Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ایم کیو ایم لندن پراپرٹی کیس کا پہلا دن، جج بھی گھوم گئے | زرائع نیوز london property case

ایم کیو ایم لندن پراپرٹی کیس کا پہلا دن، جج بھی گھوم گئے

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے لندن اور پاکستان گروپ میں مہنگی پراپرٹیز کے حصول کے لیے قانونی جنگ جاری ہے، جس کی آج لندن ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی جس میں جج بھی الجھن کا شکار ہوگئے۔

جنگ اور جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق لندن ہائیکورٹ میں کیس کی پہلے دن سماعت ہوئی، اس دوران جج نے سوال کیا کہ ایم کیو ایم کا اصل گروپ کون سا ہے؟

جج نے متحدہ پاکستان کے وکیل بیرسٹر نذر محمد سے سوال کیا کہ آپ کا کیس ہے کس کےخلاف؟ اور کیس دائر کرنے والے ایم کیوایم رہنما امین الحق کہاں ہیں؟ ان کی موجودگی ضروری ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے وکیل نے کہا کہ ایم کیو ایم لندن نے آئین سے متعلق ریکارڈنگز مقدمہ شروع ہونے سے قبل ضائع کر دیں۔

اس پر ایم کیو ایم  لندن کے وکیل موقف دیتے ہوئے کہا کہ بانی متحدہ کے خلاف کیس کے دوران پولیس تمام ریکارڈنگز لے گئی تھی، بعد میں پرانے زمانے کی کیسیٹوں کو ضائع کر دیا تھا، کیونکہ ان کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

جج نے ریمارکس دیے کہ ٹرائل دوحصوں میں ہوگا، پہلے تعین ہو گا کہ کس گروپ کا آئین تسلیم کرنا ہے،  مقدمے کے پہلے حصے کو اس جمعہ تک نمٹانا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے آئی ٹی امین الحق نے لندن ہائی کورٹ میں ایم کیو ایم کی زیر ملکت شمالی لندن میں قائم 12 ملین سے زائد قیمتی جائیدادوں کے حصول کیلیے درخواست دائر کی یے۔

اس درخواست کے بعد ایم کیو ایم کے سابق کنونیئر اور وائس آف کراچی کے سربراہ ندیم نصرت، سابق سیکریٹری فنانس طارق میر بھی بانی ایم کیو ایم کے خلاف لندن عدالت میں ہیں جبکہ وسیم اختر اور فاروق ستار ویڈیو لنک کے ذریعے گواہی دینے کیکیے تیار ہیں۔

ندیم نصرت کیس کی پیروی کے حوالے سے امریکا سے لندن پہنچے اور وہ عدالت میں سخت سیکیورٹی میں آئے۔