اسد طور اور علی عمران جونیئر کو گرفتار کرنے کا حکم ’ہراسانی‘ قرار

کراچی میں ضلع شرقی کی عدالت نے سینئر صحافی اور ویب سائٹ کے ایڈیٹر انچیف علی عمران جونیئر اور اسد علی طور کی گرفتاری کے احکامات جاری کردیے۔

کراچی کی مقامی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج نے ایگزیٹ کمپنی کے ملازم احسن رضا کی جانب سے دائر درخواست پر اسد علی طور اور محمد شفیع عرف علی عمران جونیئر کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا۔

ایڈیشنل سیشن جج نے اپنے حکم نامے میں پولیس کو ہدایت کی کہ دونوں ملزمان کو تین دسمبر تک قانونی دائرے میں لایا جائے۔

عمران جونیئر اور اسد طور کے وارنٹ گرفتاری، کے یو جے کا قانونی معاونت فراہم کرنے کا اعلان

معروف صحافی اور کالم نگار سر المیڈا نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ ’اسد طور کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنا ہراسانی ہے‘۔

ایگزیکٹ کمپنی کے ملازم احسن رضا کی جانب سے دائر نجی استغاثے میں کہا گیا ہے کہ اسد طور نے اپنے یو ٹیوب چینل پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں الزام عائد کیا کہ ڈارک ویب پر وزیراعظم کی آڈیو اور ویڈیو لیکس میں ایگزیکٹ کا ملازم ملوث ہے جبکہ عمران جونیئر نے اپنے فیس بک اکاونٹ پر ایگزیکٹ کے متعلق تضحیک آمیر مواد اپ لوڈ کیا۔

دوسری جانب عدالتی فیصلے پر صحافیوں، سماجی کارکنان اور انسانی حقوق سے وابستہ افراد نے تحفظات کا اظہار کیا جبکہ کے یو جے نے دونوں صحافیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے معاملہ جرنلسٹس پروٹیکشن کمیشن میں لے جانے اور مکمل قانونی معاونت کا اعلان کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: