کوئی ہماری شناخت نہیں مٹا سکتا، خالد مقبول صدیقی

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے زیر اہتمام نشتر پارک میں خواتین کنونشن سے خطاب میں کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ یہ اجتماع پاکستان ہے، ہماری شناخت کوئی نہیں مٹاسکتا، کوئی بھی خواتین کا اتنا بڑا جلسہ نہیں کرسکتا، جو کہتے تھے متحدہ بکھررہی ہے، وہ شعور نہیں رکھتے، جب کراچی کے ساتھ ناانصافی ہوئی تو معیشت، تجارت سب تباہ ہوگیا۔

رکن اسمبلی خواجہ اظہار کہا کہ متحدہ کو دفن کرنے والے خود دفن ہوگئے، کنونشن دیگر سیاسی جماعتوں کو مشورہ دے رہا ہےکہ اپنا بوریا بستر لیکر پتلی گلی سے نکل لو، کنونشن کے اختتام پر ترانے کا اجراء کیا گیا۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان شعبہ خواتین کے زیر اہتمام خواتین کنونشن کا انعقادکراچی کے تاریخی نشتر پارک میں کیا گیا۔

گراؤنڈ کے چاروں اطراف عمارتیں رنگ برنگی برقی قمقموں سے سجائی گئی تھیں اسٹیج پر اسپاٹ لائٹ اوربارڈر پھولوں سے سجایا گیا تھا جو کہ دیدہ زیب منظر پیش کر رہا تھا اسٹیج پر پنڈال میں موجود عوام کیلئے اسکرین کاانتظام بھی کیا گیا تھا اور پنڈال کے چاروں اطراف میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان،فاطمہ ثریا بجیا، سماجی کارکن بلقیس ایدھی صاحبہ کی قد آور تصاویر نصب کی گئی تھیں۔پنڈال میں چاروں اطراف کرسیوں کا جال بچھا ہوا تھا صحافی حضرات اور مہمانوں کیلئے الگ انکلوثرربنائے گئے تھے۔پنڈال کے اندر کسی بھی ناگہانی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے میڈیکل ایڈ کمیٹی کی جانب سے کیمپ بھی لگایا گیا تھا۔خواتین کنونشن میں خواتین اور بچوں کاجوش قابل دید تھا اوروہ خوشی سے فلک شگاف نعرے بلند کر رہے تھے۔

خواتین اور بچیوں نے ہاتھوں میں ایم کیو ایم کے پرچم کے رنگوں کی چوڑیاں پہنی ہوئیں تھیں اور ایم کیو ایم پاکستان کے پرچم لہرا رہی تھیں۔خواتین جلسہ گاہ میں ٹولیوں کی شکل میں فلک شگاف نعرے اور ہاتھوں سے وکٹری کا نشان بنا کر پنڈال میں داخل ہورہی تھیں اور جلسہ گاہ کے منتظمین نہایت ہی ڈسپلین کے ساتھ خواتین کو کر سیوں میں بیٹھا رہے تھے۔

جلسہ سے قبل محکمہ بم ڈسپو زل اسکواڈ نے جلسہ سے قبل تمام لوگوں سے پنڈال خالی کروا کر چیک کیا سکیورٹی کے انتظامات ایم کیو ایم پاکستان کے مختلف شعبہ جات کے اراکین سر انجام دے رہے تھے ماضی کی روایات کو بر قرار رکھتے ہوئے ٹریفک کے انتظامات آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنا ئزیشن کے کارکنان نے سنبھالے ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: