الطاف حسین نے قوم کی وجہ سے معافی مانگی، آفاق احمد

مہاجر قومی مومنٹ (حقیقی) کے سربراہ آفاق احمد نے کہا ہے کہ الطاف حسین نے پستول کے زور پر معافی نہیں مانگی بلکہ اُس کی قوم نے مجبور کیا۔

پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے آفاق احمد نے کہا کہ جنہوں نے اس ملک کو بنانے کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں اُن کو دشمن یا غدار سمجھنے کا رویہ ترک کردیں کیونکہ اس سے صرف مہاجروں کو نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ ملک کا نقصان ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ واضح کردوں کہ جن لوگوں نے پاکستان بنایا تھا وہی لوگ ملک کو بچا سکتے ہیں اور وہی حفاظت کرے گا۔

آفاق احمد نے کہا کہ کوئی گریٹر پنجاب، گریٹر بلوچستان، کوئی سندھو دیش کے نعرے لگا کر سندھ یونیورسٹی میں پاکستان کے پرچم جلا کر اُسے پاؤں تلے روند رہا ہے مگر کسی کی جرات نہیں کہ اُن لوگوں کی بیخ کونی کی جاسکے، زمین پر پیر مارنے کا بس کراچی میں ہی چلتا ہے۔

چیئرمین حقیقی نے کہا کہ وہ لوگ ملک کی حفاظت نہیں کرسکتے جنہوں نے پاکستان بنانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا، وہ کل اور آج بھی پختون، پنجابی، بلوچ اور سندھی ہیں، ہم نے یہاں آکر انہیں پاکستانی بنایا تھا، مگر جب ملک بنانے والوں کی قدر نہیں ہوگی تو اس کا فائدہ ایسے لوگ اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’میرا الطاف حسین سے کوئی سیاسی واسطہ یا رشتہ نہیں ہے، اُس نے غلطی کی اور سب اُسکی مذمت بھی کرتے ہیں، جب اُسے غلطی کا احساس اُسکی قوم کے لوگوں نے دلایا تو اُس نے کسی سے ڈر، خوف یا گن پوائنٹ پر معافی نہیں مانگی بلکہ لوگوں کی ناراضی کی وجہ سے بانی ایم کیو ایم نے معافی مانگی‘۔

آفاق احمد نے کہا کہ ’اگر الطاف حسین سے اُس کے لوگ ناراض نہیں ہوتے تو پوری دنیا جہاں کی طاقت لگا دیتے اور قوم ساتھ ہوتی تو کیا وہ معافی مانگتا؟ قوم کے مسترد کرنے کی وجہ سے معافی مانگنے کے باوجود اُس کے یا قوم کے ساتھ آج تک رویہ کیا ہے‘؟۔

انہوں نے کہا کہ ’الطاف سے زیادہ عمران خان نے اس پاکستان کی آرمی کو بدنام کیا اور زہر افشانی کی، سوال یہ ہے کہ اُسکے خلاف کیا کیا؟ اسلیے کہ اُس کے تعلقات ادارے میں موجود ہیں، ہماری جڑیں موجود نہیں تھیں تو ہمارے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا گیا‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: