پی ایس پی اور ایم کیو ایم اتحاد کیوں نہیں ہورہا؟، رضا ہارون کا انکشاف بانی کو بھی چیلنج

سابق صوبائی وزیر سابق سیکریٹری جنرل اور ایم کیو ایم پاکستان کے سابق رہنما رضا ہارون نے انکشافات سے بھرپور انٹرویو دیا ہے، جس میں انہوں نے بانی ایم کیو ایم کو چلینج دیا جبکہ پی ایس پی اور متحدہ کا اتحاد نہ ہونے کی وجہ بھی بتائی۔

یوٹیوب چینل کو دیے گئے انٹرویو میں رضا ہارون نے کہا کہ عوام میں عدم موجودگی سے ایم کیو ایم کو دوبارہ قدم جمانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، بانی متحدہ الطاف حسین صاحب ماضی کے نوجوانوں میں بے حد مقبول رہے، ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکا، اس وقت ملک بھر کی طرح کراچی کے نوجوانوں میں بھی سابق وزیراعظم عمران خان کا بہت اثر رسوخ ہے۔

رضا ہارون نے چلینج دیا کہ اگر بانی متحدہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ نوجوانوں میں مقبول ہیں تو انھیں اب یہ اپنے کسی بڑے شو کے ذریعے ثابت کرنا ہوگا۔

ایم کیو ایم کے سابق مرکزی راہ نما رضا ہارون کا کہنا تھا کہ مہاجروں کا موجودہ کوئی بھی دھڑا اس وقت کرشماتی شخصیت یا قائدانہ صلاحیت کا حامل نہیں، دفاتر کھولنے کے انتظار میں بیٹھنے کے بہ جائے ایم کیو ایم کو جدید ذرایع سے استفادہ کرنا چاہیے، جیسے عمران خان کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم بہادر آباد کو اپنی سیاست کو دوبارہ زندہ کرنے کے چلینج کے علاوہ عمران خان اور جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن کی مقبولیت سے بھی مقابلہ کرنا ہے، یہاں تک کہ پیپلزپارٹی کے مرتضیٰ وہاب بھی ان کے مقابلے کے لیے میدان میں ہیں، جب کہ ایم کیو ایم ہو یا پی ایس پی ان کو شاید خود بھی اپنی شکست کا یقین ہے، تبھی ابھی تک میئر کراچی کے لیے کوئی بھی امیدوار سامنے نہیں لایا گیا۔

رضا ہارون کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے دھڑوں میں اتحاد کی کوششیں جاری ہیں، لیکن کسی بھی دھڑے کے کسی رہنما میں قیادت کی کوئی بات موجود نہیں ہے، اب لندن والوں کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا ماضی کے نام پر اب دوبارہ بھی لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں رضا ہارون نے کہا ایم کیو ایم میں کبھی کسی فرد کی اہمیت نہیں رہی، مصطفیٰ کمال اچھے ایڈمنسٹریٹر اور عشرت العباد اچھے عہدے دار ثابت ہوئے، لیکن قیادت والی بات ان میں بھی موجود نہیں ہے۔

رضا ہارون نے نام لیے بغیر یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایم کیو ایم سے اتحاد یا انضمام میں انیس قائم خانی تیار ہیں، جب کہ مصطفیٰ کمال اس کے حق میں نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: