عمران جونیئر اور اسد طور کے وارنٹ گرفتاری، کے یو جے کا قانونی معاونت فراہم کرنے کا اعلان

کراچی یونین آف جرنلسٹس نے کے یو جے کے سینئر رکن، سینئر صحافی محمد شفیق عرف عمران جونیئر اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اسد طور کے کراچی کی مقامی عدالت  شرقی سے وارنٹ گرفتاری کے اجرا پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس معاملے کو جرنلسٹ پروٹیکشن کمیشن میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

کے یو جے کے صدر شاہد اقبال اور جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی سمیت مجلس عاملہ کے تمام اراکین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جعلی ڈگری اسکینڈل سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی کا سبب بننے والے ادارے ایگزیکٹ کی جانب سے دائر نجی استغاثے پر عمران جونیئر اور اسد طور کے وارنٹ گرفتاری کا اجرا ملک میں آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت کے خلاف ہے۔

کے یو جے نے بیان میں کہا کہ پیکا کے تحت صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے کے اقدامات کو اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے غیرقانونی قرار دیے جانے کے بعد اب صحافیوں کیخلاف ماتحت عدالتوں میں نجی استغاثے دائر کرکے انہیں ہراساں کیا جارہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹ کے مالکان اور ملازمین کو جعلی ڈگری اسکینڈل پر عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں اور آج بھی ملک کی اعلی عدالتوں میں ان کے کیسز زیر سماعت ہیں اور وہ کمپنی آج صحافیوں کیخلاف نجی استغاثے دائر کررہی ہے، یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے وہ قوتیں جو کچھ عرصے پہلے تک پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ پیکا کے ذریعے صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے کو استعمال کررہی تھیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد اب انہوں نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کا یہ طریقہ ڈھونڈا ہے۔

کے یو جے عہدیداران کا کہنا ہے کہ کراچی یونین آف جرنلسٹس سمیت ملک بھر کی صحافی برادری عمران جونیئر اور اسد طور کے ساتھ کھڑی ہے ایگزیکٹ کے نجی استغاثے پر دونوں افراد کو مکمل قانونی معاونت فراہم کی جائے گی اور انشااللہ صحافی برادری کو ماضی کی طرح اس بار بھی ملک کی عدالتوں سے انصاف ملے گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر کے یو جے کی مجلس عاملہ کے ایک ہنگامی اجلاس میں کراچی یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکریٹری فہیم صدیقی جو سندھ میں ایک روز قبل ہی قائم ہونے والے جرنلسٹس پروٹیکشن کمیشن کے رکن بھی ہیں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کو کمیشن میں لے کر جائیں اور کمیشن ماتحت عدالت میں دائر نجی استغاثے پر ہونے والی عدالتی کارروائی کو مانیٹر کرے جس کا اسے سندھ اسمبلی سے منظور ہونے والے سندھ جرنلسٹس اینڈ ادر میڈیا پریکٹیشنرز پروٹیکشن ایکٹ کے تحت اختیار حاصل ہے۔

یاد رہے کہ اسد طور اور عمران جونیئر کے خلاف ایگزیکٹ کمپنی کے ملازم احسن رضا کی جانب سے دائر نجی استغاثے میں کہا گیا ہے کہ اسد طور نے اپنے یو ٹیوب چینل پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں الزام عائد کیا کہ ڈارک ویب پر وزیراعظم کی آڈیو اور ویڈیو لیکس میں ایگزیکٹ کا ملازم ملوث ہے جبکہ عمران جونیئر نے اپنے فیس بک اکاونٹ پر ایگزیکٹ کے متعلق تضحیک آمیر مواد اپ لوڈ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: