یوٹیوبرز کیلیے ایسوسی ایشن کا قیام: ممبر شپ کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟

کراچی سے تعلق رکھنے والے یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے اپنے تحفظ اور حقوق کے لیے ایسوسی ایشن تشکیل دینے کا اعلان کردیا۔

دو ماہ قبل کراچی میں شوٹ کے دوران ڈکیتوں کے ہاتھوں لٹنے والے نوجوان صحافی اور یوٹیوبر تنویر بہیلم کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز شدید تحفظات کا شکار تھے۔ یوٹیوبرز کو خدشہ تھا کہ تنویر کے بعد اگلا نمبر اُن کا بھی ہوسکتا ہے۔

ویسے اگر شہر قائد میں اسٹریٹ کرائمز کی بات کی جائے تو یومیہ بنیادوں پر مسلح افراد درجنوں شہریوں کو موبائل فونز، نقدی، موٹرسائیکل سمیت دیگر قیمتی اشیا سے محروم کردیتے ہیں اور مزاحمت پر گولی مارنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

یہ خدشات صرف یوٹیوبرز کے نہیں بلکہ کراچی میں رہنے والے ہر اُس شہری کے ہیں جسے کسی بھی کام کے سلسلے میں گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔

تنویر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا شدید ردعمل آنے کے بعد پولیس متحرک ہوئی اور پھر ملزمان کو گرفتار کر کے لوٹا ہوا مال انہیں واپس دے دیا۔ واضح رہے کہ نوجوان یوٹیوبر کی ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ واردات کے فوری بعد زار و قطار روتے ہوئے بتارہے تھے کہ مسلح افراد اُن کی زندگی کی تمام جمع پونچی لے کر چلے گئے ہیں۔

اس واقعے کے بعد جہاں تنویر کے ساتھ پریس کلب کی انتظامیہ اور صحافی برادری کھڑی ہوئیں وہیں یوٹیوبرز بھی پیچھے نہ رہے اور انہوں نے اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر کے پولیس سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے واقعات کی روک تھام کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ان ہی مظاہروں کے دوران یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز کو اپنی ایسوسی ایشن بنانے کا خیال آیا، جس کے بعد پاکستان سوشل میڈیا ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ابھی چونکہ یہ تنظیم ابتدائی اور تنظیم سازی کے مراحل سے گزر رہی ہے اس لیے انہوں نے ممبر شپ کا اعلان نہیں کیا۔

پی ایس ایم اے کے تحت اتوار 20 نومبر کو ایک پروگرام اور ورکشاپ کا انعقاد بھی کیا جارہا ہے، جس میں ایسوسی ایشن کے اغراض و مقاصد اور رکنیت سازی کے طریقہ کار سمیت دیگر اہم امور پر ممبران کو آگاہ کیا جائے گا۔ اس تقریب میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی سید امین الحق اور سینئر صحافی برائے سیاسی مبصر طارق متین بطور مہمان خصوصی شرکت بھی کریں گے۔

علاوہ ازیں معروف یوٹیوب سید فہد، احمد خان، رضوان خان، مشکوۃ خان، ضیا تبارک سمیت دیگر نامور یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز بھی بطور مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔

اب تک کمیٹی کی جانب سے جن عہدیداران کے ناموں کا اعلان کیا گیا اُن میں بابر ڈار (صدر)، شان چوہدری (نائب صدر)، تنویر بہیلم (جنرل سیکریٹری)، زین علی (جنرل سیکریٹری)، حامد الرحمان (سیکریٹری اطلاعات)، سلمان علی (ٹریزر) شامل ہیں۔

اس کے علاوہ کمیٹی اراکین میں فرحان علی، ماہم زہرہ، دانیا، طوبیٰ خضر حیات، جنت دروی، سلیم رضا، طور نقوی، نادیہ صدیقی شامل ہیں۔

ورک شاپ اور باڈی کا تعارف

پی ایس ایم اے کی جانب سے اتوار کے روز جس پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے اُن میں یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز کو سوشل میڈیا پر کام کرنے کے مثبت استعمال کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے گی اور انہیں ایسوسی ایشن کے نصب العین، اغراض و مقاصد سمیت دیگر اہم امور پر بھی بریفنگ دی جائے گی۔

اس ورکشاپ میں شرکا کو سوشل میڈیا کے اخلاقی اقدار، ویڈیو شوٹنگ بمعہ کیمرہ فریمنگ، ویڈیو ایس ای او، سیاسی ویڈیوز بنانے کی حدود و قیود، تھمب نیل، ویڈیو ایڈیٹنگ سکھائی جائے گی جبکہ پروگرام کے آخری حصے میں پینل ڈسکشن بھی ہوگی۔

آخر میں مہمان خصوصی وفاقی وزیر اپنے خیالات کا اظہار بھی کریں گے جبکہ اُس سے قبل پی ایس ایم اے کی جانب سے مفاہمتی یادداشت بھی پیش کی جائے گی۔

پی ایس ایم اے بنانے کا خیال کیسے آیا؟

تنویر بہیلم نے ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’میرے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بعد ہم نے اپنے تحفظ اور سرکاری اداروں میں سوشل میڈیا کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلیے ایسوسی ایشن بنانے کا فیصلہ دو ماہ قبل کیا اور پھر اس پر کام کرتے رہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’اس ایسوسی ایشن کے بہت سے مقاصد ہیں جن میں سے یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز کو تحفظ اور سرکاری اداروں میں اُن کے اثر و رسوخ کو بڑھانا ہے تاکہ مستقبل میں انہیں بھی کام مل سکے‘۔

’یوٹیوبر یا انفلوئنسر دراصل اپنا کاروبار کرتے ہیں، جس کے لیے انہیں ذریعہ معاش کی ضرورت بھی ہوتی ہے، شیئر ہونے والی ویڈیوز کی کسی ملک یا علاقے تک حد نہیں ہوتی اور اسے پوری دنیا میں دیکھا جاتا ہے، جس کے ذریعے ویڈیو بنانے والے کو ڈالر کی صورت میں آمدنی بھی ملتی ہے‘۔

تنویر نے کہا کہ ’ہم اس ایسوسی ایشن کے ذریعے زرمبادلہ کو بھی بہتر کرسکیں گے اور ہماری بنیاد کوشش یہی ہے‘۔

ایسوسی ایشن کی ممبر شپ کون حاصل کرسکتا ہے؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے تنویر نے بتایا کہ ہم نے ضابطہ اخلاق طے کیے ہیں، جس میں بنیادی یہ ہے کہ ریاست مخالف ویڈیوز بنانے والے کو ممبر شپ نہیں دی جائے گی جبکہ متنازع یا غیر اخلاقی ویڈیو یا اُس میں نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے والا بھی ہمیں جوائن نہیں کرسکے گا‘۔

ممبر شپ کی شرائط

تنویر کے مطابق ’پانچ ہزار فیس بک فالوورز، ایک ہزار یوٹیوب سبکسرائب رکھنے والوں کو کام کی بنیاد پر ممبر شپ دی جائے گی‘۔ کام کی بنیاد کی وضاحت انہوں نے کچھ اس طرح سے کی کہ ’ممبر شپ کو جاری رکھنے کے لیے یہ بھی ضروری ہوگا کہ کوئی بھی یوٹیوبر یا انفلوئنسر ہفتے میں کم از کم ایک ویڈیو ضرور شیئر کرے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر کوئی ایک لاکھ سبکسرائب رکھنے والے چینل کا مالک ہے اور وہ مہینے تک کوئی ویڈیو نہیں شیئر کرتا تو اُس کو ممبر شپ نہیں دی جائے گی اور ممبر شپ لینے والے نے ایک ماہ تک کوئی کام نہ کیا تو ایسوسی ایشن کی باڈی متفہ فیصلہ کر کے اُس کی رکنیت کو ختم بھی کرنے کی مجاز ہوگی‘۔

سنجیدہ کام کو پروموٹ کرنا

پی ایس ایم اے کے جنرل سیکریٹری نے بتایا کہ ’ہم سنجیدہ نوعیت کے کانٹینٹ کی طرف جارہے ہیں اور اس کو پروموٹ بھی کریں گے، اگر کوئی شخص ایسی ویڈیو بناتے ہیں جس کے تھمب نیل میں مس لیڈ کیا گیا ہوگا تو ایسے کسی بھی شخص کو نہ پروموٹ کیا جائے گا اور نہ اُن کی ممبر شپ کی جائے گی‘۔

صحافیوں اور نئے اسٹارٹ اپ والوں کیلیے ممبر شپ کی شرائط

تنویر نے بتایا کہ طے کردہ اصولوں پر اگر کوئی صحافی  پورا اترتا ہے تو اُسے ہم ممبر شپ دیں گے۔ نئے یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم ہر اُس شخص کو ممبر شپ دیں گے جس کی محنت نظر آئے گی، ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک عام موبائل پکڑنے والا اپنے عزیزوں سے چینل سبکسرائب کروا کے ممبر شپ حاصل کرلے، جب کوئی اچھا کام کرے گا تو اُس کے فالوورز اور لائیکس خود ہی بڑھ جائیں گے۔

یوٹیوبرز کو ویڈیو ایڈیٹنگ اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا عزم

جنرل سیکریٹری پی ایس ایم اے نے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ہم پوری کوشش کریں گے کہ ایسے تمام یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز کو سہولیات فراہم کریں جنہیں کسی بھی حوالے سے ایڈیٹنگ یا کسی چیز میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: