کراچی کی ایڈمنسٹریٹر شپ پی پی کو پیاری، ایم کیو ایم کو وزارت بلدیات ملنے کا امکان

سندھ حکومت ایم کیوایم پاکستان کو ایڈمنسٹریٹر کراچی کاعہدہ نہیں صرف لولی پاپ دے رہی ہے، پیپلزپارٹی اورایم کیوایم پاکستان میں اتحاد عوامی امنگوں کے برخلاف مفاداتی طرز فکرکا تاثردے رہا ہے غیرفطری اتحاد دونوں جماعتوں کے حق میں نہیں ہے۔

ضلع بلدیات میں ایم کیو ایم پاکستان کے پسندیدہ ایڈمنسٹریٹرز تعینات ہوناتقریبا ناممکن ہوتا جارہا ہے اہم ترین انقلابی تبدیلیوں کے بغیربلدیاتی انتخابات کا انعقاد دیوانے کا خواب لگ رہا ہے، متنازع حلقہ بندیوں نے ایم کیوایم پاکستان کوکھبی خوشی کھبی غم کی کفیت میں رکھا ہوا ہے ایم کیو ایم پاکستان کوایڈمنسریٹرشب ویسے بھی نہیں ملنے والی ہے ا ور اگر مل بھی گئی تووہی پرانا وطیرہ ہوگا اور اختیار نہیں ملیں گے۔

اگریہ خوش فہمی تصور کرلی جائے کہ ایم کیو ایم پاکستان کوایڈمنسٹریٹرکاعہدہ مل جائیگا توسندھ حکومت کونسا اختیارات ایم کیو ایم پاکستان کودیگی کیونکہ ریونیو دینے والے آدھے سے زیادہ محکمے سندھ حکومت نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اور جب تک یہ ریونیو دینے والے پرکشش محکمے سندھ حکومت کے پاس ہیں ایم کیو ایم پاکستان کوایڈمنسٹریٹر کاعہدہ قبول نہیں کرناچاہیئے اور کم ازکم موجودہ ایم کیوایم  پاکستان کے پاس 6سیٹوں کی کچھ طاقت تو ہے جس کے ذریعے ہلکی پھلکی وزراتیں لینے کے سوا کوئی خاص آپشن نہیں ہے۔

جہاں تک کراچی کے 7 اضلاع کے ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتیوں کاسوال ہے تو وہاں سندھ حکومت کے منظور نظرایڈمنسٹریٹرز پہلے ہی تعینات ہیں اب یہ افواہیں بھی گردش کررہی ہیں شرقی، کورنگی، وسطی میں ایم کیو ایم پاکستان کے منظورنظر ایڈمنسٹریٹرز یا میونسپل کمشنرز تعیناتی کے حوالے سے گفت وشنید کاسلسلہ جاری ہے۔

یہ امرقابل ذکرہے کہ جب جب ایم کیو ایم پاکستان اعلیٰ سطح کے رہنمائوں کی ملاقات آصف زرداری سے ہوئی ہے، ان افواہوں یاخبروں میں تیزی آجاتی ہے اسی حوالے سے ایک افواہ یاخبر توجہ کا مرکز بنی کہ پیپلزپارٹی ایڈمنسٹریٹرمرتضی وہاب کی قربانی دینے کے بجائے وزیربلدیات سیدناصرحسین شاہ سے یہ قربانی مانگ رہی ہے کہ ایم کیو ایم کو وزیربلدیات کاعہدہ دیکر (ایڈمنسٹریٹر کراچی)کے عہدے پر یوٹرن لیا جائے اور اگر بالفرض وزیربلدیات پرمعاملات طے پاجاتے ہیں تواطلاعات یہی ہیں کہ ایم کیوایم پاکستان میں اس اہم عہدے کے لیئے ماضی کاایک تجربہ کار نام پہلے سے موجود ہے بات 7 اضلاع کی کی جائے تو ایم کیو ایم پاکستان شرقی،وسطی،کورنگی،غربی میں منظورنظرایڈمنسٹریٹرز تعیناتی کے حوالے سے اپنی بھرپورکاوشوں کاآغاز کرچکی ہے۔

لیبرڈویژن ایم کیوایم پاکستان کی ذیلی یونینز کوفعال کردار ادا کرنیکی خصوصی ہدایت دی گئی ہیں بلدیہ شرقی سمیت دیگرڈسٹرکٹ میں کونسل اور ایس یوجی کے افسران ایک دوسرے سے بغل گیرہوتے نظر آرہے ہیں تاکہ نئے متوقع سیٹ اپ کیلیئے مضبوط لابنگ کے ذریعے پرکشش عہدے پرتعیناتیوں کے امکان کویقینی بنایاجاسکے،ان تمام امکانات میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سندھ حکومت ایک اور بدترین فیصلہ کرسکتی ہے کہ ڈپٹی کمشنرز کوایڈمنسٹریٹرکااضافی چارج دے سکتی ہے جیسا کہ ضلع وسطی میں طحہ سلیم کو دوہرا چارج دیا ہوا ہے موجودہ صورتحال میں سندھ حکومت تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے ایم کیوایم پاکستان کولوریاں دیکرفی الحال بہلانے کی کوشش کررہی ہے کبتک یہ سلسلہ جاری رہتاہے۔

ایم کیو ایم پاکستان پرمنحصرکہ وہ کب منتشر منقسم، مجبورقومی موومنٹ اور انا کے خول سے باہرآتی ہے اہلیان کراچی کی دلی ترجمانی کرتے ہوئے ا نکے حقیقی وبنیادی مسائل کے حل میں کہاں تک کردار ادا کرتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں: