کا منصوبہ بنایا جاچکا ہے اور پورے انتخابی عمل کو یرغمال بنانے کی تیاریاں کر لی گئی ہیں، حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن سے سوال کرتے ہیں کہ دو دو ووٹر لسٹیں کس طرح چل رہی ہیں، ایک ماہ بعد انتخابات ہونے ہیں وہ لسٹ جسے غیر حتمی کہا جا رہا ہے

اور کہتے ہیں کہ یہ وہ لسٹ ہے جو 2023ءکے انتخابات کے لیے تیار کی جارہی ہے، دوسری وہ لسٹ ہے جسے بلدیاتی انتخابات کے لیے حتمی کہا جارہا ہے الیکشن کمیشن بتائے کہ دنیا بھر میں کہاں ہوتا ہے کہ دو دو ووٹر لسٹیں چل رہی ہوں، یہ ان کی بہت بڑی ناکامی ہے

اور یہ جان بوجھ کر سندھ حکومت کے لیے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے مل کر کراچی کو تباہ و برباد کیا ہے، آج بھی ایم کیو ایم وفاقی و صوبائی حکومت کا حصہ ہے اور ایک بار پھر اپنے ریٹ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے،

ایم کیو ایم نے ہمیشہ کراچی کے عوام کے مینڈیٹ کا سودا کیا ہے، وڈیروں و جاگیرداروں کو سپورٹ کیاہے اورکراچی کے عوام کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا،

اہل کراچی کے لیے صرف عبد الستار افغانی اور نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ کے ادوار میں مثالی تعمیراتی و ترقیاتی کام کیے گئے اور آئندہ بھی جماعت اسلامی ہی کراچی کے عوام کے مسائل حل کر اسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: