کراچی میں صحافی پر مبینہ قاتلانہ حملہ

کے یو جےکی سینئر صحافی عمران غوری پر حملے کی مذمت

عمران غوری پر دفتر سے گھر واپس جاتے ہوئے حملہ کیا گیا، حملہ آوروں کو فوری گرفتار کیا جائے، صدر شاہد اقبال

عمران غوری کو روکنے کی کوشش کی گئی نہ رکنے پر سائڈ ماری گئی اور ممکنہ طور پر فائر بھی کیا گیا، فہیم صدیقی

سندھ حکومت واقعے کا نوٹس لے، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری طور پر جرنلسٹس پروٹیکشن کمیشن قائم کیا جائے، کے یو جے

کراچی یونین آف جرنلسٹس نے سینئر صحافی اور کے یو جے کے رکن عمران غوری پر نامعلوم افراد کے حملے کی سخت الفاظ میں شدید مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لے اور حملہ آوروں کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

کے یو جے کے صدر شاہد اقبال اور جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی سمیت مجلس عاملہ کے تمام اراکین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سینئر صحافی عمران غوری اپنے دفتر سے واپس گھر جارہے تھے کہ راستے میں نامعلوم افراد نے انہیں روکنے کی کوشش کی اور جب وہ نہیں رکے تو ان کا تعاقب کیا ملزمان نے عمران غوری کو روکنے کے لیے ان کی گاڑی کو سائڈ سے ٹکر بھی ماری۔

ملزمان نے روکنے میں ناکامی کے بعد عمران غوری کی گاڑی پر کوئی چیز پھینکی جو ممکنہ طور پر گولی بھی ہوسکتی ہے جس سے عمران غوری کی گاڑی کا پسنجر سائڈ کا شیشہ چور چور ہوگیا

عمران غوری کے مطابق وہ اس کے بعد بھی رکے نہیں اور مسلسل ڈرائیو کرتے ہوئے نارتھ ناظم آباد اپنے گھر پہنچ گئے تاہم گھر پہنچنے سے پہلے انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ ملزمان حملے کے بعد فرار ہوگئے ہیں۔

عمران غوری کے مطابق ان کا فلیٹ ایک ہائی رائز بلڈنگ میں ہے جہاں سیکیورٹی موجود ہے اپارٹمنٹ کی پارکنگ میں پہنچنے کے بعد انہوں نے گاڑی کا جائزہ لیا تاہم انہیں گاڑی سے کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس سے یہ اندازہ ہوسکے کہ گاڑی پر فائر کیا گیا تھا یا کوئی اور چیز ماری گئی تھی۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس نے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک میں صحافیوں کے تحفظ کا قانون سب سے پہلے منظور کرنے کے بعد بھی سندھ حکومت ایسے واقعات کی روک تھام میں ناکام ہے جس سے صحافیوں کے تحفظ کے قانون کی اہمیت ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتی جاری ہے۔

فہیم صدیقی نے کہا کہ سندھ وہ واحد صوبہ ہے جہاں صحافیوں کیخلاف ناصرف ریاستی بلکہ غیر ریاستی عناصر کی کارروائیاں بھی مسلسل جاری ہیں عمران غوری کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اس کا ایک اور ثبوت ہے بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر جرنلسٹس پروٹیکیشن کمیشن کا اعلان کرے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام میں مدد مل سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: