ایڈمنسٹریٹر بلدیہ شرقی اور ڈائریکٹرحماد خان ایڈورٹائزمنٹ کو لیگل فریم ورک میں لانے پر تنقید کاسامنا

مخصوص عناصر ذاتی مفادات کی تسکین کیلئے سرگرم

کراچی … بلدیہ شرقی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیہ شرقی میں قانونی کاموں کو سبوتاژ کرنے کیلئے ایک مرتبہ پھر بے سر کا پروپیگنڈہ کرکے اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ کسی طرح بلدیہ شرقی کو قانونی کاموں سے روکا جائے تاکہ ذاتی مفادات کے حصول کو تقویت پہنچائی جاسکے

گزشتہ روز ٹینڈرز کی شفافیت پر بلاوجہ اعتراضات اٹھائے گئے اب ایک اچھی شہرت کے حامل ایڈمنسٹریٹر رحمت اللہ شیخ اور ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ حماد این ڈی خان کو ایڈورٹائزمنٹ کے کاموں کو لیگل فریم ورک میں لانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے

جبکہ حقائق اس کے بالکل منافی ہیں ضلع شرقی میں تاحال جو ایڈورٹائزمنٹ بورڈز نصب کئے گئے ہیں وہ قانونی دائرہ کار کے عین مطابق ہیں جس میں عدالتی احکامات کا خاص خیال رکھا گیا ہے

تمام بورڈز یا دیگرقانونی اشتہارات لگانے کیلئے باقاعدہ منظوری حاصل کی گئی ہے اور اس کی جانچ پڑتال کر کے اجازت نامے جاری کئے گئے ہیں جبکہ ایڈورٹائزر نے بھی اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ ایڈمنسٹریٹر بلدیہ شرقی رحمت اللہ شیخ اور ڈائریکٹر ایڈوڑٹائزمنٹ حماد این ڈی خان کے آنے کے بعد تمام ایڈورٹائزمنٹ لیگل فریم ورک میں آچکی ہیں

ان کا نام لے کر جو من گھڑت خبریں پھیلائی جارہی ہیں ان میں کسی قسم کی صداقت نہیں ہے اگر ضلع شرقی میں اشتہارات کے لحاظ سے کوئی بد انتظامی یا قانون کی خلاف ورزی کی جارہی ہوتی تو ہمیں کسی سہارے کے بجائے براہ راست عدالت جانے میں کوئی عار نہیں ہوتی،

ایڈورٹائزر نے کہا کہ ہم بلدیہ شرقی کی انتظامیہ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ایڈورٹائزمنٹ کی گرتی ہوئی صنعت کو جلا بخشی جس کی وجہ سے آج ہم اطمینان اور بہترین طریقے سے اپنا کاروبار سر انجام دے رہے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں: