صحافیوں کے تحفظ کا عملی اقدام، کے یو جے کا سندھ حکومت سے اظہار تشکر

کراچی یونین آف جرنلسٹس نے جرنلسٹس پروٹیکشن کمیشن کے قیام کی سندھ کابینہ سے منظوری اور اس کے نوٹیفکیشن کے اجرا کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے صوبے میں صحافیوں کے تحفظ کی راہ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر شاہد اقبال اور جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی سمیت مجلس عاملہ کے تمام اراکین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال جولائی میں سندھ اسمبلی سے جرنلسٹس پروٹیکشن ایکٹ کی منظوری کے بعد پاکستان جنوبی ایشیا کا وہ واحد ملک بن گیا تھا جہاں صحافیوں کے تحفظ کے قوانین موجود ہیں اور آج اس قانون کے تحت سندھ ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ رشید اے رضوی کی سربراہی میں جرنلسٹس پروٹیکشن کمیشن قائم کرکے پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ صرف زبانی جمع خرچ پر یقین نہیں رکھتی۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی بھی اس کمیشن کے نامزد رکن ہیں کمیشن کے قیام سے صوبے بھر کے صحافیوں اور میڈیا ورکرز میں ایک تحفظ کے احساس نے جنم لیا ہے کہ اب سرکاری سطح پر ایک ایسا ادارہ موجود ہے جہاں صحافی یا میڈیا ورکر کے خلاف ہونے والے جرائم پر ایکشن لیا جاسکے گا۔

بیان میں سندھ بھر کے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر آئندہ کسی صحافی یا میڈیا ورکر کو کسی فرد یا ادارے کی جانب سے ہراساں کیا جائے، اسے یا اس کے اہلخانہ کو کسی قسم کا نقصان پہنچایا جائے یا سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ فوری طور پر کمیشن کو اس کی اطلاع دے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ قانون کے مطابق کمیشن ایسے واقعات کا ازخود نوٹس بھی لے سکے گا۔ بیان میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن، وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے قانون مرتضی وہاب اور صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کا بھی شکریہ ادا کیا گیا ہے جنہوں نے جرنلسٹس پروٹیکشن کمیشن ایکٹ کی سندھ اسمبلی سے منظوری سے لے کر کمیشن کے قیام تک خصوصی دلچسپی لی۔

بیان میں جرنلسٹس پروٹیکشن کے قانون کا ڈرافٹ تیار کرنے والی کمیٹی کے ارکان سینئر صحافی مظہر عباس اور کے یو جے کے سابق نائب صدر قاضی آصف کا بھی شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ کمیشن کے رولز رواں سال مئی میں بن چکے ہیں جس کا گزٹ نوٹیفکیشن بھی 11 مئی کو جاری کیا جاچکا ہے بیان میں کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ رشید اے رضوی سے کمیشن کا جلد از جلد اجلاس بلانے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: