انتقال کرجانے والے مفتی رفیع عثمانی کی دینی اور سماجی خدمات پر ایک نظر!

مفتی اعظم پاکستان اور دارالعلوم کراچی کے رئیس مفتی محمد رفیع عثمانی طویل علالت کے بعد کراچی میں انتقال کرگئے۔

سفر زندگی

آپ 21 جولائی 1936ء کو متحدہ ہندوستان میں واقع دیوبند میں پیدا ہوئے اورتحریک پاکستان کے رہنما مفتی اعظم پاکستان دارالعلوم کراچی کے بانی مفتی شفیع عثمانی کے بڑے صاحب زادے تھے۔

دینی خدمات

آپ پاکستان کے موجودہ مفتی اعظم اور مشہور درسگاہ جامعہ دارالعلوم کراچی کے رئیس الجامعہ ہونے کے علاوہ 30 سے زائد کتابوں کے مصنف، مفسرقرآن، فقیہ تھے۔تحریک پاکستان کے کارکن اور قیام پاکستان کے بعد تعمیر پاکستان کی جدوجہد کے ایک دینی رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے۔

شجرہ

مفتی رفیع عثمانی 21 جولائی 1936 میں دیوبند میں اس وقت پیدا ہوئے جب ان کے والد مفتی محمد شفیع دار العلوم دیوبند میں استاد تھے۔ آپ شیخ الاسلام جسٹس ریٹائرڈ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے بڑے بھائی تھے۔

دارالعلوم کراچی میں خدمات

مرحوم مولانا رفیع عثمانی نے ساری زندگی دار العلوم کراچی کے احاطے میں اپنے والد کی مسند علم و ارشاد پر قرآن و سنت کی تعلیم دیتے گزاری۔ مرحوم کے دادا مولانا محمد یاسین بھی دار العلوم دیوبند کے استاد تھے ان کا شمار پاکستان کے سرکردہ علماء میں ہوتا تھا۔ جنہوں نے درس مسلم، دو قومی نظریہ، نوادر الفقہ، پراسرار بندے ان کی اہم کتابیں لکھیں۔

علالت

مرحوم کئی ماہ سے علیل تھے اور بزرگی کی وجہ سے جسمانی طور پر کمزوری کا شکار تھے اُس کے باوجود آپ معمول کے مطابق دارالعلوم پہنچ کر خدمات انجام دیتے تھے۔ آپ کی  تدفین دار العلوم کراچی کے احاطے میں واقع قبرستان میں ہوگی۔

انتقال پُرملال 

صدر مملکت، وزیراعظم، وزیر داخلہ، وفاقی کابینہ، جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان، جسٹس ریٹائرڈ مولانا تقی عثمانی، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، اہلسنت و الجماعت کے صدر مولانا اورنگزیب فاروقی، دارلعلوم بنوریہ کے مہتمم مولانا نعمان، پی ایس پی کے صدر انیس قائمخانی، چئرمین سید مصطفی کمال اور قاری محمد عثمان سمیت دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مفتی اعظم پاکستان صدر دارالعلوم کراچی مفتی محمد رفیع عثمانی کی وفات پر دلی رنج وغم کا اظہارکیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ  مفتی محمد رفیع عثمانی کی وفات سے پاکستان ایک معتدل، بلند پایہ، فقیہ اور مفتی سے محروم ہوگیا، انہوں نے اپنی تصانیف اور خطبات سے اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی، ان کی وفات سے دل رنجیدہ اور غمزدہ ہے ان کی وفات ایک بڑے بھائی اور شفیق بزرگ کی وفات ہے۔ جامعہ دارالعلوم کراچی اور خصوصا برادر مکرم مفتی تقی عثمانی اور مولانا زبیر اشرف عثمانی کے غم میں برابر کی شریک بلکہ ہم خود غمزدہ ہیں ان کی وفات حسرت آیات عالم اسلام کے لئے عظیم سانحہ ہے۔

وزیراعلی سندھ سید مرادعلی شاہ نے کہا ہے کہ مفتی رفیع عثمانی کا انتقال عالم اسلام کیلئے عظیم سانحہ ہے ان کی دینی خدمات لازوال ہیں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اہلسنت و الجماعت کے صدر علامہ اورنگزیب فاروقی کا کہنا ہے کہ مفتی رفیع عثمانی کی گرانقدر علمی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، مفتی صاحب مرحوم متوازن افکار و نظریات کے حامل تھے۔

چئیرمین پاک سر زمین پارٹی سید مصطفیٰ کمال نے محترم مفتی اعظم پاکستان و صدر جامعہ دارالعلوم کراچی جناب حضرت مولانا مفتی رفیع عثمانی صاحب کے انتقال پر گہرے افسوس اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ دین کے لیے انکی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، حضرت مفتی رفیع عثمانی کے لواحقین، علماء اور شاگردوں سے دلی تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: