اورنگی ٹاؤن میں توہین کا معاملہ، حالات انتہائی کشیدہ

کراچی: اورنگی ٹاون 10 نمبر میں توہین صحابی کا معاملہ سنگین ہوگیا جس کیوجہ سے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔

یکم دسمبر کو اپنے حلقے میں بیٹھ کر مبینہ پیر نے نام لے کر صحابی رسول کی گستاخی کی جس کے بعد علاقہ مکینوں نے ان کے خلاف احتجاج کیا اور تھانے میں مقدمہ اندراج کے لئے درخواست دی۔

بعد ازاں پیر نے ویڈیو پیغام میں غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اللہ کے حضور معافی مانگی اور د آزاری پر لوگوں سے بھی معاف کرنے کی اپیل کی۔

ذرائع کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق تعلقات کی وجہ سے پولیس ایف آئی آر کے اندراج سے کترا رہی تھی تاہم مذہبی جماعت کے بیچ میں آنے کے بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کی۔

ایف آئی آر درج ہونے کے بعد گرفتاری نہ ہونے پر پر علاقہ مکینوں نے تھانے کے باہر احتجاج کیا جس پر پولیس نے دباؤ میں آکر مبینہ کی گرفتاری کا فیصلہ کیا۔

پیر پانچ دسمبر کی شام پولیس جب گرفتاری کی غرض سے سے خانقاہ پہنچی تو وہاں موجود مریدوں نے مزاحمت کی اور پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔

مومن آباد تھانے کی حدود میں احتجاج کے دوران مظاہرین نے پولیس موبائل کو آگ لگادی۔

اورنگی دس نمبر پر مشتعل افراد (مریدوں) کا مبینہ طور پر توہین صحابہ پر پیر کو گرفتار کرنے کی پر احتجاج کیا اور پولیس موبائل کو نذر آتش کردیا۔

مظاہرین مشتعل ہوئے اور انہوں نے گرفتاری کی کوشش کو ناکام بنانے کیلیے اہلکاروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایس ایس پی ویسٹ فیصل بشیر میمن موقع پر پہنچے۔

پولیس حکام نے تصدیق کی کہ مظاہرین کے پتھراو سے ایس ایچ او زاہد اللہ اور ایک پولیس کانسٹیبل زخمی ہوا جن کو مرہم پٹی کیلیے عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق پتھراؤ کرنے والے مشتعل افراد پیر نوبت شاہ کے مرید ہیں جو گرفتاری کو ناکام بنانے کے لیے خانقاہ اور علاقے کی گلیوں میں موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: