بھینس کالونی کے خالی پلاٹ‌ سے لاپتہ سیلاب متاثرہ نوجوان کی لاش برآمد

کراچی: شہر قائد کے علاقے  بھینس کالونی میں خالی پلاٹ سے سیلاب متاثرین کیمپ میں رہنے والے شخص کی لاش ملی جسے فائرنگ کر کے قتل کیا گیا ، مقتول 2 روز قنل پیپری سے لاپتہ ہوا تھا جس کا آبائی تعلق شکار پور سے بتایا جا رہا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق سکھن کے علاقے لانڈھی بھینس کالونی پیرانوں محلہ میں واقع پیر انور ہوٹل کے قریب واقع ایک خالی پلاٹ سے ایک شخص کی گولی لگی لاش کی اطلاع پرپولیس موقع پرپہنچی اور موقع معائنہ کے بعد لاش پوسٹ مارٹم کی کارروائی کیلئے جناح اسپتال منتقل کی۔

اس حوالے سے ایس ایچ او اویس وارثی نے بتایا کہ مقتول کی شناخت جیب سے ملنے والے قومی شناخت کارڈ سے 35 سالہ شہزادو خان ولد شہروز خان کے نام سے ہوئی جیسے نامعلوم ملزمان نے نامعلوم مقام سے اغوا کے بعد پیٹ میں ایک گولی مار کر قتل کیا تھا اور مذکورہ مقام پر لاش پھینک کر فرار ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ مقتول کے اہلخانہ اور رشتے دار جمعے کی دوپہر شہزادو کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دینے بن قاسم تھانے پہنچے تھے جو کہ پیپری سے 16 نومبر سے لاپتہ ہے وہ یہ بول کر گیا تھا کہ ایک کام سے جا رہا ہے رات میں آجاؤنگا لیکن 2 روز گزر گئے لیکن وہ واپس نہیں آیا جس پر بن قاسم پولیس نے مقتول کے عزیزوں کو بتایا کہ سکھن کے علاقے سے ایک شخص کی لاش ملی ہے اسے جا کر دیکھ لیں اور جب مقتول کے اہلخانہ تھانے آئے تو لاش کی تصویر دیکھ کر مقتول کو شہزادو کی حیثیت سے شناخت کرلیا۔

مقتول کے اہلخانہ نے پولیس کو بتایا کہ مقتول کا آبائی تعلق شکار پور سے تھا جبکہ وہ پیپری میں سیلاب متاثرین کیمپ میں رہتا تھا۔ اویس وارثی نے مزید بتایا کہ مقتول کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ ان کی شکار پور میں دیرینہ دشمنی چل رہی ہے جبکہ پولیس کو شبہ ہے کہ مقتول وہاں سے جان بچا کر سیلاب متاثرین کی آڑ لیکر روپوشی کاٹ رہا تھا جبکہ فائرنگ کا واقعہ ابتدائی طور ذاتی دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے تاہم پولیس اس حوالے سے مزید تفتیش کررہی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: