قارئین متوجہ ہوں! ذرائع نیوز کی نئی ادارتی پالیسی کا اعلان

ذرائع ایک اردو نیوز ویب سائٹ ہے، جس کا کسی سیاسی جماعت یا نظریے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ہمارے ادارے کا بنیادی مقصد اور نظریہ عوام کی آواز بننا اور اُن مسائل یا خبروں کو اجاگر کرنا ہے جنہیں مین اسٹریم میڈیا پر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔

ذرائع نیوز آغاز

اس ویب سائٹ کا آغاز یکم جنوری 2017 کو ہوا جبکہ سوشل میڈیا پر ادارے کی موجودگی سنہ 2016 سے ہے۔ چند ناگزیر وجوہات اور صحافتی اصولوں کی خلاف ورزی کی بنیاد پر ویب سائٹ کو عارضی طور پر بند یا اس کے کام کو آہستہ کردیا گیا تھا۔

حقوق ملکیت کی منتقلی

اس کے بعد ویب سائٹ بمعہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے حقوق اصل خریدار سے بات چیت طے ہونے کے بعد خریدے گئے اور اب اسے پندرہ نومبر 2022 سے دوبارہ بھرپور انداز سے شروع کیا جارہا ہے۔

ذرائع نیوز کا بنیادی مقصد

جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے کہ ذرائع نیوز ایک آزاد صحافتی ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد عوام کی آواز بننا اور ریاست پاکستان کی جانب سے طے کردہ اصولوں کے مطابق صحافت کرنا ہے۔ اس پلیٹ فارم پر کسی بھی قسم کی انتہا پسندی، مذہبی رجعت پسندی یا لسانی و فرقہ واریت سے متعلق خبریں مستقبل میں یعنی پندرہ نومبر کے بعد سے دیکھنے کو نہیں ملیں گی۔

البتہ ہم عوامی اور سماجی مسائل کے حوالے سے اپنی صحافت اور صحافتی ذمہ داریوں کو اچھے انداز سے انجام دینے کی کوشش کریں گے جبکہ قیاس یا کسی بھی قسم کی غیر تصدیق شدہ خبر / اسٹوری کو شائع نہیں کیا جائے گا تاہم جب اس کی تصدیق ہوگی تو پھر اُسے روکنے میں دیر نہیں کی جائے گی۔

آپ کی ذمہ داری

اب یہ ذمہ داری آپ پر بھی عائد ہوتی ہے کہ آپ اپنے اردگرد کے مظلوم و مجبور لوگوں کی آواز بنیں یا آپ اگر کسی پریشانی جو خبر شائع ہونے کی صورت میں حال ہوسکتی ہے کی وجہ سے پریشان ہیں تو ہم سے بذریعہ سوشل میڈیا اور ای میل رابطہ کریں، چوبیس گھنٹے کے اندر ادارہ آپ سے تعاون کرلے گا۔

آپ کی سپورٹ اور تجاویز مقصد کے حصول میں ہمارے عزم اور حوصلے کی تقویت کا باعث ہوگی۔


نوٹ: ایک بار پھر وضاحت کی جاتی ہے کہ 15 نومبر 2015 سے پہلے کی خبر موجودہ انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں ہے تاہم اگر آپ کو کسی بھی شائع شدہ خبر یا سوشل میڈپا پلیٹ فارم پر شیئر مواد سے اعتراض ہے تو ہمیں بذریعہ ای میل zaraye.news@gmail.com ، فیس بک پیج یا ٹویٹر ڈی ایم پر کرسکتے ہیں، آپ کی شکایت پر ادارہ فوری متحرک ہوتے ہوئے اس کی تحقیقات کرے گا اور ایکشن لے گا۔

ہم جلد ہی اپنے قارئین سے براہ راست رابطے کیلیے واٹس ایپ گروپ کا قیام اور ٹیلی گرام جینل بھی تشکیل دینے پر بھی کام کررہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: