کراچی میں جماعت اسلامی کا یوم سیاہ ، مختلف مقامات پر احتجاج

کراچی:جماعت اسلامی کے تحت شہر میں مسلح ڈکیتیوں ٗاسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی ہوئی وارداتوں اور ان میں جامعہ NED کے طالب علم بلال ناصر سمیت دیگر شہریوں کے قتل اور سندھ حکومت و متعلقہ اداروں کی ناکامی کے خلاف ہفتہ کو شہر بھر میں متعدد مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے،یوم سیا ہ منایا گیا۔

مظاہرین نے ہاتھوں پر سیاہ پٹیاں باندھیں،سندھ حکومت محکمہ پولیس اور متعلقہ اداروں کے خلاف پلے کارڈز اٹھائے اور نعرے لگائے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت 15سال سے مسلسل اقتدار میں ہے،پولیس کے محکمہ میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کی وجہ ہی سے شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں اور اسٹریٹ کرائمز کی بڑھتی ہوئی وارداتوں میں کوئی کمی نہیں آئی،پولیس چیف شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنے کے بجائے عوام کو مشورے دے رہے ہیں کہ ڈاکوؤں کو اپنی قیمتی اشیاء دینے میں مزاحمت نہ کریں،ہمارا مطالبہ ہے کہ محکمہ پولیس میں کراچی کے 80فیصد مقامی افراد کی بھرتیاں کی جائیں اور محکمہ پولیس میں موجود کالی بھیڑیں نکالی جائیں تاکہ شہر کا نظام درست اور امن و امان قائم ہوسکے۔

اس موقع پر نائب امیرجماعت اسلامی کراچی انجینئر سلیم اظہر،صدرپبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ،سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ودیگر موجود تھے۔

شہر بھر میں ہونے والے مظاہروں سے امراء اضلاع مولانا مدثر حسین انصاری، سید عبد الرشید،فاروق نعمت اللہ،سیف الدین ایڈوکیٹ،توفیق الدین صدیقی،محمد اسلام،عبد الجمیل،سید وجیہ حسن،محمد یوسف،مولانا فضل احد حنیف،نائب امیر ضلع شرقی انجینئر عزیز الدین ظفرودیگر نے خطاب کیا۔مظاہرے ضلع غربی ایس ایس پی آفس اورنگی ٹاؤن، ضلع جنوبی لی مارکیٹ،برنس روڈ،کالا پل،ضلع گلبرگ واٹر پمپ،ضلع شرقی حسن اسکوائر،ضلع قائدین سبزی منڈی،ضلع ایئرپورٹ جناح اسکوائر، شاہ فیصل کالونی،ضلع ملیر گلشن حدید،ضلع کورنگی ایس ایس پی آفس کورنگی،ضلع وسطی حیدری سمیت دیگر مقامات پر ہوئے۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہاکہ اس وقت شہر میں امن وامان کی بدترین صورتحال ہے،روزانہ موبائیل،موٹر سائیکل اور گاڑیاں چھیننے کی وارداتیں ہورہی ہیں،2021کے مقابلے میں 12فیصد جرائم میں اضافہ ہوا ہے جب کہ لوگ پولیس کے بدترین نظام کی وجہ سے کیس رپورٹ نہیں کراتے،پولیس چیف اس سے قبل یہ بیان دے چکے ہیں کہ لوگ بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں کراچی میں صورتحال اتنی زیادہ خراب نہیں ہے اور اب ان کا کہنا ہے کہ عوام مزاحمت نہ کریں،یہ بات واضح ہے کہ پولیس کی سرپرستی کے بغیر جرائم نہیں ہوسکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: